BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 December, 2008, 19:19 GMT 00:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اپنے فیصلے خود کرنے ہیں تو ۔۔۔

حافظ سعید
جماعۃ دعوۃ کو لشکر کا دوسرا نام بتاتےہوئےاقوام متحدہ نے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا
جب سے ممبئی حملوں کا الزام لشکر طیبہ پر لگا ہے اور بھارت کی جانب سے اس عسکری تنظیم پر پابندی کا مطالبہ سامنے آیا ہے، اردو سروس کی ویب سائیٹ پر ایک دھواں دار بحث جاری ہے جس میں ہمارے قارئین لشکر پر پابندی کے حق یا مخالفت میں رائے دے رہے ہیں۔

سوال یہ نہیں کہ کتنے اس پابندی کے حق میں ہیں اور کتنے اس کے خلاف بلکہ یہ کہ جو لشکر طیبہ پر پابندی کی حمایت یا مخالفت کر رہے ہیں ان کی رائے کی بنیاد کیا ہے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ایڈیٹر وحید مرزا کا کہنا ہے کہ انہیں اس بحث میں جو امر سب سے زیادہ دلچسپ لگا وہ یہ ہے کہ چاہے کوئی پابندی کے حق میں ہے یا اس کے خلاف، پاکستان سے آنے والی آراء میں شاید ہی کوئی ایسی ہو جس میں یہ نہ کہا گیا ہو کہ فیصلہ جو بھی ہو وہ پاکستان کا اپنا ہونا چاہیئے نہ کہ بھارت یا کسی اور بیرونی طاقت کے دباؤ کا نتیجہ۔

پاکستان کے عوام کا یہ مطالبہ کچھ نیا نہیں۔ امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملوں سے کئی برس پہلے جب پاکستان افغانستان میں امریکی جنگ لڑنے میں جٹا ہوا تھا، تب بھی عوام کی اپنے حکمرانوں سے یہی التجا رہی کہ وہ اپنے فیصلے خود کریں۔

یہ کتنی عجیب بات ہے کہ جو بات پاکستان کے ہر عام شہری کی زبان پر سالہا سال سے ہے وہ حلقہء اقتدار کے پلے کیوں نہیں پڑتی۔

شاید اس کی ایک بڑی وجہ وہ سکیورٹی تجزیہ ہے جو پاکستان نے سرد جنگ کے زمانے میں دو بڑی طاقتوں کی لڑائی میں خود کو جھونک کر تخلیق کیا اور اب ایک عفریت کی طرح وہ اسے ہی کاٹ کھا رہا ہے۔

ممبئی پر حملوں کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے

یہ درست ہے کہ پاکستان افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف چھڑنے والی جنگ سے پہلے بھی غیر ریاستی عناصر کو اپنی خارجہ پالیسی میں مہروں کے طور پر استعمال کرتا تھا۔ گلبدین حکمت یار جیسے پودے جنرل ضیا نے نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو نے لگائے تھے۔ یا پھر اس سے بھی پہلے آپریشن جبرالٹر جیسی مہم جوئی میں بھی پاکستان کی ریاست نے بھارت سے متعلق اپنی خارجہ پالیسی کو غیر ریاستی عناصر کی مدد سے ہی تراشنے کی کاوش کی تھی۔

لیکن افغانستان میں سوویت مخالف جنگ غیر ریاستی کرداروں کو استعمال کرنے کی پالیسی کی اتنی بڑی فتح ثابت ہوئی کے اس نے ایسے عناصر کو ملک بھر میں وہ سیاسی، عسکری اور اخلاقی مقام دے دیا جو اس سے پہلے انہیں کبھی حاصل نہ تھا۔

افغانستان میں سوویت مخالف جنگ میں استعمال ہونے والے ان غیر ریاستی عناصر سے پاکستان کے عوام یا سیاسی گروہ متاثر ہوئے نہ ہوئے، جنرل ضیا کی فوجی آمریت میں پروان چڑھنے والی آئی ایس آئی ان سے اس قدر مرعوب نظر آئی کہ افغان جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی اس نے ان عناصر کو کشمیر میں بھڑکنے والی بھارت مخالف تحریک میں جھونک دیا۔

