BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 October, 2006, 07:07 GMT 12:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حافظ سعید کی رہائی کا حکم

حافظ محمد سعید
حافظ سعید کو ممبئی ٹرین دھماکوں کے بعد نظر بند کیا گیا تھا
لاہور ہائی کورٹ نے جماعت الدعوۃ اور کالعدم لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ محمد سعید کی نظر بندی کے خلاف رٹ درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

دو ماہ پہلے دس اگست کو پنجاب حکومت نے لاہور میں رہائیش پذیر مذہبی رہنما حافظ سعید کو پہلی بار نظر بند کیا تھا اور اٹھائیس اگست کو لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر رہائی کے چھ گھنٹے بعد انہیں دوبارہ نظر بند کردیا گیا تھا۔

شیخوپورہ ریسٹ ہاؤس میں پنجاب محکمہ داخلہ کے حکم پر نظر بند حافظ سعید کو سولہ اکتوبر تک ان کی نظر بندی کے تحریری احکامات مہیا نہیں کیے گئے تھے۔

ان کی بیوی میمونہ سعید نے لاہور ہائی کورٹ میں ان کی نظر بندی کے جواز کو چیلنج کرتے ہوئے ان کی رہائی کے لیے رٹ درخواست دائر کی تھی۔ جسٹس اختر شبیر نے اس درخواست کی سماعت کی۔

سوموار کو ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب حنیف کھٹانہ نے عدالت عالیہ میں نظر بندی کا تحریری حکم پیش کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ حافظ سعید ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور ان کی سرگرمیوں سے پاکستان کے اپنے ہمسایہ ملکوں سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔

آج حافظ سعید کے وکیل نذیر غازی نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ حافظ سعید کی سرگرمیوں سے ہمسایہ ملکوں چین، ایران اور افغانستان کو کوئی اعتراض نہیں جبکہ بھارت تو پاکستان کا دشمن ملک ہے اور وہ تو آئی ایس آئی پر بھی الزامات لگاتا رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ تحریری احکامات حافظ سعید کو نظر بند کرتے ہوئے مہیا نہیں کیے بلکہ ابھی بنائے ہیں اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ان پر کسی دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام عائد نہیں کیا۔

جسٹس اختر شبیر نے بھی کہا کہ حکومت نے نظربندی کا تحریری حکم بروقت مہیا نہیں کیا اور اگر ثابت کریں کہ انہیں یہ حکم نظر بندی کے وقت مہیا کیا گیا تھا۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ ہم حافظ سعید کے خلاف اقدام کرنے پر مجبور تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن کے لیے انہیں نظر بند کرنا ضروری تھا اور حکومت نظر بندی کی وجوہات ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔

جج نے حافظ سعید کی اہلیہ کی رٹ درخواست منطور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

گزشتہ جولائی میں بھارت کے شہر ممبئی بم دھماکوں میں تقریبا دو سو افراد کی ہلاکت کے بعد بھارتی حکومت نے حافظ سعید کی قائم کردہ ممنوعہ شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کو ان کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور حافظ سعید کی نظر بندی کا خیر مقدم کیا تھا۔

بھارت حکومت کا موقف ہے کہ حافظ سعید کی تنظیم لشکر طیبہ پاکستانی انٹیلیجینس ایجنسی آئی ایس آئی کی پیداوار ہے۔

تاہم حافظ سعید کی موجودہ تنظیم جماعت الدعوہ ان کے لشکر طیبہ سے تعلق سے انکار کرتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد