احمد رضا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | بےنظیر بھٹو کا قتل پاکستان میں مقبول عوامی لیڈرز کے سلسلے کی کڑی ہے |
کراچی میں جمعہ کی شام انسانی حقوق کے کارکنوں نے سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کی پہلی برسی کے حوالے سے شمعیں جلائیں اور خاموش مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ حکومت بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو بے نقاب کرکے سزائیں دے۔اس مظاہرے کا اہتمام ویمن ایکشن فورم نے کیا تھا۔ مظاہرے میں شریک ویمن ایکشن فورم کی رہنما انیس ہارون نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت ایک سال گزر جانے کے باوجود اب تک بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو بے نقاب نہیں کرسکی ہے جو کہ ایک افسوسناک بات ہے۔ ’قاتلوں کو سزائیں دینا تو دور کی بات حکومت اب تک یہ بھی نہیں بتاسکی ہے کہ بے نظیر کو کس نے مارا۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں اور ہر ایک کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ آخر کس نے بے نظیر کو قتل کیا‘۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نہ صرف ایک سیاستدان تھیں بلکہ پاکستان میں خواتین کی ترقی کی علامت تھیں اور انہوں نے خواتین کے لیے بہت سے راستے کھولے۔ انیس ہارون کے بقول بےنظیر بھٹو نے جو کچھ کیا اسی کا نتیجہ ہے کہ آج پارلیمنٹ میں خواتین کی بہت بڑی تعداد نظر آتی ہے۔ مظاہرے میں شریک انسانی حقوق کمیشن کے رہنما اقبال حیدر نے کہا کہ بےنظیر بھٹو کا قتل پاکستان میں مقبول عوامی لیڈرز کے اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میں لیاقت علی خان اور ذوالفقار علی بھٹو کو مارا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ لیاقت علی خان اور بے نظیر بھٹو کے قتل میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور اس دور کے حکمران ملوث ہیں ’اسی لیے بےنظیر صاحبہ نے وطن آنے سے پہلے مارک سیگل کو لکھے گئے ای میل میں واضح طور پر یہ کہہ دیا تھا کہ اگر میرا قتل ہو تو سمجھ لینا کہ پرویز مشرف اور ان کے حواریوں نے کیا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو ملک کے سیاستدانوں کے قتل پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے کی روایت کو بدلنا پڑے گا۔
|