پیدل قافلے، گڑھی خدا بخش کی طرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلزپارٹی کی مقتول سربراہ اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی پہلی برسی کے انتظامات کو ملک بھر میں حتمی شکل دی جا رہی ہے ۔مختلف شہروں سے کارکنان کے پیدل قافلے گڑھی خدا بخش کے قریبی شہروں میں پہنچنے شروع ہوگئے ہیں ۔تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ ستائیں دسمبر کو گڑھی خدابخش میں پیپلزپارٹی کا سیاسی جلسہ ہوگا یا نہیں؟ سندھ کے وزیراعلی سید قائم علی شاہ ہفتے میں دوسری مرتبہ منگل کے روز گڑھی خدا بخش کے انتظامات کا جائزہ لینے پہنچے تھے ۔انہوں نے لاڑکانہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ستائیس دسمبر کوجلسہ ہوگا یا نہیں فیصلہ بعد میں کیا جائیگا ۔ان کا کہنا تھا کہ جلسہ ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ لاکھوں کارکنان بینظیر کو اپنی عقیدت کا نذرانہ پیش کرنےگڑھی خدا بخش پہنچیں گے۔ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ چھبیس دسمبر کو نو ڈیرو میں پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکیٹو کمیٹی کا اجلاس صدر پاکستان آصف علی زرداری کی زیرصدارت ہوگا جس میں تمام فیصلوں کو حتمی شکل دی جائے گی ۔تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ستائیس دسمبر کے اجتماع سے کون سے رہنماء خطاب کریں گے۔ سندھ کے وزیرداخلہ اور آصف زرداری کے قریبی دوست ذوالفقار مرزا نے سب سے پہلے ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ انہیں ستائیس دسمبر کے دن تخریبکاری کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے سندھ حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ گڑھی خدابخش میں مرکزی اجتماع سے گریز کیا جائے ۔
ذوالفقار مرزا نے سکھر میں پریس کانفرنس کےدوران کہا تھا کہ انہوں نے پارٹی کو تجویز دی ہے کہ ہر ضلعی ہیڈکوارٹر میں بینظیر کی برسی کے اجتماعات کیے جائیں جن کے حفاظت کے انتظامات با آسانی سنبھالے جا سکتے ہیں۔ سندھ کے وزیراعلی کا کہنا ہے کہ ستائیں دسمبر کوگڑھی خدا بخش کے اجتماع کو سیاسی جلسہ نہیں لاکھوں کارکنان کی اپنی قائد کو سلامی کہا جائے۔ پیپلزپارٹی لاڑکانہ کے ضلعی صدر اور وزیرقانون محمد ایاز سومرو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے گڑھی خدا بخش میں لاکھوں افراد کی آمد کے حوالے سے انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے ۔بینظیر بھٹو کے مزار کے سامنے جلسہ گاہ کی سیمنٹ سے فرش بنانے کا کام تیزی سے جاری ہے ۔تاہم بارشوں کی وجہ سے میدان میں پانی جمع ہوگیا ہے جس کو نکالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ گڑھی خدابخش بھٹو میں ستائیں دسمبر کے دن ایک لاکھ لوگوں کی آمد متوقع ہے جن کی رہائش کے لیے عارضی کیمپ قائم کیے جا رہے ہیں اور ان کے کھانےکا بندوبست بھی کیا جائیگا ۔ وزیراعلی قائم علی شاہ کے مطابق ستائیس دسمبر کے اجتماع کے موقع پر پانچ ہزار پولیس اہلکار حفاظتی انتظامات سنبھالیں گے۔جبکہ رینجرز کی اضافی نفری اور پیپلزپارٹی کے ایک ہزار کارکنان پولیس کی مدد کریں گے۔ گڑھی خدابخش میں واک تھرو گیٹ نصب کیے جائیں گے تاکہ ہر شخص کی تلاشی لی جا سکے ۔ پیپلزپارٹی کی حکومت کے تمام تر انتظامات کے باوجود ان کے بعض وزراء کے بیانات نے عام کارکنان کو سیاسی جلسے کے بارے میں مبہم بنا دیا ہے ۔ تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ بینظیر بھٹو کی پہلی برسی کے موقع پر سیاسی اجتماع ہوگا یا نہیں ؟ اگر ہوگا تو کون سے رہنماء اس اجتماع سے خطاب کریں گے |
اسی بارے میں بینظیر بھٹو کی میت لاڑکانہ پہنچ گئی27 December, 2007 | پاکستان بینظیر بھٹو قاتلانہ حملے میں ہلاک27 December, 2007 | پاکستان بینظیر بھٹو، مشورے اور مجبوریاں19 November, 2007 | پاکستان بی بی کی FIR کیلیے درخواست21 October, 2007 | پاکستان بینظیر کی ریلی میں دو دھماکے، 125 افراد ہلاک18 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||