لاہور: حافظ سعید کی رہائی کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ نے پیر کو ممنوعہ تنظیم لشکرطیبہ اور جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کی نظر بندی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ حافظ سعید کو دس اگست کو پنجاب حکومت کے حکم پر ان کے گھر پر نظر بند کردیا گیا تھا اور ضلعی حکومت نے ان کی جماعت کو بارہ اگست کو مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کی اجازت منسوخ کردی تھی۔ حافظ سعید کی اہلیہ میمونہ سعید نے ان کی نظر بندی کو لاہور ہائی کورٹ میں ایک رٹ درخواست کے ذریعے چیلنج کیا تھا۔ آج ہائی کورٹ کے جج شبیر اختر کی عدالت میں رٹ درخواست کی سماعت ہوئی تو عدالت عالیہ کو بتایا گیا کہ پنجاب کے محکمہ داخلہ نے حافظ سعید کی نظر بندی کو ختم کرنے کے لیے دی گئی درخواست مسترد کردی ہے۔ پنجاب کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل حنیف کھٹانہ نے عدالت کو بتایا کہ حافظ سعید کو اس وجہ سے نظر بند کیا گیا ہے کہ ان کی جماعت چھ ستمبر کو لاہور میں بلا اجازت جلسہ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے نزدیک ایک آدمی کی نظر بندی سے زیادہ عام لوگوں کی جان ومال کا تحفظ زیادہ اہم معاملہ ہے۔ انہوں نے عدالت سے کہا کہ پولیس اور حکومتی اداروں کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ حافظ سعید کے چھ ستمبر کو جلسہ کرنے سے امن و امان کو خطرہ درپیش ہے۔ تاہم ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کے سامنے اپنے بیانات کے حق میں کوئی ثبوت یا رپورٹ پیش نہیں کی۔ دوسری طرف حافظ سعید کے وکیل نذیر احمد غازی نے عدالت میں کہا کہ دس اگست کو ان کی جماعت نے حکومت کو درخواست دی تھی کہ وہ انہیں چھ ستمبر کو یہ جلسہ کرنے کی اجازت دے اور حکومت نے زبانی طور پر اس کی حامی بھری تھی۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اب تک جماعت الدعوۃ نے کوئی ایسی بات نہیں کی جسے امن و امان کے لیے خطرہ قرار دیا جاسکے اور نہ اپنے ستمبر کے جلسہ کے لیے کوئی اشتہار دیا ہے۔ جج نے دلائل سن کر کہا کہ حکومت کے پاس ایسا کون سا آلہ ہے جس سے وہ لوگوں کے دلوں کا حال جان سکتی ہے۔ جج نے مزید کہا کہ حکومت نے کوئی ایسا ثبوت یا واقعاتی شہادت بھی پیش نہیں کی جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ حافظ سعید سے امن و امان کو خطرہ ہے۔ جج نے نظر بندی کے احکامات منسوخ کردینے کا حکم دیا اور کہا کہ وہ درخواست گزار کی رٹ درخواست کو منظور کرتے ہیں۔ حافظ سعید کو گزشہ جولائی میں ممبئی بم دھماکوں کے بعد بھارت کی جانب سے ان کی تنظیم کے ان دھماکوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے بعد نظر بند کیا گیا تھا اور بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے ان کی حراست کو مثبت اشارہ قرار دیا تھا۔ | اسی بارے میں حافظ سعید نامعلوم مقام پر منتقل24 August, 2006 | پاکستان حافظ سعید کی نظر بندی چیلنج16 August, 2006 | پاکستان لشکر طیبہ کے سابق سربراہ نظر بند10 August, 2006 | پاکستان جماعت الدعوۃ کے حق میں مظاہرہ09 May, 2006 | پاکستان ’عالمی عدالت میں جائیں گے‘29 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||