انڈیا: حدود کی خلاف ورزی کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان فضائیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ دریں اثناء پاکستانی وزیر اطلاعات شیریں رحمان نے کہا کہ بھارتی حکام نے کہا ہے کہ یہ خلاف ورزی غلطی سے ہوئی ہے۔ ائیر کماڈور ہمایوں وقار نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی طیاروں نے سنیچر کو دو مختلف علاقوں سے دو الگ الگ اوقات میں پاکستان کے فضائی حدود کی خلاف ورزری کی۔
انہوں نے کہا یہ طیارے دو سے چار میل تک پاکستان کے فضائی حدود میں داخل ہوگئے تھے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی فضائیہ حرکت میں آئی اور بھارتی طیاروں کو واپس جانے پر مجبور کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ تکنیکی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے اور اس میں غلطی کا بھی امکان ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے بھارتی فضائیہ کی طرف سے پاکستان کے فضائی حدود کی خلاف ورزی کو افسوسناک قرار دیا ہے۔’میں سمجھتا ہوں کہ بھارتی فوج نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’عالمی برداری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے کیوں کہ اب ہم اس طرح کی مہم جوئی کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں‘۔ پانچ سال قبل انڈیا اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات شروع ہونے کے بعد پاکستان نے پہلی مرتبہ فروری سن دو ہزار چھ میں الزام لگایا تھا کہ بھارتی طیارے نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ نے اس وقت کہا تھا بھارتی بحریہ کا ایک طیارے ایک پاکستانی بحری جہاز کے اوپر سے کئی بار نیچی پرواز کرتے ہوئے گزرا اور اس کا انداز اشتعال انگیز تھا۔ انڈیا نے اس وقت یہ الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی شِپنگ ایجنسی کی فائرنگ کے باعث ایک مچھیرا ہلاک ہوا تھا۔ سن انیس سو ننیانوے میں کارگل کی لڑائی کے دوران پاکستان نے انڈیا کے دو لڑاکا طیارے گرائے تھے کہ انہوں نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔ انڈیا نے اس الزام کی تردید کی تھی۔ پاکستان نے اب یہ الزام ایک ایسے مرحلے پر لگایا گیا جب جب گزشتہ ماہ ممبئی میں ہونے والے حملوں کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کو نقصان پہنچا ہے۔ | اسی بارے میں صورتحال کی سنجیدگی کی ایک مثال 13 December, 2008 | پاکستان ’یو این دہشتگرد قرار دے سکتا تھا‘12 December, 2008 | پاکستان پاکستان، بھارت، امریکہ، مفادات کی جنگ میں03 December, 2008 | پاکستان ’ابھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا‘ 09 December, 2008 | پاکستان مشترکہ تفتیش کی دوبارہ پیشکش 08 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||