BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 December, 2008, 00:26 GMT 05:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں: زرداری

آصف علی زرداری
ہندوستانی حکام پاکستان پر ممبئی حملوں کا الزام لگا رہے ہیں
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ ممبئی حملوں میں پاکستان کا کوئی ہاتھ تھا۔

انہوں نے منگل کو سی این این کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے ایسی کوئی شہادت نہیں دیکھی کہ ہندوستانی حکام کی حراست میں موجود مبینہ دہشت گرد پاکستانی شہری ہے۔

آصف زرداری نے سی این این کے پروگرام ’لیری کنگ لائیو‘ میں کہا کہ ’میرے خیال میں یہ بے ملک کے لوگ ہیں جو پورے خطے میں کارروائیاں (دہشت گردی) کرتے رہتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’گن مین اور حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے، جو کوئی بھی ہیں، وہ بے ملک کے لوگ ہیں جنہوں نے پوری دنیا کو یرغمال بنا رکھا ہے۔‘

ہندوستانی حکام کھلے عام پاکستان پر شدت پسندوں کے حملے کا الزام لگا رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ مبینہ طور پر حملوں میں ملوث ہندوستان کو مطلوب افراد دلی کے حوالے کر دے۔

ہم تو خود متاثرین میں سے ہیں
 پاکستان کی ریاست اس میں ملوث نہیں ہے۔ یہی بات آج وائٹ ہاؤس اور امریکی سی آئی اے والے بھی کہہ چکے ہیں۔ پاکستان کی ریاست اس میں یقیناً ملوث نہیں ہے۔ ہم تو متاثرین میں سے ہیں، لیری۔ میں متاثر ہوں۔ پاکستان کی ریاست متاثر ہے۔ ہم اس جنگ کے متاثرین میں سے ہیں، مجھے ہندوستانیوں سے ہمدردی ہے، اور میں ان کے لیے دکھ محسوس کرتاہوں
آصف علی زرداری

آصف زرداری نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اس بات پر راضی ہیں کہ پاکستانی سکیورٹی اہلکار ہندوستانی حکام کے ساتھ مل کر تحقیقات کریں۔

انہوں نے لیری کنگ کو بتایا: ’پاکستان کی ریاست اس میں ملوث نہیں ہے۔ یہی بات آج وائٹ ہاؤس اور امریکی سی آئی اے والے بھی کہہ چکے ہیں۔ پاکستان کی ریاست اس میں یقیناً ملوث نہیں ہے۔ ہم تو متاثرین میں سے ہیں، لیری۔ میں متاثر ہوں۔ پاکستان کی ریاست متاثر ہے۔ ہم اس جنگ کے متاثرین میں سے ہیں، مجھے ہندوستانیوں سے ہمدردی ہے، اور میں ان کے لیے دکھ محسوس کرتاہوں۔‘

دوسری طرف پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں حکومت کی جانب سے ممبئی حملوں کے تناظر میں قومی سلامتی سے متعلق کل جماعتی کانفرنس نے حکومت اور فوج کو ملکی دفاع کے لیے تمام تر حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس میں طلب اس کانفرنس کا مقصد پاکستانی قیادت کی جانب سے ممبئی میں حملوں سے پیدا صورتحال کا جائزہ لے کر متفقہ پالیسی وضع کرنا تھا۔ تقریباً چھ گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس بند کمرے کے اجلاس کی صدارت وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کی۔

اجلاس کے مشترکہ اعلامیے کا اعلان وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس کے بعد صحافیوں کا سامنے کیا۔ اجلاس نے ممبئی واقعات اور اس کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف الزام تراشی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ شرکاء نے حکومت اور فوج کے ساتھ مل کر ملک کے دفاع کا عزم بھی دھرایا ہے۔

اسی بارے میں
فوج سے مل کر قومی دفاع کا عزم
02 December, 2008 | پاکستان
پاکستان ملوث نہیں: گیلانی
28 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد