BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 December, 2008, 14:42 GMT 19:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بینظیر کو آج بھی مس کرتے ہیں‘

بھٹو
’سیاسی تماشے سے قبل گڑھی خدابخش بھٹو سے نکل کر قلندر شہباز کی مزار پر سیہون چلی جائیں گی تاکہ بینظیر کے لیے دعا کر سکیں‘
پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی ہلاکت کو ایک برس مکمل ہوا ہے مگر ان کی قبر پر پیپلز پارٹی کےکارکنان کےساتھ ساتھ ایسے عقیدت مندوں کا بھی رش رہتا ہے جن کا سیاست سے دور دور کا تعلق نہیں ہے۔

وہ صرف بینظیر کی محبت میں گڑھی خدابخش بھٹو کا سفر ایسے کرتے ہیں جیسے وہ سیہون کے شہباز قلندر یا بری امام کی مزار پر حاضری دیتے ہیں۔

گڑھی خدابخش بھٹو میں بینظیر بھٹو کی پہلی برسی کے موقع پر جمع ہونے والے سینکڑوں کارکنان میں گجرات کےلالہ موسیٰ شہر سے آئی ہوئی عصمت بی بی ذرا الگ تھلگ بیٹھی ہوئی تھیں۔

پچاس سال سے زائد عمر کی عصمت بی بی کراچی سے آئی ہوئی بینظیر کی ایک اور عقیدت مند سہراب گوٹھ کی مائی بصراں سے مونگ پھلی مل بانٹ کر کھا رہی تھیں۔ ان کے گلے میں بینظیر اور ذوالفقار علی بھٹو کی پلاسٹک فریم کی ہوئی چھوٹی تصاویر پڑی تھیں۔

عصمت بی بی کی تمام انگلیاں مختلف روحانی تاثیر والی انگوٹھیوں سے بھری ہوئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کی دعا انہوں نے شہباز قلندر سے مانگی تھی جو بقول ان کے چار سال بعد پوری ہوئی۔

عصمت بی بی بہت خوش تھیں کہ ان کی دعا قبول ہوگئی ہے اور بینظیر واپس وطن پہنچ گئی ہیں۔ مگر عصمت بی بی کے مطابق جب اٹھارہ اکتوبر کا دھماکہ ہوا تو پھر دوبارہ وہ بری امام کے پاس چلی گئیں کہ بینظیر کی خیریت ہو۔

بینظیر اپنی انتخابی مہم چلاتی رہیں اور لالہ موسیٰ کی عصمت بی بی ان کی خیریت کی دعائیں مانگتی رہیں مگر مختلف جہانوں کی دونوں سیلانیوں کی آپس میں ملاقات نہ ہوسکی۔

عصمت بی بی کےمطابق ان کا بہت دل تھا کہ بینظیر سے ملاقات ہوسکے مگر وہ جلسوں میں مصروف تھیں اور میں بری امام اور قلندر کی مزاروں پر مصروف۔

جب ستائیں دسمبر کے دن بینظیر کی ہلاکت ہوئی تو عصمت بی بی لاہور کے ایک سید زادے کے پاس تھیں۔ ان کو جب بینظیر کی ہلاکت کی خبر ملی تو وہ پاگلوں کی طرح سڑکوں پر نکل پڑیں مگر سید کے مریدوں نے عصمت کو کمرے کے اندر تالا لگا کر بند کر دیا۔

عصمت کےمطابق انہوں نے دوسرے دن ہاتھ باندھ کر اپنی رہائی کی گذارش کی اور وہ سیدھی بری امام چلی گئیں جہاں انہوں نے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں بینظیر کےایثال وثواب کے لیے قرآن خوانی کروائی اور لنگر تقسیم کیا۔

عصمت بی بی کے ایک بیٹے امریکہ میں مقیم ہیں اور ان کی بیٹی بھی امریکہ روانہ ہونے کے لیے پر تول رہی ہیں مگر ان کے بقول انہیں پاکستان میں ہی رہنا ہے۔

عصمت بی بی کا کہنا تھا کہ وہ ستائیس دسمبر کے سیاسی تماشے سے قبل گڑھی خدابخش بھٹو سے نکل کر قلندر شہباز کی مزار پر سیہون چلی جائیں گی تاکہ بینظیر کے لیے دعا کر سکیں۔


عصمت کو یقین ہوگیا ہے کہ بینظیر ولی بن گئی ہیں۔ ایک مرتبہ انہوں نے بینظیر کے مزار پر گرمی کی شکایت کی اور ان کے بقول جب وہ قلندر کی مزار کے قریب پپہنچی تو بارش شروع ہوگئی۔

بینظیر بھٹو کی برسی کےموقع پر پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکنان اور عقیدت مندوں کے ساتھ ساتھ بعض ان کے سیاسی مخالفین بھی گڑھی خدابخش بھٹو پہنچے ہوئے ہیں۔

فیصل آباد کے نوجوان مسلم لیگی کارکن محمد افضل بھی ان میں شامل ہیں۔ محمد افضل کےمطابق وہ پہلی مرتبہ سندھ میں گڑھی خدابخش بھٹو یہ دیکھنے پہنچےہیں کہ وہ دھرتی کیسی ہے جس نے بھٹو جیسے رہنماء پیدا کیے ہیں۔

محمد افضل نے کہا کہ وہ زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگانے والوں میں سے نہیں ہیں اور وہ بھٹوز کی سیاست کو سمجھنے کے لیے بینظیر کی برسی کےموقع پر پہنچے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر کے سخت مخالف مسلم لیگ نواز میں رہے ہیں اور انہوں نے بینظیر بھٹو کے خلاف ماضی میں سخت الفاظ بھی استعمال کیے ہیں مگر ستائیس دسمبر کی شام بینظیر کی ہلاکت پر انہیں دلی افسوس ہوا تھا۔ وہ خود بھی نہ سمجھ سکے تھے کہ انہیں افسوس کیوں ہو رہا ہے۔ بقول افضل ہم تو بینظیر کےمخالف تھے پھر بھی احساس ہوا کہ پاکستان کا نقصان ہوا ہے۔

محمد افضل کا کہنا تھا کہ انہیں گڑھی خدا بخش پہنچ کر احساس ہوا ہے کہ فوجی جنرلوں نے پاکستان کا کتنا نقصان کیا ہے۔ پہلے ہم نے ذوالفقار علی بھٹو کھویا اور اب بینظیر بھٹو سے محروم ہیں۔ انہوں نے آہستہ سے کہا ’ہم بینظیر کو آج بھی مس کرتے ہیں۔‘

بینظیر ’صرف خواتین کیلیے‘
انکم سپورٹ پروگرام بینظیر کی برسی پر
کئی سوال تشنۂ جواب
’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں ‘
دس روپے کا سکہ
بینظیر کی پہلی برسی پر نئے سکے کا اجراء
بینظیر بھٹوبینظیر کی برسی
عام تعطیل اور ڈاک کے خصوصی ٹکٹ کا فیصلہ
بینظیر بھٹوبینظیر انکم سپورٹ
غریبوں کے لیے بینطیر بھٹو انکم سپورٹ تیار
اسلام آباد ائرپورٹسالگرہ کا تحفہ
اسلام آباد ائرپورٹ کا نام بینظیر ائرپورٹ
فوجیوں کی تنقید
کارگل پلان قابل عمل نہیں تھا: سلیم حیدر
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد