کیا دعوۃ پر پابندی کچھ کر سکے گی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی جانب سے ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کو بھیجے گئے سفارتی احتجاج میں درج ایک اہم مطالبے پر عمل کے بعد پاکستانی سفارت کار توقع کر رہے ہیں کہ بھارت کے ساتھ حالات معمول پر لانے کا عمل شروع ہونے کا وقت آ پہنچا ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی آج صبح فرانس کے دارالحکومت پیریس روانہ ہوئے جہاں ایک بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر ان کی بھارتی نائب وزیرخارجہ آنند شرما سے ملاقات کی توقع کی جا رہی ہے۔ ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان کے اس مطالبے کوماننے کے بعد کہ پاکستان مذہبی شدت پسند تنظیم جماعت الدعوۃ کے خلاف اقدامات کرے، پاکستانی دفتر خارجہ سمجھتا ہے کہ ممبئی حملوں کے بعد بھارت کا سب سے بڑا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا ہے لہذا اب دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات میں کشیدگی کا جواز باقی نہیں رہ گیا۔ دفتر خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے ممبئی حملوں کے بعد اپنے پاکستانی ہم منصب سے تحریری طور پر جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی کرنے اور بھارت کو مطلوب تین افراد داؤد ابراہیم، ٹائیگر میمن اور مولانا مسعود اظہر کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا۔ پاکستانی حکام بعض افراد کی حوالگی کو تو خارج از امکان قرار دے رہے ہیں البتہ انکا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام جس گروپ پر عائد کیا گیا تھا، اس کے خلاف مؤثر کارروائی کر لی گئی ہے۔ گزشتہ دو روز کے دوران پاکستانی انتظامیہ نے ملک بھر میں جماعت الدعوۃ کے بیسیوں دفاتر بند کر کے اس کے اہم راہنماؤں کو نظر بند کر دیا ہے۔ تاہم گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے بارے میں کسی بھر فرد یا ادارے کے خلاف اگر ثبوت فراہم کئے گئے تو ان کے خلاف پاکستانی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ اسی عزم کا اعادہ جمعہ کے رات صدر پاکستان آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی درمیان ہونے والی ملاقات میں بھی کیا گیا۔ کوئی پاکستانی قانون اپنے شہریوں کو بھارت کے حوالے کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ دفتر خارجہ کے بعض افسران کا کہنا ہے کہ جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی کے بعد اب بھارت کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے پاکستانی اور بھارتی وزیرخارجہ کی پیرس میں موجودگی کو پاکستان میں بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔ خارجہ امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت اس موقع پر پاکستان کے ساتھ کسی بھی سطح پر بات چیت شروع کرنے کے موڈ میں نہیں لگتا اور ایسے ماحول میں اگر پاکستان اور بھارتی وزرا خارجہ میں ملاقات ہو جاتی ہے، تو یہ پاکستان کی سفارتی کامیابی، اور ایک بڑی خبر ہو گی۔ | اسی بارے میں ’پاکستانی عسکریت پسند‘، عالمی پابندیاں 11 December, 2008 | پاکستان ’سب کا تعلق پاکستان سے‘09 December, 2008 | انڈیا ’کوئی ثبوت نہیں، صرف پروپیگنڈہ‘10 December, 2008 | پاکستان ’کارروائی، تفتیش ہو رہی ہے‘10 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||