حافظ سعید با ضابطہ نظر بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کو ان کی نظربندی کے باضابطہ احکامات وصول ہوگئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ وہ ایک ماہ یعنی تیس دنوں کے لیے اپنے گھر میں نظربند رہیں گے۔ حافظ سعید کے داماد حافظ خالد ولید نے لاہور میں نامہ نگار عباد الحق کو ٹیلی فون پر بتایا کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈنیشن آفیسر لاہور سجاد احمد بھٹہ کی طرف سے حافظ سعید کو نظر بندی کے احکامات وصول ہوگئے ہیں۔ ادھر پولیس نے کراچی، لاہور، کوئٹہ، ملتان، حیدرآباد سمیت دوسرے شہروں اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جماعۃ الدعوۃ کے خلاف کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ اس تنظیم کے دفاتر اور دیگر ادارے سربمہر کئے جارہے ہیں اور گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔ پشاور سے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق صوبہ سرحد میں جماعت الدعوۃ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ پولیس نے ان کے چھیالیس دفاتر کو سیل کر کے ایک سو پچاس سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے اور مزید گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
حافظ خالد ولید کے بقول سرکاری احکامات میں کہاگیا کہ حافظ سعید کو نقص امن کے قانون کے تحت تیس دن یعنی ایک ماہ کے لیے نظر بند کیا گیاہے۔ ان احکامات کے مطابق لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤں میں حافظ سعید کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے دیا گیا ہے اور ان کے گھر کے باہر جیل کا عملہ متعین کردیا گیا ہے۔ حافظ سعید نے اپنی نظر بندی کے دوران سنیچر کی دوپہر ظہر کی نماز اپنے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر جامع مسجد توحید میں ادا کی جہاں انہوں نے نماز کی امامت بھی کی۔ دوسری طرف سینکڑوں افراد نے مظفرآباد میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے سامنے جماعۃ الدعوۃ پر پابندی کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے شہر کے قریب لشکر طیبہ کے ایک مبینہ کیمپ پر اسی ہفتے کارروائی کی تھی۔ کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار احمد رضا کے مطابق کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد نے بتایا ہے کہ شہر میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران جماعۃ الدعوۃ کی آٹھ عمارتوں کو سربمہر کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ جماعۃ الدعوۃ کے کسی کارکن یا عہدیدار کو حراست میں نہیں لیا گیا ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے صرف اس تنظیم کے دفاتر اور دوسری املاک کو سربمہر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں جماعۃ الدعوۃ کی جن آٹھ عمارتوں کو سربمہر کیا گیا ہے ان میں تنظیم کے دفاتر، مدارس، سکول اور لائبریری وغیرہ شامل ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعہ کو جماعۃ الدعوۃ کی لاہور میں واقع مسجد میں جماعۃ الدعوۃ کے نظر بند امیر حافظ محمد سعید کے بیٹے طلحہٰ سعید نے کہا ہے کہ ان کا خیراتی ادارہ ’جماعۃ الدعوۃ‘ اپنے اوپر بندش ختم کرنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کرے گا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے جماعۃ الدعوۃ پر پابندی کے فیصلے کے بعد پاکستان حکومت نے اس تنظیم کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔
حافظ سعید اپنی نظر بندی کے دوران اپنے قریبی رشتہ داروں سے ملاقات کرسکیں گے تاہم ان کی دیگر افراد سے ملاقات پر پابندی ہوگی۔ حافظ سعید کے داماد کے بقول نظربندی کے احکامات کے خلاف دادرسی کے لیے عدالت سے جلد رجوع کیا جائے گا۔ سنہ دو ہزار دو میں حافظ سعید کو نظر بند کیا گیا تھا اور دس ماہ کے بعد انہیں رہا کردیا گیا جبکہ اگست سنہ دو ہزار چھ میں بھی انہیں دوبارہ نظربند کیا گیا تاہم لاہور ہائی کورٹ نے ان کی نظر بندی کو ختم کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک کمیٹی نے حافظ سعید سمیت چار افراد کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے تھے اور جماعۃ الدعوۃ پر یہ کہہ کر پابندی لگای دی تھی کہ دراصل یہ لشکر طیبہ کا دوسرا نام ہے۔ اس کے بعد پاکستان کے سٹیٹ بینک نے تمام کمرشل بینکوں کو جماعۃ الدعوۃ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے ہدایات جاری کر دی تھی۔ جماعۃ دعوۃ کے خلاف کارروائی کا سلسلہ ہندوستان کے اس الزام کے بعد شروع ہوا کہ ممبیی کے حملوں میں لشکر طیبہ کا ہاتھ تھا اور یہ کہ جماعۃ دعوۃ کالعدم لشکر کا ہی نیا نام ہے۔ |
اسی بارے میں ’ابھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا‘ 09 December, 2008 | پاکستان ’کارروائی، تفتیش ہو رہی ہے‘10 December, 2008 | انڈیا ’زکی لکھوی اور مسعود اظہرگرفتار‘09 December, 2008 | پاکستان ممبئی حملوں کے حملہ آور اجمل کا ’اقبالی بیان‘10 December, 2008 | انڈیا ’جماعتہ الدعوۃ پر پابندی لگائی جائے‘10 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||