’ضروری جانکاری تفتیش کے بعد‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں کی تفتیش پوری ہوجانے کے بعد بھارت پاکستان کو ہرضروری جانکاری دے گا۔ پرنب مکھرجی نے یہ بات سی این این آئی بی اینٹی وی چینل کو دیئے گئے ایک انٹریو میں کہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ بھارت کے پاس جو بھی جانکاری ہے وہ پاکستان کو دی جا سکتی ہے لیکن فی الوقت حملوں کی تفتیش جاری ہے اور ہم ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں اور ایسے وقت میں پاکستان کے ساتھ کوئی بھی جانکاری شیئر کرنا قبل از وقت ہوگا۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وقت آنے پر وہ پاکستان کو ضروری جانکاری مہیا کرائیں گے تو انکا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ہندوستان نے پاکستان کو اسطرح کی جانکاری دی ہے لیکن پاکستان نے اس پرکوئی کارروائی نہیں کی ہے اور ہندوستان کے مطالبات کو کسی نتیجے پر نہیں پہنچایا گیا ہے۔ پرنب مکھرجی نے ہندوستان کا مطالبہ دوہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان مولانا مسعود اظہر، داؤد ابراہیم اور ديگر افراد کو بھارت کے حوالے کرنے سے ہچکچا رہا ہے۔
انکا کہنا تھا ہندوستان نے پاکستان کو بتایا ہے کہ دو طرح کے لوگ ہیں جنہوں نے ہندوستان کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔ ایک وہ جو ہندوستان کے ہیں اور پاکستان میں پناہ لے رکھی ہے اور ایک وہ جو پاکستانی ہیں اور بھارت کے خلاف شدت پسندی کارروائیاں کی ہیں۔ بھارت کا کہنا ہے کہ ہندوستان افراد کو پاکستان ہندوستان کے حوالے کرے تاکہ انکے خلاف ہندوستان قانون کے تحت کارروائی کی جاسکے اور پاکستانی افراد کے خلاف پاکستان میں کاروائی کی جائے۔ انکا مزید کہنا تھا ’میں خاص طور سے مولانا مسعود اظہر کا نام لے رہا ہوں۔ وہ بھارت کی حراست میں تھا۔ انڈین ائیر لائنس کے جہاز آئی سی 814 کے ہائی جیک کے بدلے میں ہمیں اظہر کو چھوڑنا پڑا تھا۔ وہ اکثر پاکستان میں دکھائی دیتے ہیں۔ وہ پاکستان کے ٹی وی چینلز پر دکھائی دیتے ہیں۔ تو پاکستان انہیں بھارت کے حوالے کیوں نہیں کردیتا؟ انہیں گھر میں نظر بند کرکے رکھنے کا کیا مطلب ہے۔‘ واضح رہے کہ ممبئی حملوں کے فورا بعد ہندوستانی حکومت نے کہا تھا کہ حملوں کے پیچھے پاکستان کے بعض شدت پسند عناصر ہیں۔ اس کے بعد ہندوستان نے پاکستان پر اس بات کا زبردست دباؤ بنایا ہوا ہے کہ وہ ان شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کرے۔ ہندوستانی وزارات خارجہ نے پاکستان کو شدت پسندوں کی ایک فہرست دی تھی جنہیں وہ چاہتا تھا کہ پاکستان انہیں بھارت کے حوالے کرے۔ اس فہرست میں مولانا مسعدد اظہر اور داؤد ابراہیم کے نام شامل تھے۔ لیکن جمعہ کے روز پاکستانی حکومت نے ایک مرتبہ پھر بھارت سے ممبئی حملوں میں ملوث مبینہ شدت پسندوں کے خلاف شواہد مہیا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ |
اسی بارے میں حملہ آور پاکستان سے آئے: مکھرجی03 December, 2008 | انڈیا ’منصوبہ سازوں کو بے نقاب کریں‘03 December, 2008 | انڈیا تحقیقات میں مدد کرنے کا اعلان30 November, 2008 | انڈیا ’ایک دہشت گرد حراست میں‘28 November, 2008 | انڈیا ممبئی: سینکڑوں افراد زیرعلاج ہیں29 November, 2008 | انڈیا تناؤ پر پاکستانی تشویش، جاسوسی کی ناکامی پر سوالات 30 November, 2008 | انڈیا ممبئی آپریشن ختم:ہوٹل تلاشی شروع، 195 ہلاک 29 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||