بینظیر انکم سپورٹ پروگرام منگل سے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معاشی طور پر کمزور خاندانوں کی مالی مدد اور غربت میں خاتمے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا باقاعدہ آغاز منگل کو گڑھی خدابخش لاڑکانہ میں کیا جا رہا ہے اور منصوبے کو قانونی شکل دینے کے جلد بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ سوموار کو اسلام آباد میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چئرپرسن فرزانہ راجہ نے ایک نیوز کانفرس کے دوران بتایا کہ پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں کے اراکین اور سینیٹرز کے ذریعے پورے ملک میں غریب اور مستحق افراد میں پینتیس لاکھ سے زائد فارم تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک حکومت کو دو لاکھ چودہ ہزار کے قریب فارم موصول ہوئے ہیں جن کی نادرہ کے ذریعے چھان بین کے بعد کارڈ جاری کیے جا رہے ہیں۔ جب کہ ابتدائی طور پرسالانہ چونتیس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو ڈاکخانوں کے ذریعے تیس لاکھ مستحق خاندانوں میں تقسیم کیے جائیں گے اور ہر خاندان کو ہر دو ماہ بعد دو ہزار روپے تقسیم کیے جائیں۔ فرزانہ راجہ نے بتایا کہ پروگرام کا باقاعدہ آغاز مرحومہ چئرپرسن بینظیر بھٹو کی آخری آرام گاہ پر کیا جائے گا۔ اور علامتی طور پر پانچ سو خواتین میں دو دو ہزار روپے تقسیم کیے جائیں گے اور اس کے بعد پہلے مرحلے میں اکیاسی ہزار افراد میں رقم کی تقسیم شروع کر دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ افتتاحی تقریب میں سندھ کے وزیراعلی سید قائم علی شاہ سمیت وفاقی اور صوبائی وزاراء اور متعقلہ اداروں کے افسران شرکت کریں گے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی تفصیل بتاتے ہوئے فرزانے راجہ نے کہا کہ ملک بھر میں ڈویژن کی سطح پر دفاتر قائم کیے جا رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت سے گریڈ انیس اور بیس کے افسران عارضی طور پر وہاں تعینات کیے جا رہے ہیں جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی نگرانی کریں گے اور رقم کی شفاف تقسیم کے حوالے سے آنے والی شکایات کا ازالہ کریں گے۔
فرزانہ راجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بینظیر انکم پروگرام کو مستقل قانونی تحفظ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور وزارت قانون میں ایک بل تیار کیا جا رہا ہے جو جلد منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور صدر پاکستان کی ہدایت پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سمیت پورے ملک میں غربت کی شرح کا اندازہ لگانے اور اس حوالے سے غریب افراد کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے ایک سروے شروع کیا جا رہا ہے جو سال دو ہزار نو تک مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگارم میں تاخیر کا سبب بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس غریب افراد کا ریکارڈ موجود نہیں تھا اور اس مقصد کے لیے پہلے تمام اراکین پارلیمنٹ کے ذریعے ملک بھر میں فارم تقسیم کیے گئے جس سے پیتیس لاکھ افراد کا ریکارڈ جمع ہوگا۔ اور اب غربت کے اندازے کے لیے سروے کیا جا رہا ہے جس کے بعد غریب افراد کے بارے میں صحیح اعداد و شمار سامنے آ جائیں گے۔ |
اسی بارے میں بینظیر انکم سپورٹ سکیم کا اجرا08 October, 2008 | پاکستان ہلاکت کے سو روز بعد بینظیر بھٹو کی قبر پر 02 April, 2008 | پاکستان اسلام آباد ائرپورٹ کا نام بینظیر ائرپورٹ20 June, 2008 | پاکستان طریقہ ٹھیک نہیں ہے: قاف لیگ 11 July, 2008 | پاکستان نام میں سب رکھا ہے16 September, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||