BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 December, 2008, 15:31 GMT 20:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فون کہاں سےآیا: چند گھنٹوں کی بات‘

آصف زرداری
ایسا نہیں ہے کہ کوئی بھی فون کرے اور صدر سے بات کر لے: روئیداد خان
ممبئی حملوں کے پس منظر میں بھارتی وزیر خارجہ کی صدر پاکستان کو مبینہ فون کال دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی جنگ کی صورت اختیار کر رہی ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا ہے کہ انہوں نے صدر پاکستان کو ممبئی حملوں کے بعد فون کال نہیں کی جبکہ پاکستانی حکام کا اصرار ہے کہ انہیں بھارتی دفتر خارجہ کے نمبر سے ہی وہ دھمکی آمیز فون کال موصول ہوئی تھی۔

تاہم پاکستان میں ایوان صدر کے معاملات سے باخبر افراد کا کہنا ہے کہ یہ فون کال کس نے کی اور کس شخصیت نے بات کی، یہ معلوم کرنا ایوان صدر میں نصب سکیورٹی نظام کی بدولت مشکل نہیں ہے۔

غیر ملک سے آنے والی کال
 جب بھی صدر مملکت کو کسی غیر ملکی شخصیت کا فون آئے تو ایوان صدر میں آپریٹر پیغام وصول کر کے اسے صدر کے ملٹری یا پرسنل سیکرٹری تک پہنچاتا ہے، جہاں سے یہ پیغام دفتر خارجہ جاتا ہے۔ اگر اہم ملک سے کال ہوتو متعلقہ پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کیا جاتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ فون کرنے والی شخصیت کس موضوع پر بات کرنا چاہتی ہے اور صدر پاکستان کو جواب میں کیا کہنا ہے
وسیم سجاد
ایوان صدر میں پرنسپل سیکرٹری کے اہم ترین عہدے سمیت متعدد حیثیتوں میں متعدد صدور کے ساتھ کام کرنے والے سابق بیوروکریٹ روئیداد خان کا کہنا کہ صدر مملکت کے پاس جو بھی فون کال منتقل کی جاتی ہے وہ ایک مخصوص ’سوئچ بورڈ‘ سے گزر کر جاتی ہے جہاں ہر وہ نمبر محفوظ ہوتا ہے جہاں سے فون کیا جارہا ہو۔’اس کے علاوہ ہر اہم فون کال، خاص طور پر غیرملکی شخصیات کی اور اس پر بھی بھارت سے آنے والی، ریکارڈ بھی کی جاتی ہے۔‘

روئیداد خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی اور بھارتی حکام تعاون کریں تو اس فون کال کے مآخذ تک چند گھنٹوں میں پہنچا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے سابق قائم مقام صدر وسیم سجاد نے بی بی سی کو بتایا کہ غیر ملک سے آنے والی ہر فون کال کا ایک پس منظر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی صدر مملکت کو کسی غیر ملکی شخصیت کا فون آئے تو ایوان صدر میں آپریٹر پیغام وصول کر کے اسے صدر کے ملٹری یا پرسنل سیکرٹری تک پہنچاتا ہے، جہاں سے یہ پیغام دفتر خارجہ جاتا ہے۔ اگر اہم ملک سے کال ہوتو متعلقہ پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کیا جاتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ فون کرنے والی شخصیت کس موضوع پر بات کرنا چاہتی ہے اور صدر پاکستان کو جواب میں کیا کہنا ہے۔

چند گھنٹوں کی بات
 صدر مملکت کے پاس جو بھی فون کال منتقل کی جاتی ہے وہ ایک مخصوص ’سوئچ بورڈ‘ سے گزر کر جاتی ہے جہاں ہر وہ نمبر محفوظ ہوتا ہے جہاں سے فون کیا جارہا ہو۔’اس کے علاوہ ہر اہم فون کال، خاص طور پر غیرملکی شخصیات کی اور اس پر بھی بھارت سے آنے والی، ریکارڈ بھی کی جاتی ہے۔ پاکستانی اور بھارتی حکام تعاون کریں تو اس فون کال کے مآخذ تک چند گھنٹوں میں پہنچا جا سکتا ہے۔
روئیداد خان
وسیم سجاد کے مطابق اس عمل کے مکمل ہونے کے بعد ایوان صدر سے اس شخصیت کو فون لگایا جاتا ہے اور صدر مملکت کی بات کروائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روایتی پروٹوکول تو یہی ہے لیکن موقع کی مناسبت سے اس میں تبدیلی بھی ممکن ہے۔

’مثلاً یہ کہ فون کرنے والی شخصیت کی صدر پاکستان سے ذاتی تعلقات ہوں یا صورتحال ایسی ہنگامی نوعیت کی ہو کہ اس میں صدر مملکت ضروری سمجھیں کہ سفارتی آداب ملحوظ رکھنا ضروری نہیں ہیں تو وہ براہ راست فون سن بھی سکتے ہیں۔‘

صدر زرداری کو کی جانے والی متنازعہ فون کال بھارتی وزیرخاجہ نے کی تھی یا نہیں، اس بات سے قطع نظر مختلف ماہرین کی جانب سے یہ خیال سامنے آ رہا ہے کہ صدر زرداری نے کال موصول کرتے ہوئے روایتی پروٹوکولوں کو نظر انداز کیا۔

اس بارے میں روئیداد خان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی بھی فون کرے اور صدر پاکستان سے بات کر لے۔ ’میرے تجربے میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی بھارتی شخصیت نے اس طرح براہ راست صدر پاکستان سے بات کی ہو۔ اور وہ بھی وزیر خارجہ کی حیثیت کے شخص نے جس کا صدر سے براہ راست بات کرنا پہلے سے طے شدہ پروگرام کے علاوہ ناممکن ہے۔‘

روئیداد خان نے بتایا کہ صرف صدر جنرل ضیاالحق اور بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے درمیان ایک ’ہاٹ لائن‘ کچھ عرصہ موجود رہی جس پر دونوں راہنما ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست بات کر لیتے تھے۔

اسی طرح کی ہاٹ لائن بعد ازاں پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم اور دونوں ملکوں کی بری فوج کے شعبہ ملٹری آپریشن کے درمیان قائم کی گئی تھی جسے وقتاً فوقتاً استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

 مارک ٹلیمارک ٹلی کہتے ہیں
جہاز ہچکولے کھاتا رہتا ہے مگر ڈوبتا نہیں
ہند - پاک کشیدگی
ممبئی حملوں کے بعد ہند پاک رشتے کشیدہ
وہ ساٹھ گھنٹے ۔ ۔
جب ممبئی کی روح یرغمال بنی ہوئی تھی
اسی بارے میں
صدر زرداری دھوکہ کھاگئے
06 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد