BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 December, 2008, 22:45 GMT 03:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حافظ سعید نظر بند، مظفر آباد میں بھی کارروائی

حافظ سعید (فائل فوٹو)
جماعت الدعوۃ کا لشکر طیبہ سے کوئی تعلق نہیں، سب بھارتی پراپیگنڈہ ہے: حافظ سعید
پولیس نے کراچی اور لاہور سمیت دوسرے شہروں اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جماعۃ الدعوۃ کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔ اس تنظیم کے دفاتر اور دیگر ادارے سربہمر کئے جارہے ہیں اور گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔

سندھ کے صوبائی سیکریٹری داخلہ عارف احمد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اب تک کی کارروائی کی تفصیل بتانے سےگریز کیا تاہم اس بات کی تصدیق کی کہ جماعۃ الدعوۃ کے دفاتر سربمہر کئے جا رہے ہیں۔

’میں اس کارروائی سے انکار نہیں کر رہا، بلاشبہ یہ کارروائی جاری ہے اور جلد ہی مکمل کرلی جائے گی۔‘

لاہور سے نامہ نگار عباد الحق نے بتایا ہے کہ جماعۃ الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر نظر بندی کرنے کا احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔

حافظ سعید کے داماد حافظ خالد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات تصدیق کی ہے اور ان کے بقول پولیس نے نظربندی کے احکامات کے بارے میں زبانی طور پر ان کو آگاہ کردیا ۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کے مطابق حافظ سعید کو تین ماہ کے لیے ان کی رہائش گاہ پر بند کرنے کے احکامات جاری ہوئے ہیں۔

جماعۃ الدعوۃ کے ترجمان عبداللہ منتظر نے ٹیلی فون پر بی بی سی کرتے ہوئے بتایا کہ جماعۃ الدعوۃ کے امیر سمیت دیگر رہنماؤں کی نظربندی اور تنظیم کے دفاتر کو سربمہر کرنے کے اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

جماعتہ الدعوۃ
مسجد قادسیہ میں حافظ سعید کی پریس کانفرنس کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے

ان کے بقول اس ضمن میں باضابطہ درخواست جلد ہی عدالت میں دائر کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت نے تنظیم کے خلاف کرنے میں غیرمعمولی جلد بازی کا مظاہرہ کیا۔

کشمیر
مظفر آباد سے ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا کہ مظفرآباد شہر میں پولیس نے رات گئے مظفرآباد شہر میں پولیس نے رات گئے جماعۃ الدعوۃ کا مرکزی دفتر اور اسکول سربہر کر دیے۔ اس کے علاوہ ایک گاڑیوں کی مرمت کے لئے قائم کی گئی ورکشاپ بھی سیل کی گئی جو جماعت کے زیر انتظام چلتی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دفتر اور اسکول میں کوئی رکن موجود نہیں تھا البتہ عینی شاہدین کے مطابق ورکشاپ سے جماعۃ الدعوۃ کے چار کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے اس کی تصدیق کی لیکن تعداد بتانے سے گریز کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی ضلع میرپور میں بھی تنظیم کا دفتر اور اس تنظیم کے زیر انتظام چلنے والی ڈسپنسری اور سکول پر بھی تالے ڈال دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا کہ کشمیر کے اس علاقے کے دیگر اضلاع میں بھی جماعۃ الدعوۃ کے دفاتر اور دیگر ادارے سیل کئے جارہے ہیں۔

کشمیر میں کارروائی
مظفرآباد شہر میں پولیس نے رات گئے مظفرآباد شہر میں پولیس نے رات گئے جماعۃ الدعوۃ کا مرکزی دفتر اور اسکول سربہر کر دیے۔ اس کے علاوہ ایک گاڑیوں کی مرمت کے لئے قائم کی گئی ورکشاپ بھی سیل کی گئی جو جماعت کے زیر انتظام چلتی تھی
یاد رہے آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کے تباہ کن زلزلے کے بعد اس تنظیم کے کارکنوں نے علاقے امدادی سرگرمیاں شروع کی تھیں۔ تنظیم کے عہدیداروں کے مطابق امدادی کاموں کے بعد وہ لوگوں کی بحالی اور تعمیر میں بھی مدد فراہم کر رہے تھے اور متاثرہ علاقوں میں فلاحی کاموں میں مصروف تھے۔

دریں اثنا سٹیٹ بینک نے تمام کمرشل بینکوں کو جماعۃ الدعوۃ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے ہدایات جاری کردی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے ترجمان سید وسیم الدین نے تصدیق نے بتایا کہ یہ ہدایات جمعرات کی شب وفاقی حکومت کے حکم پر جاری کی گئی ہیں۔

’اقوام متحدہ نے آج جو قرارداد منظور کی تھی اس کی روشنی میں وفاقی حکومت نے ہمیں جماعۃ الدعوۃ کے علاوہ الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم دیا تھا جس کے تحت اسٹیٹ بینک نے تمام کمرشل بینکوں کو یہ ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ان تنظیموں کے بینک اکاؤنٹس منجمد کردیں۔‘

اس سے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک کمیٹی نے پاکستان میں کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے ’رہنما‘ حافظ سعید سمیت چار افراد کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیئے ہیں۔کمیٹی نے کہا ہے کہ پاکستان کی فلاحی تنظیم جماعۃ الدعوۃ دراصل لشکر طیبہ کا دوسرا نام ہے لہذا ان پابندیوں کا اطلاق اس پر بھی ہو گا۔

القاعدہ اور طالبان پر پابندیاں عائد کرنے والی سلامتی کونسل کی اس کمیٹی کے فیصلے کے تحت ان چار افراد کے دنیا بھر میں سفر پر پابندی لگا دی گئی ہے اور ان کے بینک اکاونٹ منجمد کر دیئے گئے ہیں۔ یہ افراد اسلحے کی خریداری بھی نہیں کر سکتے۔

جماعۃ الدعوۃ کے ترجمان عبد اللہ منتظر نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کا غیر منصفانہ ہے اور ان کی تنظیم کا القاعدہ یا طالبان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جماعۃ الدعوۃ کے ترجمان نے پاکستان حکومت سے کہا ہے کہ ان کی تنظیم کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے کیونکہ اس سے پاکستان کے لوگوں کو نقصان ہوگا۔

اجمل امیر قصاباجمل کا ’اقبالی بیان‘
ممبئی حملوں میں بچ جانے والے ملزم کا بیان
قبرستان بھی تنگ
دہشتگردوں کی قبر کی جگہ نہیں: مسلم کونسل
ہند - پاک کشیدگی
ممبئی حملوں کے بعد ہند پاک رشتے کشیدہ
ممبئیبھارتی خفیہ ایجنسیاں
پورا نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد