بینظیر کی برسی پر دس روپے کا سکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکومت نے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی پہلی برسی کے موقع پر دس روپے کا سکہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ سکہ دس روپے کا ہوگا جس پر بے نظیر بھٹو کی تصویر ہوگی اور اس پر دختر مشرق، بے نظیر بھٹو شہید لکھا ہوگا۔ ملک کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہورہا ہے کہ بانیان پاکستان کے سوا کسی سیاسی رہنما کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی وزارت خزانہ کے ترجمان ناصر جمال نے بتایا کہ یہ سکہ اٹھائیس دسمبر کو ملک بھر کے تمام بینکوں میں دستیاب ہوگا اور اس کے لئے تمام انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں۔ پاکستان میں کافی عرصے بعد ایسا ہوگا کہ ملکی کرنسی پر بانی پاکستان محمد علی جناح کے سوا کوئی دوسرا چہرہ بھی نظر آئے گا۔ اگرچہ ماضی میں علامہ اقبال کی تصویر والے سکے بھی جاری ہوچکے ہیں لیکن اب وہ مارکیٹ میں نہیں ہیں۔ تاہم دس روپے مالیت کا یہ پہلا یادگاری سکہ ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات سجاد بخاری کہتے ہیں کہ اس سکے کا اجراء پاکستان میں ایک نئی روایت ڈالے گا۔
’یہ بی بی شہید کی ان عظیم خدمات اور قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ہے جو انہوں نے ملک اور قوم کے لئے انجام دیں۔ زندہ قومیں اپنے عظیم رہنماؤں کو یاد رکھتی ہیں اور اس کے لئے تمام طریقے اپناتی ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے اور یہ ایک اچھی روایت پڑی ہے۔‘ حکومت کے اس فیصلے پر حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون کے خیالات بھی کچھ مختلف نہیں ہیں۔ پارٹی کے چئرمین راجہ ظفر الحق کہتے ہیں: ’ہم یہ سمجھتے ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو ایک عالمی سطح کی رہنما تھیں اور جس طرح سے ان کو شہید کیا گیا وہ ان کے خاندان اور ان کی پارٹی ہی نہیں بلکہ پاکستان کا نقصان تھا اس لئے اگر سکہ جاری کیا جاتا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ یہ عزت و احترام ان کا حق ہے‘۔ بے نظیر بھٹو کی پہلی برسی پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا جائے گا جو اس سال ان کی یاد میں جاری ہونے والا چوتھا ڈاک ٹکٹ ہوگا۔ اس سے پہلے محکمہ ڈاک نے 21 جون کو ان کی سالگرہ کی نسبت سے دو اور اقوام متحدہ کی جانب سے انہیں انسانی حقوق کے عالمی ایوارڈ کے لئے منتخب کیے جانے پر دس دسمبر کو یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کئے تھے۔ یاد رہے کہ حکومت پہلے ہی اسلام آباد ائرپورٹ، صدر آصف علی زرداری کے آبائی شہر نوابشاہ، راولپنڈی کے لیاقت باغ کے قریب سے گزرنے والی شاہراہ اور مقامی سپتال کو ان کے نام سے منسوب کرچکی ہے۔ اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے برسراقتدار آنے کے بعد سب سے پہلے یہ کام کیا کہ قومی اسمبلی سے ایک متفقہ قرارداد پاس کروائی ہے جس میں بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس قرارداد کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کو اس ضمن میں حکومت کی طرف سے ایک درخواست پیش کی جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو کے قتل کی تفیش کے لیے ایک کمیشن بنانے کی استدعا کی گئی تھی تاہم ابھی تک اقوام متحدہ کی طرف سے اس بارے میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ سابق نگراں وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پیپلز پارٹی برسراقتدار ہے اور اگر وہ چاہے تو بےنظیر بھٹو کے قتل کی دوبارہ تفتیش کروا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ پاکستانی تفتیشی اداروں سے اس مقدمے کی تفتیش نہیں کروانا چاہتی اور وہ چاہتی ہے کہ اقوام متحدہ ہی اس واقعہ کی تحقیقات کرے۔ |
اسی بارے میں بینظیر بھٹو کی میت لاڑکانہ پہنچ گئی27 December, 2007 | پاکستان بینظیر بھٹو قاتلانہ حملے میں ہلاک27 December, 2007 | پاکستان بینظیر بھٹو، مشورے اور مجبوریاں19 November, 2007 | پاکستان بی بی کی FIR کیلیے درخواست21 October, 2007 | پاکستان بینظیر کی ریلی میں دو دھماکے، 125 افراد ہلاک18 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||