BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 May, 2008, 21:57 GMT 02:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حافظ سعید پر امریکی پابندیاں

حافظ محمد سعید
محمد سعید سمیت ذکی الرحمٰن لکھوی، حاجی محمد اشرف اور محمود محمد احمد بہازق شامل ہیں
امریکہ کی وزارتِ خزانہ نے القاعدہ سے تعلقات کے شبہہ اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزام پر لشکر طیبہ کے چار سرکردہ ارکان کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ان افراد کے امریکہ میں اثاثے منجمد کیے جائیں گے اور امریکی شہریوں پر ان افراد کے ساتھ کسی قسم کا کاروبار کرنے کی ممانعت ہو گی۔

انڈر سیکریٹری برائے ٹیررازم اینڈ فنانشل انٹیلیجنس سٹیوئرٹ لیوی نے ان چاروں افراد کے ناموں کا اعلان کیا۔ ان چار افراد میں محمد سعید، ذکی الرحمٰن لکھوی، حاجی محمد اشرف اور محمود محمد احمد بہازق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لشکر طیبہ انیس سو ترانوے سے بھارتی فوج اور شہریوں پر حملوں میں ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ محمد سعید لشکر طیبہ کے سرکردہ رہنما ہیں جو کہ اس کی کارروائیوں اور فنڈ جمع کرنے میں ملوث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعید دو ہزار چھ میں جہادی کیمپوں کے منتظم تھے جو کہ جہادیوں کو افغانستان میں اتحادی فوجوں پر حملوں کے لیے تیار کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ دو ہزار پانچ میں محمد سعید نے لشکر طیبہ کے کیمپوں سے نکلے جہادیوں کو مختلف جگہوں پر جہاد کے لیے بھیجا اور ذاتی طور پر حج کے لیے سعودی عرب جاتے ہوئے جہادیوں کو عراق میں داخل کروایا۔

سٹوئرٹ لیوی نے مزید کہا کہ اسی سال سعید نے اپنی تنظیم کے ایک رکن کو فنڈ جمع کرنے کے لیے یورپ کوآرڈینیٹر کے طور پر بھیجا۔

امریکہ کے ٹریژری محکمے کے مطابق ذکی الرحمٰن لکھوی لشکر طیبہ کی کارروائیوں کے کرتے دھرتے ہیں۔ انہوں نے مختلف ممالک میں کارروائیوں کو منظم کیا ہے جن میں چیچنیا، بوسنیا، عراق اور جنوب مشرقی ایشیا شامل ہیں۔

لکھوی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ لشکر کے خودکش بمباروں کو تربیت دیتے تھے اور اس سے قبل انہوں نے جہادیوں کو گنجان آباد علاقوں میں حملے کرنے کی بھی تربیت دی تھی۔

امریکہ کے مطابق لکھوی نے کئی جہادیی عراق بھی بھیجے ہیں۔

سٹیوئرٹ لیوی کے مطابق حاجی محمد اشرف سنہ دو ہزار تین سے لشکر کے فنانس کا سربراہ ہے۔ فنڈ جمع کرنے کے لیے دو ہزار تین اور چار میں اشرف مشرق وسطیٰ بھی جا چکے ہیں۔

امریکہ کےمطابق محمود محمد احمد بہازق لشکرکو فنانس کرنے والا ہے اور انیس سو اسی اور نوے میں انہی کی رقم سے لشکر طیبہ وجود میں آئی۔ دو ہزار پانچ میں انہوں نے لشکر کے پروپیگینڈے اور میڈیا کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا۔ وہ سعودی عرب میں لشکر کے رہنما رہ چکے ہیں۔

سٹوئرٹ لیوی نے کہا ’لشکر طیبہ القاعدہ سے خطرناک تنظیم ہے جو بے گناہ شہریوں کی جان لینے سے دریغ نہیں کرتی۔ یہ کثیر الملکی تنظیم ہے اور اس لیے تمام حکومتوں کو چاہیے کہ اس تنظیم کی کارروائیاں اور فنڈ کوشش کر کے بند کیے جائیں۔‘

انہوں نے کہا کہ دو ہزار دو میں پاکستان حکومت کی طرف سے کالعدم قرار دیے جانے کے باوجود یہ ینظیم کشمیر اور دنیا بھر میں دہشت گرردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔

اسی بارے میں
ممنوعہ تنظیمیں: کون کیا ہے؟
22 November, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد