BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 December, 2008, 20:22 GMT 01:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا: حدود کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستانی طیارے(فائل فوٹو)
پاکستان کی فضائیہ حرکت میں آئی اور بھارتی طیاروں کو واپس جانے پر مجبور کیا: ترجمان فضائیہ
پاکستان فضائیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ دریں اثناء پاکستانی وزیر اطلاعات شیریں رحمان نے کہا کہ بھارتی حکام نے کہا ہے کہ یہ خلاف ورزی غلطی سے ہوئی ہے۔

ائیر کماڈور ہمایوں وقار نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی طیاروں نے سنیچر کو دو مختلف علاقوں سے دو الگ الگ اوقات میں پاکستان کے فضائی حدود کی خلاف ورزری کی۔

غلطی بھی ہو سکتی ہے
 پاکستان کی فضائیہ حرکت میں آئی اور بھارتی طیاروں کو واپس جانے پر مجبور کیا۔ تاہم یہ تکنیکی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے اور اس میں غلطی کا بھی امکان ہے
ترجمان فضائیہ
انہوں نے کہا کہ بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے سنیچر کو پہلے یہاں کے مقامی وقت کے مطابق دن کے ساڑھے گیارہ بجے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور ان کے کہنے کے مطابق دو گھنٹے کے بعد بھارتی فضائیہ نے لاہور میں پاکستان کے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔

انہوں نے کہا یہ طیارے دو سے چار میل تک پاکستان کے فضائی حدود میں داخل ہوگئے تھے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی فضائیہ حرکت میں آئی اور بھارتی طیاروں کو واپس جانے پر مجبور کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ تکنیکی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے اور اس میں غلطی کا بھی امکان ہے۔

پہلی بار الزام
 پانچ سال قبل انڈیا اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات شروع ہونے کے بعد پاکستان نے پہلی مرتبہ فروری سن دو ہزار چھ میں الزام لگایا تھا کہ بھارتی طیارے نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی
پاکستان کی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمان نے پاکستان کے ایک نجی ٹی وی کو انڑویو دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی فضائیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ بھارت کے طیاروں نے غلطی سے پاکستان کے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر نہ پیش کیا جائے۔ شیری رحمان نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی فضائیہ الرٹ پر ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے بھارتی فضائیہ کی طرف سے پاکستان کے فضائی حدود کی خلاف ورزی کو افسوسناک قرار دیا ہے۔’میں سمجھتا ہوں کہ بھارتی فوج نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’عالمی برداری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے کیوں کہ اب ہم اس طرح کی مہم جوئی کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں‘۔

پانچ سال قبل انڈیا اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات شروع ہونے کے بعد پاکستان نے پہلی مرتبہ فروری سن دو ہزار چھ میں الزام لگایا تھا کہ بھارتی طیارے نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ نے اس وقت کہا تھا بھارتی بحریہ کا ایک طیارے ایک پاکستانی بحری جہاز کے اوپر سے کئی بار نیچی پرواز کرتے ہوئے گزرا اور اس کا انداز اشتعال انگیز تھا۔

انڈیا نے اس وقت یہ الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی شِپنگ ایجنسی کی فائرنگ کے باعث ایک مچھیرا ہلاک ہوا تھا۔

سن انیس سو ننیانوے میں کارگل کی لڑائی کے دوران پاکستان نے انڈیا کے دو لڑاکا طیارے گرائے تھے کہ انہوں نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔ انڈیا نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

پاکستان نے اب یہ الزام ایک ایسے مرحلے پر لگایا گیا جب جب گزشتہ ماہ ممبئی میں ہونے والے حملوں کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کو نقصان پہنچا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد