لاڑکانہ: ملک بھر سے کارکنوں کی آمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلزپارٹی کی مقتول سربراہ بینظیر بھٹو کی پہلی برسی میں شرکت کرنے کے لیے ان کی جماعت کے ہزاروں کارکن گڑھی خدابخش بھٹو پہنچ گئے ہیں۔ کارکنان کو مخصوص حفاظتی دروازوں میں سے گزرنے کے بعد جلسہ گاہ میں داخل ہونے دیا جا رہا ہے۔ پاکستان بھر سے آئے ہوئے ان کارکنوں کی گاڑیاں جلسہ گاہ سے دو کلومیٹر دور بنائی گئی پارکنگ ایریا میں کھڑی کی جا رہی ہیں اور ماضی کےجلسوں کے برعکس کسی گاڑی کو جلسہ گاہ کےقریب جانے کی اجازت نہیں ہے۔ چھوٹے سے گاؤں اور بھٹو کے آبائی قبرستان گڑھی خدابخش بھٹو کی طرف جانب والے تمام راستوں پر سیمنٹ کے بلاک کی رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں، وہاں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔ بینظیر بھٹو کی مزار کے اندر صبح سے سینکڑوں کارکنان کی طرف سے فاتحہ خوانی کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب بینظیر بھٹو کی بہن صنم بھٹو نے اپنے بچوں کے ہمراہ ستائیس دسمبر کی صبح ان کی قبر پر فاتح کی ہے اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔
پیپلزپارٹی کے ضلعی صدر ایاز سومرو کے مطابق قرآن خوانی کے بعد ایک قومی مشاعرہ منعقد ہوگا جس میں ملک بھر سے آئے ہوئے شعراء بینظیر بھٹو کو اپنی شاعری سے خراج عقیدت پیش کریں گے، پھر لنگر تقسیم کیا جائیگا۔ انہوں نے بتایا ہے کہ شام پانچ بجے کے بعد بینظیر کی ہلاکت کے وقت پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائیگی جس کے بعد آصف زرداری نوڈیرو ہاؤس میں سے جلسے سے ٹیلیفون کے ذریعے خطاب کریں گے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا ایک رسمی اجلاس گزشتہ رات نوڈیرو ہاؤس میں پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اطلاعات و نشریات کی وفاقی وزیر شیری رحمان نے بتایا ہے کہ اجلاس میں بینظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی نظریات پر عمل کرنے کا عہد کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ حفاظتی خدشات کی وجہ سے آصف علی زرداری گڑھی خدابخش بھٹو میں عوامی اجتماع سے ٹیلیفون پر خطاب کریں گے۔ زرداری نوڈیرو ہاؤس میں اپنی جماعت کے صوبائی اور وفاقی وزراء سمیت اسمبلی ارکان سے خطاب کریں گے جو سرکاری ٹیلیوژن پر براہ راست دکھایا جائیگا۔ |
اسی بارے میں ’بینظیر کے قاتل بےنقاب کیے جائیں‘26 December, 2008 | پاکستان ’قاتل ہم سے چپ رہنے کا وعدہ لے گئے‘26 December, 2008 | پاکستان ’بینظیر کو آج بھی مس کرتے ہیں‘26 December, 2008 | پاکستان سال بیت گیا، قاتلوں کا سراغ نہ ملا26 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||