بینظیر کا قتل: کئی سوال تشنۂ جواب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک کی اہم سیاسی شخصیت بینظیر بھٹو کو قتل ہوئے ایک سال ہوگیا ہے۔انہیں گزشتہ برس راولپنڈی کے لیاقت باغ کے باہر ایک خودکش حملے میں پچیس دیگر افراد سمیت ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پاکستان کی تاریخ کے اس ایک اہم ترین قتل کے پیچھے کون لوگ تھے یہ معمہ اب تک حل نہیں ہوسکا۔ قتل کے فورا بعد جائے وقوع کی دھلائی سے جو شکوک و شبہات پیدا ہوئے کہ قاتلوں کو چھپایا جا رہا ہے وہ مبصرین کے نزدیک آج سچ ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ اُس وقت کی نگران حکومت اس واقعے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی اس نتیجے پر پہنچ گئی تھی کہ بےنظیر بھٹوکے قتل میں قبائلی جنگجو بیت اللہ محسود ملوث ہے۔ وزارت داخلہ نے صحافیوں کو اس ضمن میں ایک ریکارڈنگ بھی سنائی جس میں بیت اللہ کو اپنے ایک ساتھی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سنایا گیا۔ تاہم اس ٹیپ میں یہ کہیں بھی ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ وہ بےنظیر بھٹو کے قتل کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔ حکومت نے اس واقعہ کے چوبیس گھنٹوں میں تین مرتبہ اپنا موقف تبدیل کیا۔ پہلے وزارت داخلہ نے بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کی وجہ گولی اور بعد میں بم کا ٹکڑا قرار دیا تھا۔
اور پھر اُن کی موت کی وجہ اُن کا سر گاڑی کی چھت کے ایک لیور سے ٹکرانے کو قرار دیا۔ ایک غیرملکی ٹی وی چینل نے دعویٰ کیا تھاکہ اسے ملنے والی ایک ویڈیو سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو کو سر میں گولی لگی تھی۔ اس دعوے نے حکومتی موقف کو مزید مشکوک بنا دیا۔ اس مقدمے کی تفتیش کے لیے پنجاب پولیس کے کرائم انسوسٹیگیشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ چوہدری عبدالمجید کی سربراہی میں ایک مشترکہ تفیشی ٹیم بنائی گئی جس میں پولیس کے علاوہ اٹیلیجنس بیورو اور آئی ایس آئی کے اہلکار بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ بےنظیر بھٹو کے قتل کی تفتیش میں تکنیکی معاونت کے لیے سکاٹ لینڈیارڈ کی ٹیم چار جنوری کو پاکستان آئی۔ اس ٹیم نے اپنی تفتیش کے دوران حکومت کے موقف کی تائید کی کہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کی وجہ اُن کا سر کا کسی آہنی چیز ٹکرانا تھا۔ تاہم اُس وقت پیپلز پارٹی نے یہ موقف تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔اس غیر ملکی تفتیشی ٹیم کو یہ مینڈیٹ نہیں تھا کہ وہ مشکوک افراد سے پوچھ گچھ کریں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس سال جنوری میں ڈیرہ اسماعیل خان سے قتل میں ملوث ہونے کے شبہے میں اعتزاز شاہ اور شیر زمان کو گرفتار کر لیا جس کے بعد راولپنڈی سے محمد رفاقت، حسنین گل اور قاری عبدالرشید کو گرفتار کیا گیا۔ ملزم محمد رفاقت کے والد صابر حسین کا کہنا ہے کہ اُن کا بیٹا اور اُن کا داماد حسنین گل بےنظیر بھٹو کے قتل میں ملوث نہیں ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ان کا بیٹا پانچ جنوری سے لاپتہ تھا جس کی گمشدگی کی رپورٹ متعلقہ تھانے میں درج کروانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے اُن کی رپورٹ درج نہیں کی اور بعدازاں اُنہیں سات فروری کو میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ ان کا بیٹا اور داماد بینظیر بھٹو کیس میں پولیس کی حراست میں ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے اُن کے بیٹے اور داماد پر پستول اور ہینڈ گرنیڈ بھی ڈال دیئے تھے۔ واضح رہے کہ راولپنڈی پولیس نے رفاقت اور حسنین گل کو جی ایچ کیو کے قریب خودکش حملے میں بھی نامزد ملزمان قرار دیا ہوا ہے۔ راولپنڈی پولیس نے پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن کے قتل کے مقدمے کا چالان وقوعہ کے تین ماہ کے بعد ہی عدالت میں پیش کریا گیا تھا۔یہ پیش کردہ چالان گرفتار ملزمان کے مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرائے گئے اقبالی بیانات پر مبنی ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اس چالان کی روشنی میں بےنظیر بھٹو قتل کی سازش کا منصوبہ ساز پاکستانی طالبان شدت پسندوں کے رہنما بیت اللہ محسود کو قرار دیا اور ان سمیت بعض ملزمان کو مفررو ظاہر کیا ہے۔ بےنظیر بھٹو کی لاش کاپوسٹ مارٹم نہ ہونے کی وجہ سے اس معاملے کی تفتیش اُس طرح نہیں ہوسکی جس طرح قتل کے دوسرے مقدمے میں پولیس تفیش کرتی ہے۔اسی طرح بےنظیر بھٹو کی سکیورٹی پر مامور ایس ایس پی میجر ریٹائرڈ امتیاز کا بیان بھی پولیس نے قلمبند نہیں کیا۔ اس واقعہ کے عینی شاہد ابن رضوی کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کی تفتیش ابھی تک شروع ہی نہیں ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد میں سے کسی کا پوسٹ مارٹم نہیں کروایا اور نہ ہی اُس مبینہ دہشت گرد کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا گیا ہے جس نے خودکش حملہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر جب حملہ ہوا تھا تو پولیس نے تین روز کے اندر اس حملے میں ملوث افراد کا سراغ لگا کر اُن کو گرفتار کر لیا لیکن اس مقدمے میں پولیس اصل ملزمان تک نہیں پہنچ سکی۔
اس مقدمے کی تفتیش میں معاونت کرنے والے راولپنڈی پولیس کے شعبہ تفتیش کے سربراہ رانا شاہد کا کہنا ہے کہ پولیس نے اس ضمن میں جن افراد کو گرفتار کیا ہے اُن کے خلاف بےنظیر بھٹو قتل میں ملوث ہونے کے اہم شواہد ملے ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں ملزمان کا اقبالی بیان کافی اہم ہے۔ رانا شاہد نے کہا کہ عدالت نے اس مقدمے میں قبائلی شدت پسند بیت اللہ محسود سمیت پانچ افراد کو اشتہاری قرار دیا ہے۔ ایس پی انوسٹیگیشن نے کہا کہ اس مقدمے میں اشتہاری قرار دیئے جانے والے افراد میں سے دو افراد سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہوچکے ہیں جن میں اسماعیل اور دلاور شامل ہیں۔ اس مقدمے میں سرکاری وکیل سردار اسحاق نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس مقدمے میں ملزمان کے خلاف جو شواہد عدالت میں جمع کروائے گئے ہیں وہ اُنہیں مجرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان رفاقت، حسنین گل اور عبدالرشید کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں جبکہ اعتزاز شاہ اور شیر زمان پر قتل کی دفعات لاگو نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں ایک سو کے قریب گواہان ہیں اور اس مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہونے کی وجہ سے اس میں تاخیر ہو رہی ہے۔
اُس وقت کے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے بےنظیر بھٹو پر ہونے والے خودکش حملے کی جگہ کو دھونے کو راولپنڈی پولیس اور انتظامیہ کی نااہلی قرار دیتے ہوئے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا۔پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی ہیڈ کوراٹر کی سربراہی میں بننے والی اس کمیٹی نے اپنی تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ حکومت پنجاب کو پیش کی۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس کمیٹی کی رپورٹ میں اُس وقت کے سٹی پولیس افسر سعود عزیز کو ذمہ دار کو ٹھہرایا گیا جس کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں کا کہنا تھا کہ وہ اس پولیس افسر کے خلاف کارروائی کریں گے لیکن اس جماعت کے برسر اقتدار آنے کے بعد اس پولیس افسر کو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے آبائی شہر ملتان میں پولیس کا سربراہ مقرر کردیا گیا۔سعود عزیز کا موقف ہے کہ پولیس نے جائے حادثہ سے تمام ضروری شواہد حاصل کرنے کے بعد اُسے دھویا تھا۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں بےنظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس پر خود کش حملے کے بعد اگر پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن اس واقعہ کی دوبارہ ایف آئی آر درج کرواسکتے ہیں تو اب اس وقت جب یہ جماعت برسراقتدار ہے تو بےنظیر بھٹو کے قتل کی دوبارہ آیف ائی ار درج کیوں نہیں کرواتی؟ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت بے نظیر بھٹو کے اُس خط کو اس مقدمے کی تفیش کرنے والی ٹیم کے حوالے کیوں نہیں کرتی جس میں اُنہوں نے خود کو کچھ ہونے کی صورت میں ذمہ داران کے نام لیے تھے۔ |
اسی بارے میں افسران کی عدم موجودگی کا نوٹس03 January, 2008 | پاکستان ’برطانوی مدد کیسے یاد آگئی‘02 January, 2008 | پاکستان ’تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جائے‘03 January, 2008 | پاکستان ’حکومت ملزم بچاؤ مہم میں مصروف‘ 03 January, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||