’فون کہاں سےآیا: چند گھنٹوں کی بات‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی حملوں کے پس منظر میں بھارتی وزیر خارجہ کی صدر پاکستان کو مبینہ فون کال دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی جنگ کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا ہے کہ انہوں نے صدر پاکستان کو ممبئی حملوں کے بعد فون کال نہیں کی جبکہ پاکستانی حکام کا اصرار ہے کہ انہیں بھارتی دفتر خارجہ کے نمبر سے ہی وہ دھمکی آمیز فون کال موصول ہوئی تھی۔ تاہم پاکستان میں ایوان صدر کے معاملات سے باخبر افراد کا کہنا ہے کہ یہ فون کال کس نے کی اور کس شخصیت نے بات کی، یہ معلوم کرنا ایوان صدر میں نصب سکیورٹی نظام کی بدولت مشکل نہیں ہے۔
روئیداد خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی اور بھارتی حکام تعاون کریں تو اس فون کال کے مآخذ تک چند گھنٹوں میں پہنچا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے سابق قائم مقام صدر وسیم سجاد نے بی بی سی کو بتایا کہ غیر ملک سے آنے والی ہر فون کال کا ایک پس منظر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی صدر مملکت کو کسی غیر ملکی شخصیت کا فون آئے تو ایوان صدر میں آپریٹر پیغام وصول کر کے اسے صدر کے ملٹری یا پرسنل سیکرٹری تک پہنچاتا ہے، جہاں سے یہ پیغام دفتر خارجہ جاتا ہے۔ اگر اہم ملک سے کال ہوتو متعلقہ پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کیا جاتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ فون کرنے والی شخصیت کس موضوع پر بات کرنا چاہتی ہے اور صدر پاکستان کو جواب میں کیا کہنا ہے۔
’مثلاً یہ کہ فون کرنے والی شخصیت کی صدر پاکستان سے ذاتی تعلقات ہوں یا صورتحال ایسی ہنگامی نوعیت کی ہو کہ اس میں صدر مملکت ضروری سمجھیں کہ سفارتی آداب ملحوظ رکھنا ضروری نہیں ہیں تو وہ براہ راست فون سن بھی سکتے ہیں۔‘ صدر زرداری کو کی جانے والی متنازعہ فون کال بھارتی وزیرخاجہ نے کی تھی یا نہیں، اس بات سے قطع نظر مختلف ماہرین کی جانب سے یہ خیال سامنے آ رہا ہے کہ صدر زرداری نے کال موصول کرتے ہوئے روایتی پروٹوکولوں کو نظر انداز کیا۔ اس بارے میں روئیداد خان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی بھی فون کرے اور صدر پاکستان سے بات کر لے۔ ’میرے تجربے میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی بھارتی شخصیت نے اس طرح براہ راست صدر پاکستان سے بات کی ہو۔ اور وہ بھی وزیر خارجہ کی حیثیت کے شخص نے جس کا صدر سے براہ راست بات کرنا پہلے سے طے شدہ پروگرام کے علاوہ ناممکن ہے۔‘ روئیداد خان نے بتایا کہ صرف صدر جنرل ضیاالحق اور بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے درمیان ایک ’ہاٹ لائن‘ کچھ عرصہ موجود رہی جس پر دونوں راہنما ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست بات کر لیتے تھے۔ اسی طرح کی ہاٹ لائن بعد ازاں پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم اور دونوں ملکوں کی بری فوج کے شعبہ ملٹری آپریشن کے درمیان قائم کی گئی تھی جسے وقتاً فوقتاً استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ |
اسی بارے میں زرداری کو کال نہیں کی: مکھرجی07 December, 2008 | انڈیا بھارت حملہ کرنے والا تھا: پاکستان06 December, 2008 | پاکستان صدر زرداری دھوکہ کھاگئے06 December, 2008 | پاکستان بھارتی ایجنسیاں، نظام تباہ ہو رہا ہے04 December, 2008 | انڈیا امریکی وزیر خارجہ انڈیا جائیں گی01 December, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||