’عسکری کارروائیاں بند نہیں کی ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے امیر جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا نیا نام جماعت الدعوہ ہے، حافظ محمد سعید نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ان کی تنظیم نے عسکری کارروائیاں بند نہیں کی ہیں۔ جماعت نے اس بات پر معذرت کی ہے کہ اس کی ویب سائٹ پر مبینہ فرضی تصادم میں ہلاک ہونے والی نوجوان لڑکی عشرت جہاں کے بارے میں غلطی سے خبر شائع ہو گئی تھی۔ اتوار کو ایک مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس میں اس سوال پر کہ کیا ان کی تنظیم نے جہاد بند کردیا ہے، انہوں نے کہا کہ ’ کوئی کام بند نہیں ہوا ہے اور نہ ہوگا۔،‘ انہوں نے امریکی وزارت خارجہ کی اس رپورٹ کو غلط قرار دیا کہ پاکستان، لشکر طیبہ اور دیگر جہادی تنظیموں کے لیے محفوظ جنت ہے اور وہ پابندی کے باوجود سٹاک ایکسچنج میں سرمایہ کاری کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’وہ ہمیشہ ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ نہ ان کے پاس صحیح معلومات ہیں نہ میں اسکی تفصیل میں جانا چاہتا ہوں۔‘ حافظ محمد سعید نے جو جماعت الدعوۃ پاکستان کے امیر ہیں کہا کہ ان کی جماعت نے ساڑھے چار مہینوں تک ملک بھر میں تحفظ حقوقِ نسواں قانون کے خلاف دستخطی مہم چلائی جس میں ان کے بقول ایک کروڑ پندرہ لاکھ بارہ ہزار سات سو تین افراد نے اس قانون کی مخالفت میں دستخط کیے ان میں تیس لاکھ سے زائد خواتین شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مہم میں سیاستدانوں، وکلاء اور ہر سطح کے لوگوں نے حصہ لیا جن کا تعلق ملک کے چاروں صوبوں اور شمالی علاقہ جات کے لوگ بھی شامل ہیں۔ حافظ محمد سعید نے اپنے اس موقف کو دہرایا کہ تحفظِ حقوق نسواں قانون قرآن و سنت اور آئین پاکستان کی روح کے خلاف ہے اور اسے بیرونی دباؤ پر جلد بازی میں منظور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کا مقصد پاکستان کو سیکولر ملک بنانا ہے جسے عوام نے مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور وفاقی وزیر قانون سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں علماء سے کیے گئے وعدے کو نبھائیں جس میں انہوں نے یقین دلایا تھا کہ قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون منظور نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اس قانون کے خلاف اپنی مہم کو جاری رکھے گی اور اسے قومی اسمبلی، سینٹ اور ایوان صدر تک پہنچائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اس قانون کو ختم نہیں کیا جاتا اور پاکستان میں شریعت نافذ نہیں کی جاتی ’ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے‘۔ پریس کانفرنس کے دوران متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں قومی اسمبلی ابوالخیر محمد زبیر، مولانا عبدالمالک، عبدالجلیل نقوی اور دیگر نے بھی خطاب کیا اور حقوق نسواں قانون کی خاتمے کا مطالبہ کیا۔ دریں اثناء جماعت الدعوہ نے بھارت میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والی لڑکی عشرت جہاں کے خاندان سے متعلق اپنی ویب سائیٹ پر غلط خبر شائع کرنے پر معذرت کی ہے۔ گزشتہ ماہ جماعت الدعوہ نے اپنے ہفت روزہ اخبار غزوہ کے ویب ایڈیشن میں یہ خبر شائع کی تھی کہ ’عشرت جہاں دراصل لشکر طیبہ کی رکن تھی اور اسے گجرات پولیس نے اس وقت گولی مارکر ہلاک کردیا تھا جب وہ اپنے شوہر کے ساتھ کار میں بیٹھی تھی۔‘ اپنی ویب سائیٹ پر جماعت الدعوہ پاکستان کے ترجمان عبداللہ منتظر نے اس خبر کی تردید اور وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ خبر غلط ہے اور ان کی ویب سائٹ کے ادارتی عملے کی غلطی سے شائع ہوئی ہے۔ | اسی بارے میں حافظ سعید:حکم نامہ کے بغیر نظر بند11 October, 2006 | پاکستان حافظ محمد سعید دوبارہ گرفتار29 August, 2006 | پاکستان لاہور: حافظ سعید کی رہائی کا حکم28 August, 2006 | پاکستان حافظ سعید نامعلوم مقام پر منتقل24 August, 2006 | پاکستان حافظ سعید کی نظر بندی چیلنج16 August, 2006 | پاکستان برطانیہ نہیں بھجوایا جا رہا: پاکستان15 August, 2006 | پاکستان لشکر طیبہ کے سابق سربراہ نظر بند10 August, 2006 | پاکستان جماعت الدعوۃ کے حق میں مظاہرہ09 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||