فوج سے مل کر قومی دفاع کا عزم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت کی جانب سے ممبئی حملوں کے تناظر میں قومی سلامتی سے متعلق کل جماعتی کانفرنس نے حکومت اور فوج کو ملکی دفاع کے لیے تمام تر حمایت کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس میں طلب اس کانفرنس کا مقصد پاکستانی قیادت کی جانب سے ممبئی میں حملوں سے پیدا صورتحال کا جائزہ لے کر متفقہ پالیسی وضع کرنا تھا۔ تقریباً چھ گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس بند کمرے کے اجلاس کی صدارت وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کی۔ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے کا اعلان وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس کے بعد صحافیوں کا سامنے کیا۔ اجلاس نے ممبئی واقعات اور اس کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف الزام تراشی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ شرکاء نے حکومت اور فوج کے ساتھ مل کر ملک کے دفاع کا عزم بھی دھرایا ہے۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دائیں جانب جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان اور بائیں جانب حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے نواز شریف بیٹھے تھے۔ اجلاس میں مسلم لیگ (قاف) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین، متحدہ قومی موومنٹ کے فاروق ستار، جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی سمیت دیگر جماعتوں کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔ تاہم عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی علالت کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہیں ہوسکے۔ اعلامیے میں ممبئی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے بھارتی غم میں اظہار یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس نے بھارت کے ساتھ مثبت مذاکرات کا عمل جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اجلاس میں شریک عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے صحافیوں کو اس میں ہونے والی گفتگو کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ جو بھی اختلافی باتیں ہوئیں وہ اجلاس کے اندر تک تھی باہر سب متفقہ باتیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممبئی حملے کے بعد بھارتی حکومت نے دو خط لکھے ہیں جن میں سے ایک کا جواب حکومت پہلے دے چکی ہے جبکہ دوسرے کا آج دے دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں بھارت کی جانب سے بیس مطلوبہ افراد کو حوالے کرنے پر بھی غور کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ مطالبہ ہندوستان گزشتہ آٹھ برسوں سے کر رہا ہے۔ ’داؤد ابراہیم اور میمن ٹائیگر کے نام بتائے ہیں لیکن انہیں کیسے حوالے کیا جائے جب وہ پاکستان میں ہیں ہی نہیں۔‘ تاہم شاہ محمود قریشی کا مطلوبہ افراد کے بارے میں کہنا تھا کہ اگر بھارت انہیں ان کے بارے میں مزید ثبوت پیش کرتا ہے تو وہ ان کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔ ’ثبوت دیئے جائیں تاکہ اس بات کی تہہ تک پہنچا جائے۔ ہم دہشت گردی کا مل کر مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔‘ اجلاس کو وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے ممبئی حملوں سے پیدا مشکلات پر شرکاء کو بریف کیا۔ انہوں نے اس بابت عالمی رہنماؤں سے رابطوں کے بارے میں بھی بتایا۔ اجلاس کے آغاز سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے بھارتی میڈیا پر پاکستان کے خلاف الزام تراشی کو بےجا قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔ ادھر پارلیمان کی جانب سے قومی سلامتی امور سے متعلق کمیٹی کا ایک اجلاس بدھ تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمن نے کہا کہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل بدھ کے اجلاس میں بریفنگ دیں گے۔ | اسی بارے میں ’قومی کانفرنس‘ 58 جماعتیں آمادہ01 December, 2008 | پاکستان ممبئی: کل جماعتی کانفرنس کا مطالبہ29 November, 2008 | پاکستان کانفرنس: شرکت نہ کرنے کا اعلان30 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||