حافظ سعید اپنی رہائش گاہ منتقل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید رہائی کے بعد سرکاری ریسٹ ہاؤس سے لاہور میں اپنی رہائش گاہ منتقل ہوگئے ہیں۔ انہیں لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر منگل اور بدھ کی درمیانی رات رہا کیا گیا تھا۔ جماعت الدعوۃ کے ترجمان کے مطابق ان کی رہائش گاہ پرملاقاتیوں کا رش لگا ہے جس کی وجہ سے صحافیوں سے ان کی ملاقات نہیں ہوسکتی، تاہم حافظ سعید نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو سراہا ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ ان کی اکہتر روز کی نظر بندی کے دوران کیا پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات بہتر ہوگئے ہیں؟ حکومت پنجاب نے حافظ سعید کی نظر بندی کا جواز پیش کرتے ہوئے عدالت عالیہ کو کہا تھا کہ ’وہ ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور ان کی سرگرمیوں سے پاکستان کے اپنے ہمسایہ ملکوں سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں‘۔ رہائی کے بعد جاری کیے گئے اپنے بیان میں حافظ سعید نے اس حکومتی بیان کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر پڑوسی ممالک سے مراد ہندوستان ہے تو اس سے پاکستان کے تعلقات پہلے بہتر تھے نہ آئندہ بہتر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کو پاکستان کا ازلی دشمن قراد دیتے ہوئے کہا کہ دنوں ملکوں کے درمیان تعلقات بھارت کی الزام تراشیوں کی وجہ سے خراب ہوئے ہیں اور اس کی وجہت ان کے بقول، جماعت الدعوۃ کی سرگرمیاں نہیں ہیں۔
حافظ سعید نے کہا کہ ہندوستان میں اقلیتیں اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہیں اور مسلمان بھی اپنے حقوق کے لیئے کام کررہے ہیں۔ ان کے بقول ہندوستان نے اپنے داخلی معاملات میں ناکامی کےبعد الزامات کا کھیل شروع کر دیا ہے اور پاکستانی حکومت اس کا موثر جواب دینے کی بجائے ان کے دباؤ میں آجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی رہائی نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان کی عدلیہ فیصلے کرتے ہوئے ملکی یا غیر ملکی دباؤ کو سامنے نہیں رکھتی۔ حافظ سعید نے کہا کہ ’ اب غلبہ اسلام کے لیئشثے محنتیں اور کوششیں جاری رہیں گی ّ۔ انہوں نے کہ اپنے کارکنوں کو بھی کہا ہے کہ وہ محنت کریں اور اسلام کی دعوت زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کی کوشش کریں۔ حافظ سعید کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے بانی تھے لیکن اس تنظیم پر پاکستان میں پابندی لگنے سے قبل انہوں نے اسے چھوڑ کر ایک نئی تنظیم جماعت الدعوۃ قائم کرلی تھی۔ حکومت پاکستان نے اس تنظیم کو بھی زیر نگرانی رکھا ہے۔ ہندوستانی حکومت انڈیا میں ہونے والے مخلتف پرتشدد واقعات میں لشکر طیبہ کے ملوث ہونے کا الزام عائد کرتی ہے۔ حالیہ ممبئی دھماکوں کے سلسلے میں بھی بھارتی حکام لشکر طیبہ اور پاکستان کی خفیہ انٹیلیجنس ادارے آئی ایس آئی کو مورود الزام ٹھہراتی ہے۔ | اسی بارے میں حافظ سعید:حکم نامہ کے بغیر نظر بند11 October, 2006 | پاکستان حافظ محمد سعید دوبارہ گرفتار29 August, 2006 | پاکستان لاہور: حافظ سعید کی رہائی کا حکم28 August, 2006 | پاکستان حافظ سعید نامعلوم مقام پر منتقل24 August, 2006 | پاکستان حافظ سعید کی نظر بندی چیلنج16 August, 2006 | پاکستان برطانیہ نہیں بھجوایا جا رہا: پاکستان15 August, 2006 | پاکستان لشکر طیبہ کے سابق سربراہ نظر بند10 August, 2006 | پاکستان جماعت الدعوۃ کے حق میں مظاہرہ09 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||