BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 December, 2008, 23:34 GMT 04:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صورتحال کی سنجیدگی کی ایک مثال

منموہن سنگھ اور لال کرشن اڈوانی
صدر زرداری کے ایلچی نے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور بی جے پی کے رہنما لال کرشن ایڈوانی سے ملاقات کی: انڈین اخبار
بھارتی فضائیہ کے طیاروں کی جانب سے سنیچر کو ’پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی‘ ممبئی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی سنجیدگی کی ایک مثال ہے۔

ممبئی حملوں کے بعد سے دونوں ملکوں کی حکومتوں نے اس واقعے سے پیدا ہونے والی کشیدگی کم رکھنے کے لیے اپنی زبان، لب و لہجہ اور جاری کیے جانے والے بیانات کے متن پر قابو رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی حد تک بار بار یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ برصغیر میں ممبئی حملوں کے بعد جنگ کا ایک حقیقی خطرہ پیدا ہو گیا ہے، اور اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستان سفارتی اور غیر سفارتی دونوں سطحوں پر اپنی کوششیں تیز کرتا گیا ہے۔

جنگ پسند طبقے
 یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستان میں ایک ایسا بااثر طبقہ ہے جو کہ انڈیا کے ساتھ امن کی خواہش نہیں رکھتا اور اسی طرح انڈیا میں ایک بڑا اور بااثر طبقہ ہے جس کی پاکستان کے بارے میں پچھلے چند سالوں سے اور خصوصاً امریکہ پر حملوں کے بعد یہ رائے بنی ہے کہ پاکستان اگر انڈیا کے لیے ایک مصیبت ہے تو کیوں نہ ایک ہی وار میں اس سے ہمیشہ کے لیے جان چھڑانے کی کوشش کی جائے
یہ سب باتیں ان کوششوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو دونوں ملک صورتحال پر قابو پانے کے لیے پس پردہ کوششیں بھی کر رہے ہیں۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ تو دور کی بات اگر صورتحال مزید بگڑتی بھی ہے تو اس کا پاکستان کو اور نہ ہی انڈیا کو فائدہ ہوگا۔ اس کا فائدہ انہیں عناصر کو ہوگا جو ان دونوں ملکوں کے درمیان حالات کو پہلے سے زیادہ بگاڑنا چاہ رہے ہیں۔

اسی لیے انڈیا کے ایک اہم اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے سرکاری سطح پر کوششوں کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری سطح پر بھی اپنا ایک ایلچی انڈیا روانہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق اس ایلچی نے انڈیا کے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ لال کرشن ایڈوانی سے بھی ملاقات کی۔ غالباً جو پیغام پہنچایا گیا وہ یہ تھا کہ پاکستان اس صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، انڈیا اس میں اس کی مدد کرے نہ کہ اتنا دباؤ بڑھائے کہ پاکستان کے ہاتھ مزید بندھ جائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے وزیر خِارجہ پیرس میں افغانستان کے بارے میں ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں جہاں ان کی ملاقات بھارتی نمائندے سے ہوگی۔ پاکستانی وزیر خارجہ کی کوشش ہو گی کہ اس ملاقات کے ذریعے کشیدگی کو مزید کم کیا جائے۔

پاکستان کی جانب سے بھی اور کسی حد تک انڈیا کی طرف سے بھی اتنی زیادہ کوششیں اسی لیے ہو رہی ہیں کہ کسی نہ کسی سطح پر دونوں حکومتیں یہ مانتی ہیں کہ اگر صورتحال بگڑی اور بات باقاعدہ لڑائی جھگڑے تک پہنچی تو اس سے دہشت گردی میں کمی کی بجائے اضافہ ہو سکتا ہے۔

انڈیا کی طرف سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا ممکن ہے یہ مطلب بھی ہو کہ وہ پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی کوششوں سے مطمئن نہیں ہے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستان کا وہ بااثر طبقہ جو انڈیا کے ساتھ امن کی خواہش نہیں رکھتا اور اسی طرح انڈیا میں ایک بڑا اور بااثر طبقہ جس کی پاکستان کے بارے میں پچھلے چند سالوں سے اور خصوصاً امریکہ پر حملوں کے بعد یہ رائے بنی ہے کہ پاکستان اگر انڈیا کے لیے ایک مصیبت ہے تو کیوں نہ ایک ہی وار میں اس سے ہمیشہ کے لیے جان چھڑانے کی کوشش کی جائے سرگرم عمل ہیں۔

جب تک یہ دونوں عناصر اپنی اپنی جگہ پر موجود ہیں تب تک یہ کہنا مشکل ہے کہ تازہ ترین فضائی خلاف ورزی یا اس طرح کی کسی اور کارروائی کے پیچھے محرکات کیا ہیں۔ کیا یہ ایک حکومت کا دوسری حکومت کے لیے باقاعدہ پیغام ہے یا دونوں ملکوں میں جنگ پسند عناصر اپنی اپنی کوششوں کو تیز کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
حافظ سعید با ضابطہ نظر بند
13 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد