مشترکہ تفتیش کی دوبارہ پیشکش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں ہوئے کابینہ کی کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بھارت کو ممبئی کے واقعات کی مشترکہ تفتیش کی دوبارہ پیشکش کی جائے۔ ممبئی کے واقعات کے بعد کی صورتحال کے تناظر میں سوموار کے روز وزیر اعظم ہاؤس میں کابینہ کی کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس تقریبا ً پانچ گھنٹے تک جاری رہا جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان ، آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹینٹ جنرل شجاع پاشا ، چئرمین جـوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے علاوہ وزیر دفاع ، وزیر خارجہ ، مشیر داخلہ سمیت متعلقہ وزراء اور حکام نے شرکت کی ۔ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام متعلقہ ادارے بھارت اور دیگر اتحادیوں کی طرف سے ملنے والی اطلاعات پر تفتیش جاری رکھیں گے۔ تاہم اس حوالے سے کارروائی ملکی قوانین کے مطابق کی جائے گی۔ وزارت خارجہ کی جانب سےجاری ایک بیان میں کہا گیا کہ مشترکہ تفتیش کے لیے وفد ہندوستان بھیجنے کی تجویز سے ہندوستان کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ادھر پاکستانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے دوران کئی گرفتاریاں کی ہیں۔ بیان کے مطابق سیکٹری خارجہ سلمان بشیر نے بھارتی ہائی کمشنر سے ملاقات کی ہے۔
پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے بھارتی سفیر کو بتایا کہ پاکستان نے ممبئی حملوں کے بعد ان الزامات کی روشنی میں کہ ان حملوں میں پاکستان عناصر یا گروہ ملوث ہوسکتے ہیں اس کی ازخود تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ البتہ بیان کے مطابق بھارتی ہائی کمشنر کو مطلع کیا گیا کہ ان تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیئے انہیں تفصیلی معلومات اور شواہد کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیئے پاکستان نے وفد کی جلد از جلد دلی روانگی کی تجویز پیش کی ہے۔ ممبئی حملے کے فورا بعد وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے تحقیقات میں مدد کی غرض سے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کو بھارت بھیجنے کا اعلان کیا تھا تاہم اس بیان کے جاری ہونے کے چند گھنٹوں بعد حکومت نے اس میں تبدیلی لاتے ہوئے اس حساس ادارے کے کسی نمائندے کو بھیجنے کی بات کی تھی۔ اس سے قبل شیری رحمن نے کہا کہ اجلاس میں عزم کیا گیا ہے کہ ملکی سلامتی اور دفاع کو ہر حال میں یقنی بنایا جائے گا اور اس حوالے سے مسلح افواج ملکی دفاع کی پوری صلاحیت رکھتی ہے ۔ شیری رحمان کے مطابق ممبئی میں دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے بھارت کو مکمل تعاون، خفیہ معلومات کے تبادلے اور اس حوالے سے ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیشن بنانے کی دوبارہ سے پیشکش کی جائے گی۔ انھوں نے بھارتی ذرائع ابلاع پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی میڈیا نے شورش پسند اور مفروضوں پر مبنی باتیں کی ہیں جس سے محاذ آرائی کا ماحول بنا ہے۔ جبکہ پاکستانی سیاسی قیادت اور میڈیا نے ملکی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے مثبت کردار اد کیا ہے جس کی اجلاس میں تعریف بھی کی گئی ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں استحکام خطے کے لوگوں کے مفاد میں ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ کشیدہ حلات کو بہتری کی طرف لایا جائے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے کابینہ کی کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس انیس سو ننانوے میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت انیس سو ننانوے میں کارگل جنگ کے دوران ہوا تھا جبکہ بعد میں جنرل پرویز مشرف نے اقتداد پر قبضے کے بعد ملکی دفاع کے حوالے سے نیشنل سکیورٹی کونسل بنائی تھی ۔ تاہم چند روز قبل وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے نیشنل سکیورٹی کونسل کو ختم کرنےکا اعلان کیا تھا۔ واضع رہے کہ ممبئی میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے تانظر میں حکومت اور فوج کی اعلی قیادت کے درمیان مسلسل ملاقاتیں کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اس حوالے سے سنیچر کے روز وزیر اعظم ہاوس میں ایک اہم اجلاس ہوا تھا جس میں آرمی چیف ، آئی ایس آئی کے سربراہ اور متعلقہ وفاقی وزراء نے شرکت کی تھی۔ |
اسی بارے میں صدر زرداری دھوکہ کھاگئے06 December, 2008 | پاکستان ’ 9/11 جیسےحملے ہو سکتے ہیں‘04 December, 2008 | انڈیا بھارتی ایجنسیاں، نظام تباہ ہو رہا ہے04 December, 2008 | انڈیا وزیراعظم کو ISI کی بریفنگ05 December, 2008 | پاکستان پاک بھارت کشیدگی، رائس پاکستان میں04 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||