انیس سو نواسی سے لے کر ننانوے تک کا عرصہ ایسے عناصر کا عروج تھا اور ان کی منہ زوری کا عالم کچھ ایسا کے پاکستان طلسم ہوشربا میں شہنشاہ افراسیاب کی ریاست کا نقشہ پیش کرتا تھا جہاں ایک طلسم ظاہر تھا، ایک طلسم باطل اور ایک بحرظلمات۔ عوام طلسم ظاہر تک محدود، حلقہء اقتدار طلسم باطل میں محفوظ اور یہ غیر ریاستی عناصر بحر ظلمات کے بے تاج بادشاہ ہونے کے ناطے پوری ریاست پر قادر۔

ان عناصر کو لگام دینے کی کاوش میں بینظیر بھٹو نے قومی غدار کا لقب کمایا اور پھر اپنی جان گنوائی، میاں نواز شریف کے منہ پر کارگل کا بٹہ لگا اور خود کارگل کے خالق جنرل مشرف کو دو سال تک بھارت سے ممکنہ جنگ کے خطرے سے نمٹنا پڑا۔

اپنے فیصلے کرنے کے لیے کیا کرنا ہوگا
 اگر پاکستانی عوام یہ چاہتے ہیں کے ان کے ملک کے فیصلے ملک میں ہی ہوں تو انہیں اپنی حکومت اور ریاستی اداروں کو اس بات پر قائل کرنا ہو گا کہ پاکستان اپنے سکیورٹی تجزیے پر نظر ثانی کرے۔ ایسا نہ کرنا سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی سب سے بڑی غلطی تھی جو ان کی تمامتر اندرونی اور بیرونی حمایت کے باوجود انہیں آخرکار لے ڈوبی

نوے کی دہائی میں تو یوں لگنے لگا کہ پاکستان کے ریاستی ادارے ان عناصر کو استعمال کرنے کے بجائے خود ان کے ہاتھوں استعمال ہونے لگے ہیں۔ دسمبر انیس سو ننانوے میں بھارتی طیارے کا اغوا اور اس کے نتیجے میں رہائی پانے والوں کی پاکستان کے اندر دیدہ دلیری سے کی جانے والی عسکری کاروائیاں اس کی ایک واضح مثال ہیں۔

امریکہ پر حملوں کے بعد پاکستانی ریاست پر شدید عالمی دباؤ پڑا کہ وہ ان عناصر کی مکمل سرکوبی کرے۔ اور حاکم وقت جنرل پرویز مشرف نے ایسا کرنے کا عہد بھی کیا۔ لیکن تب سے لے کر ممبئی پر ہونے والے حملوں تک ایک بھی ایسی مثال سامنے نہ آئی جس سے یہ ثابت ہوتا کہ پاکستانی حکمران اپنے عہد میں مخلص ہیں۔

جبکہ اس کے برعکس امریکی صحافی ڈینئیل پرل کے قتل، بھارتی پارلیمان پر حملہ، پاکستان کے اندر درجنوں خود کش حملے، جامعہ حفصہ کا غدر، بینظیر بھٹو کا قتل، اسلام آباد کے میرئیٹ ہوٹل پر حملہ اور پھر ممبئی حملوں جیسے کئی واقعات ہوئے جو ان غیر ریاستی عناصر کی مستقل طاقت اور اثر رسوخ کی دلیل تھے۔

یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ لگ بھگ بیس برس کے عرصے پر پھیلی ہوئی بیشتر وزراء اعظم، ایک فوجی صدر اور پوری دنیا کی کاوشوں کے باوجود بھی یہ غیر ریاستی عناصر کھلم کھلا کیسے دندنا رہے ہیں۔ آخر وہ کیا طاقت ہے جو ان کی طرف اٹھنے والے ہر ہاتھ کو مفلوج کر دیتی ہے؟

اس سوال کا شاید سب سے مدلل جواب یہی ہے کہ پاکستانی ریاست کا سکیورٹی تجزیہ جو اس کی قومی سلامتی کی پالیسیوں کی بنیاد ہے اب بھی وہی ہے جو افغانستان میں سوویت جنگ کے دوران تھا۔ اس تجزیے کے مطابق پاکستان اپنے سب سے بڑے ریاستی حریف بھارت سے روایتی جنگ کی صلاحیت نہیں رکھتا لیکن کیونکہ بھارت پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اس لیے اسے ایک غیر روایتی جبگ میں الجھائے رکھنا پاکستان کے مفاد میں ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ریاستی اداروں کا اصرار رہا ہے کہ کشمیر اور افغانستان ایسے الجھے ہوئے مسائل ہیں جو سیاسی اور سفارتی کوششوں سے حل ہوتے نظر نہیں آتے۔ ایسے علاقوں میں پاکستانی مفادات کا تحفظ صرف غیر ریاستی عناصر کی مدد سے ہی کیا جا سکتا ہے۔

اس تجزیے کی بنیاد پر بننے والی سکیورٹی پالیسی کی ایک واضح مثال امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد جنم لینے والی پاکستان کی موجودہ افغان پالیسی ہے۔

طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان کے سکیورٹی ادارے اس بات پر مصر نظر آئے کہ مغربی حمایت سے بننے والی کرزئی حکومت زیادہ دیر چل نہ پائے گی اور نہ ہی اس کی حمایتی مغربی افواج زیادہ دیر افغانستان میں ٹھہر پائیں گی۔ ایسی صورتحال میں جلد یا بدیر طالبان حکومت میں واپس آئیں گے لہذا پاکستن کو کسی صورت ان سے بگاڑنی نہیں چاہئیے۔

بالکل جیسے پاکستان کے اندر پلنے والے عسکری گروہ کشمیر میں پچھلے بیس سال سے کسی نہ کسی سطح پر ریاستی حمایت سے مستفیض ہوتے رہے طالبان کو بھی کسی نہ کسی سطح پر پاکستان کی ریاست سے حمایت حاصل رہی۔

ایک حملہ آور ہندوستانی پولیس کی تحویل میں ہے

اور بالکل جیسے پاکستان کے اندرونی غیر ریاستی گروہ ملک کے ریاستی اداروں کے آلہء کار بننے کی بجائے ان کے مالک بن بیٹھے اسی طرح طالبان بھی پاکستان میں ملکی سلامتی اداروں کے گلے کا طوق بن گئے۔

یہاں تک کہ یہ تمیز کرنا کہ کونسا کردار ریاستی ہے اور کونسا غیر ریاستی تقریباً ناممکن ہوگیا۔ اس اندرونی خلفشار کی ایک بڑی مثال پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی ڈاکٹر اے کیو خان ہیں جو ملک کی اہم ترین ریاستی حیثیت ہونے کے باوجود بھی غیر ریاستی سرگرمیوں کے مجرم ٹھہرائے گئے۔

امریکہ پر ہونے والے حملوں سے پہلے ان عناصر کا ایجنڈا کشمیر اور افغانستان تک محدود تھا لیکن القاعدہ کے ظہور کے بعد یہ اجینڈا پھیلتے پھیلتے بھارت، عراق، مغربی یورپ اور امریکہ تک پھیل گیا۔ ظاہر ہے کہ جب ایک ریاست میں اتنی بڑی تعداد میں غیر ریاستی عناصر بین الاقوامی اجنڈوں کی پیروی میں مگن ہوں تو کیا دنیا اس سے لاتعلق رہ سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ برطانوی وزیر اعظم کو دہشتگردی کے پچھتر فیصد واقعات کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ نظر آتا ہے، امریکہ ہر داڑھی میں القاعدہ دیکھتا ہے اور بھارت کو اپنا ہر مسئلہ لشکر طیبہ سے جڑا نظر آتا ہے۔ اور جب تک دنیا پاکستان کو انہیں نظروں سے دیکھتی رہے گی، پاکستان کبھی اپنے فیصلے خود نہ کر پائے گا۔

اگر پاکستانی عوام یہ چاہتے ہیں کے ان کے ملک کے فیصلے ملک میں ہی ہوں تو انہیں اپنی حکومت اور ریاستی اداروں کو اس بات پر قائل کرنا ہو گا کہ پاکستان اپنے سکیورٹی تجزیے پر نظر ثانی کرے۔ ایسا نہ کرنا سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی سب سے بڑی غلطی تھی جو ان کی تمام تر اندرونی اور بیرونی حمایت کے باوجود انہیں آخرکار لے ڈوبی۔

اب اگر یہی غلطی صدر آصف علی زرداری دہرائیں گے تو عین ممکن ہے کہ ان کے انجام کا فیصلہ بھی وہی غیر ریاستی عناصر کریں جنہوں نے پہلے ان کا گھر اجاڑا اور اب ان کا ملک اجاڑنے کے درپے ہیں۔

اسی بارے میں
حافظ سعید با ضابطہ نظر بند
13 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد