BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 December, 2008, 16:47 GMT 21:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ذکی الرحمٰن لکھوی نے اب تک کیا کیا؟
 ذکی الرحمان لکھوی
حافظ محمد سعید نے ذکی الرحمان لکھوی کو لشکر طیبہ کا امیر یا سربراہ مقرر کیا
کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے کمانڈر ذکی الرحمان لکھوی ممنوعہ تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کے قریبی ساتھی ہیں۔

حافظ محمد سعید نے اسّی کی دہائی میں جب مرکزِ دعوۃ والارشاد قائم کیا تو ذکی الرحمان لکھوی اس تنظیم میں شامل ہوگئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب افغانستان میں روس کے خلاف ’امریکی جہاد‘ شروع تھا۔ حافظ سعید اور ذکی الرحمان نے اپنے طور پر اس جہاد میں بھی حصہ لیا۔

اسی دوران سن انیس سن اٹھاسی میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح تحریک کا آغاز ہوا تو حافظ سعید نے اس مسلح تحریک میں شمولیت کا فیصلہ کیا اور انہوں نے نوے کی دہائی کے اوائل میں لشکر طیبہ کے نام سے عسکری تنظیم قائم کی اور سن ترانوے میں لشکر طیبہ کے جہادی بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہونا شروع ہوگئے۔

حافظ سعید نے اپنے ساتھی ذکی الرحمان کو کشمیر کے لیے تنظیم کا چیف آف آپریشنز مقرر کیا۔ دسمبر دو ہزار ایک میں ہندوستان کی پارلیمان پر حملے کے بعد امریکہ نے لشکر طیبہ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا اور اس کے بعد جنوری دو ہزار دو میں پاکستان نے بھی اس تنظیم پر پابندی عائد کردی۔

لیکن حافظ محمد سعید نے پارلیمان پر حملے کے فوراً بعد پابندی لگنے سے قبل لشکر طیبہ سے علیحدگی اختیار کی اور جماعت الدعوۃ کے نام سے نئی تنظیم بنائی اور یہ اعلان کیا کہ ان کی جماعت پاکستان میں فلاحی اور تعلیمی کاموں میں سرگرم رہے گی۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ لشکر طیبہ کے دفاتر کشمیر میں منتقل کیے جا رہے ہیں اور انہوں نے ذکی الرحمان لکھوی کو لشکر طیبہ کا امیر یا سربراہ مقرر کیا۔

ذکی الرحمان لکھوی کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ خود کبھی بھارت کے زیر انتظام کشمیر گئے ہیں البتہ ان کے ایک بیٹے دو سال قبل بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں فوج کے ساتھ لڑتے ہوئے ہلاک ہوگئے تھے۔ لکھوی لشکر طیبہ کے ان تین رہنماؤں میں ایک ہیں جن پر اسی سال مئی میں امریکہ نے پابندی عائد کی تھی اور اب اقوام متحدہ نے لگائی ہے۔

اسی بارے میں
حافظ سعید کی رہائی کا حکم
17 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد