BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 December, 2007, 08:30 GMT 13:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جمہوریت کی بیٹی نہیں رہی‘

ہندوستانی میڈیا نے بینظیر کے قتل کو پاکستان میں جمہوری عمل کا قتل بتایا

پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے گزشتہ شام راولپنڈی میں جارحانہ قتل کو مختلف ہندوستانی اخبارات، ٹی وی چینلز اور ویب سائٹس نے پاکستان میں جمہوریت کا قتل قرار دیا ہے۔

جمعرات کی شام سے آج صبح تک ٹی وی چینلز پر ہر جگہ بے نظیر کے قتل کی خبر چھائی ہوئی ہے اور اخبارات میں بے نظیر کی موت سے لیکر ان کی سیاسی، ذاتی زندگی پر تجزیے شائع ہوئے ہیں۔

اخبارات کے صفحہ اول سے لیکر آخری صفحات تک ہر طرف بے نظیر چھائی ہوئی ہیں۔ گزشتہ تین ماہ میں یہ دوسری بار ہے جب ہندوستانی اخبارات میں ہر طرف بے نظیر دکھائی دے رہی ہیں۔ ایک بار وہ جب اخبارات میں چھائی رہیں جب وہ نو برس کی خود ساختہ جلا وطنی کے بعد واپس پاکستان پہنچی تھیں اور ایک بار آج جب وہ اس دنیا میں نہیں رہیں ہیں۔

انگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ نے بے نظیر بھٹو کے قتل کو پاکستانی میں 8جنوری کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے بڑا جھٹکا بتایا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ بے نظیر کے قتل کے پیچھے کوئی ذاتی دشمنی نہیں بلکہ ایک سیاسی چال ہے۔ ان کا قتل امریکہ کے ساتھ بے نظیر کی دوستی اور پاکستان میں جمہوریت کو دھچکا دینے کے لیے کیا گیا ہے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ نواز شریف کی طرح بے نظیر میں سیاست کا جنون تھا اور امریکہ اوربعض اندرونی طاقتور لیڈروں کے کہنے پر وہ پاکستان واپس آئیں اور اپنی پارٹی پی پی پی کو زندگی بخشنے کے چکر میں وہ خود ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

’انڈین ایکسپریس‘ میں بے نظیر بھٹو کے اوکسفورڈ یونیورسٹی میں انکے ہم جماعت رہے شیام بھاٹیہ نے اوکسفورڈ کے دنوں اور بی بی کے ساتھ اپنی دوستی کو یاد کرتے ہوئے لکھا ہے ’ بے نظیر بھٹو اپنے دوستوں کے تئیں وفا دار، سیکولر اور کھلے دماغ کی خاتون تھیں۔‘

اخبار ’ دا ایشن ایج‘ نے بے نظیر کے کی راولپنڈی کی تقریر کے بعد لی گئی انکی آخری تصویر کو شائع کیا ہے اور لکھا ہے۔’ آ ہوپ از لوسٹ ‘ یعنی پاکستان میں جمہوریت کی امید کی کرن کھو گئی ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ بے نظیر مسلم ورلڈ کی ایسی خاتون سیاست داں تھیں جو پیدا ہی ایک جمہوری نظریے کے ساتھ ہوئیں تھیں۔

سیکولر بے نظیر بھٹو
 بے نظیر بھٹو اپنے دوستوں کے تئیں وفادار، سیکولر اور کھلے دماغ کی خاتون تھیں۔
شیام بھاٹیہ، اوکسفورڈ یونیورسٹی میں بے نظیر کے ہم جماعت
کئی اخبارات نے بے نظیر کی موت کو مسلم ممالک میں سیاست میں خواتین کی موت قرار دیا ہے۔

اخبار ’دا ٹائمز آف انڈیا‘ کی شہ سرخی کہتی ہے’ ریٹرنڈ، اونلی ٹو بی کلڈ‘ یعنی بے نظیر کا پاکستان میں واپس آنا موت کو دعوت دینا تھا۔ اخبار نے کہا ہے کہ عالمی سیاست میں بھٹو، گاندھی اور کینیڈی خاندان کی ایک جیسی تاریخ رہی ہے۔ گاندھی خاندان کی طرح بھٹو خاندان نے بھی اپنے نظریے اور سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے اپنی جان کی بازی لگائي ہے۔

تمام اخبارات اور ٹی وی چینلز میں تجزیہ کاروں نے بے نظیر کی موت کو بھٹو خاندان اور اسکے نظریے کی موت بتائی ہے۔ ہر طرف ایک ہی سوال پوچھا جارہا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے بعد پی پی پی کو جان کون بخشے گا۔ کیا پی پی پی کو بے نظیر اور انکے والد جیسا وارث جلدی مل پائے گا؟

اخبار’دا ٹائمز آف انڈیا‘ نے لکھا ہے کہ بے نظیر کی موت کے بعد یہ بات صاف ہے کہ پاکستان میں شدت پسند ایک حد سے زیادہ مضبوط ہوچکے ہیں اور ہو سکتا ہے اس کے ہندوستان کی سکیورٹی پر بھی اثرات مرتب ہوں۔

اخبار ’دا پائنیئر‘ نے بے نظیر کو ایک ’فائٹر‘ بتایا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان میں اپنی پارٹی کو زندگی بخشنے اور جمہوریت کے عمل کے نفاذ کے لیے آخری وقت تک اپنی لڑائی جاری رکھی۔

جان کی بازی
 عالمی سیاست میں بھٹو، گاندھی اور کینڈی خاندان کی ایک جیسی تاریخ رہی ہے۔ گاندھی خاندان کی طرح بھٹو خاندان نے بھی اپنے نذریعے اور سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے اپنی جان کی بازی لگائي ہے۔
انگریزی اخبار، دا ٹائمز آف انڈیا
ہندوستان اور پاکستان کے سیاسی رشتوں پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار سعید نقوی نے ایک نجی ٹی وی چینل میں کہا ہے کہ بے نظیر کو سیاست کا جنون تھا۔ سیاسیت کےگر انہوں نے اپنے والد ذالفقار علی بھٹو سے سیکھی تھیں لیکن ان میں ایک سیاست داں کی چالاکیاں نہیں تھیں اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے امریکہ کے ساتھ اپنے رشتوں کو نہیں چھپایا اور وہی آخر میں انکی موت کا سبب بنے۔

تجزیہ کار کرن تھاپر نے ایک تحریر میں کہا ہے کہ بے نظیر بھٹو ایک زندہ دل خاتون تھیں جن کے تین رول ماڈل تھے خود انکے والد ذوالفقار علی بھٹو، ہندوستان کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی اور جان آف آرک۔

اردو اخبار ’ہندوستان ایکسپریس‘ نے لکھا ہے: ’ بے نظیر آخر کار تاریخ کا حصہ بن گئیں۔ ایک ایسی تاریخ کا حصہ جہاں امن، سکون اور اطمینان کے لیے شاید کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

اخبار نے لکھا ہے: ’ بے نظیر کے خون سے مشرف کے ہاتھ سرخ ‘۔ بعض اخبارات نے بے نظیر کی موت کو پاکستان کی تاریخ میں سیاست کا سب سے بڑا قتل قرار دیا ہے تو کسی نے جمہوریت کا قتل تو کسی نے انہیں جمہوریت کی بیٹی بتایا ہے۔

اخبارات نے یہ بھی لکھا ہے کہ پاکستان ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں ایک آمر کے دور میں ’ وائس آف ڈِسینٹ ‘ یعنی مخالفت کی بلند آواز ویسے ہی کانوں میں کم سنائی پڑتی ہے اور اگر یہ آواز ایک خاتون کی ہو تو نا ممکن۔ لیکن بے نظیر نہ صرف ایک سیاسی مخالفت کی آواز تھیں بلکہ پاکستان اور مسلم سماج میں وہ ایک واحد ایک خاتون آواز تھیں جسے ’ شدت پسندوں ‘ نے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا ہے۔

اخبارات’بینظیر بھٹو شہید‘
بینظیر کو اخبارات کا بعد از موت خراج عقیدت
سٹاک ایکسچینجبینظیر قتل
ایشیائی حِصص بازاروں میں مندی کا رحجان
پیپلز پارٹی کی ریلیصرف تیس
سندھ میں تیس خواتین انتخابات لڑ رہی ہیں
بے نظیرلاڑکانہ کے لیے روانہ
ہسپتال میں ہمارے نمائندے نے کیا دیکھا۔۔۔
بینظیر بھٹوغم اور غصہ
بےنظیر کی ہلاکت، ملک گیر احتجاج
اسی بارے میں
بینظیر بھٹو کی آخری تقریر
27 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد