پھر ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے ایک مرتبہ پھر بھارت سے ممبئی حملوں میں ملوث مبینہ شدت پسندوں کے خلاف شواہد مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم ساتھ میں واضح کیا ہے کہ پاکستان از خود تحقیقات کا سلسلہ ملکی قوانین کے مطابق جاری رکھے گا۔ یہ مطالبہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جمعرات کو رات گئے ایک پالیسی بیان میں کیا۔ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری اس بیان میں شکایت کی ہے کہ ازخود تحقیقات ایک خاص نکتے سے قابل اعتماد معلومات اور شواہد کی عدم دستیابی کی صورت میں آگے نہیں بڑھ سکتیں۔ بیان میں حکومت نے اقوام متحدہ سے لشکر طیبہ اور جماعتہ الدعوۃ سے متعلق سرکاری سطح پر باضابطہ مراسلے موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔ پاکستان نے اس پیغام کی روشنی میں ان تنظیموں اور افراد کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ حکومت پاکستان ہندوستان سے ممبئی حملوں کے بعد بار بار ٹھوس شواہد فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے تاہم بھارت کی جانب سے اس مطالبے پر اب تک بظاہر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک مرتبہ پھر پالیسی بیان میں یہ مطالبہ دہرایا ہے۔ تاہم ماہرین کے خیال میں دونوں ممالک کے درمیان اصل معاملہ بظاہر مشتبہ افراد کی حوالگی کے مسئلے پر اٹکا ہوا ہے۔ بھارت نے کل ایک مرتبہ پھر چالیس افراد کی حوالگی کی مطالبہ کیا جبکہ پاکستان واضح کرچکا ہے کہ وہ ان مشتبہ افراد کے خلاف ملک کے اندر ہی عدالتوں میں مقدمہ چلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان نے کہا ہے کہ ملزمان کو بھارت کے حوالے کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ | اسی بارے میں رسالہ ’الدعوۃ‘ سے جماعتہ الدعوۃ تک11 December, 2008 | پاکستان عالمی ذمہ داری پوری ہوگی:گیلانی11 December, 2008 | پاکستان حافظ سعید گھر پر نظر بند، دفتر سر بہ مہر 11 December, 2008 | پاکستان پابندی پر غور کر رہے ہیں: ملک11 December, 2008 | پاکستان فیصلہ کسی صورت قبول نہیں: حافظ11 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||