شناختی کارڈ: فتووں کی مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن فرزانہ راجہ نے مقامی طالبان کی جانب سے قبائلی علاقے میں سرکاری امداد کے لیے خواتین کے شناختی کارڈ بنوانے پر پابندی کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہ چند لوگ اپنی لاعلمی کی وجہ سے منصوبے کے بارے میں فتوے دے رہے ہیں۔ سوموار کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے فرزانہ راجہ نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو اسلامی روایات اور عورت کی چادر، چار دیواری کے تحفظ کو مد نظر رکھتے ہوئے شروع کیا گیا ہے جس کے تحت قبائلی علاقے کی خواتین کو گھروں میں شناختی کارڈ بنوانے کی سہولت دی گئی ہے۔ جبکہ امدادی رقم بھی ڈاکخانہ کے ذریعے گھروں میں فراہم کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ چند لوگ قبائلی علاقے میں غلط تاثر پھیلا رہے ہیں کہ خواتین کے شناختی کارڈ کے لیے تصویر لازمی ہے ۔ اگرچہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل ہونے کے لیے قومی شناختی کارڈ لازمی ہے لیکن حکومت پہلے سے ہی قبائلی علاقے کی خواتین کو شناختی کارڈ کے لیے تصویر کی شرط سے مثتثنی قرار دے چکی ہے ، حالانکہ سعودی عرب جیسے ملک میں خواتین کے شناختی کارڈ کے لیے تصویر لازمی ہے۔ یاد رہے کہ اتوار کے روز پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے ایک پمفلٹ تقسیم کیا ہے جس کے مطابق سرکاری امداد اور دیگر تعلیمی امور کے لیے خواتین کے شناحتی کارڈ بنوانے پر پابندی ہو گی۔ جبکہ علاقے کی دو سو خواتین نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے شناختی کارڈ کے فام جمع کروائے ہیں ۔ فرزانہ راجہ نے مقامی طالبان کی جانب سے خواتین کے شناختی کارڈ بنوانے پر پابندی کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی میں رہنے والے ہر شخص کا فرض بنتا ہے کہ وہ غریب خاندانوں کی مدد کے لیے حکومت کا ساتھ دیں بجائے اس کے وہ منصوبے میں کسی قسم کی روکاوٹ ڈالیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقے میں حکومت نے لوگوں کی سکیورٹی کے لیے اقدامات کیے ہوئے ہیں تاہم شناختی کارڈ بنوانے والوں کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ فرزانہ راجہ کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل ہونے کے لیے گذشتہ سال نومبر سے لیکر آج تک دس لاکھ سے زائد خواتین نے قومی شناختی کارڈ بنوائے ہیں جن میں سے تیرہ ہزار خواتین کا تعلق قبائلی علاقے سے ہے ۔ انھوں نے کہا کہ قومی شناختی کارڈ بنانے والا ادارہ نادرہ کا خواتین عملہ قبائلی علاقوں میں خواتین کے شناختی کارڈ بنا رہا ہے تاہم اب حکومت نے قبائلی علاقوں کی خواتین کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے صوبہ سرحد کے شہر بنوں ، چارسدہ ، کوہاٹ اور سوات میں شناختی کارڈ بنانے کے مراکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں پر خواتین کا عملہ تعینات کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام تحت ابتدائی طور پر سوا لاکھ سے زائد خاندانوں کو رقم کی ترسیل آئندہ چند روز تک ڈاکخانوں کے ذریعے شروع ہو جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||