BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 December, 2008, 18:33 GMT 23:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام منگل سے

بینظیر بھٹو
بینظیر بھٹو سکیم کے لیے ابتدائی طور پر چونتیس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں
معاشی طور پر کمزور خاندانوں کی مالی مدد اور غربت میں خاتمے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا باقاعدہ آغاز منگل کو گڑھی خدابخش لاڑکانہ میں کیا جا رہا ہے اور منصوبے کو قانونی شکل دینے کے جلد بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

سوموار کو اسلام آباد میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چئرپرسن فرزانہ راجہ نے ایک نیوز کانفرس کے دوران بتایا کہ پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں کے اراکین اور سینیٹرز کے ذریعے پورے ملک میں غریب اور مستحق افراد میں پینتیس لاکھ سے زائد فارم تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک حکومت کو دو لاکھ چودہ ہزار کے قریب فارم موصول ہوئے ہیں جن کی نادرہ کے ذریعے چھان بین کے بعد کارڈ جاری کیے جا رہے ہیں۔ جب کہ ابتدائی طور پرسالانہ چونتیس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو ڈاکخانوں کے ذریعے تیس لاکھ مستحق خاندانوں میں تقسیم کیے جائیں گے اور ہر خاندان کو ہر دو ماہ بعد دو ہزار روپے تقسیم کیے جائیں۔

فرزانہ راجہ نے بتایا کہ پروگرام کا باقاعدہ آغاز مرحومہ چئرپرسن بینظیر بھٹو کی آخری آرام گاہ پر کیا جائے گا۔ اور علامتی طور پر پانچ سو خواتین میں دو دو ہزار روپے تقسیم کیے جائیں گے اور اس کے بعد پہلے مرحلے میں اکیاسی ہزار افراد میں رقم کی تقسیم شروع کر دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ افتتاحی تقریب میں سندھ کے وزیراعلی سید قائم علی شاہ سمیت وفاقی اور صوبائی وزاراء اور متعقلہ اداروں کے افسران شرکت کریں گے۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی تفصیل بتاتے ہوئے فرزانے راجہ نے کہا کہ ملک بھر میں ڈویژن کی سطح پر دفاتر قائم کیے جا رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت سے گریڈ انیس اور بیس کے افسران عارضی طور پر وہاں تعینات کیے جا رہے ہیں جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی نگرانی کریں گے اور رقم کی شفاف تقسیم کے حوالے سے آنے والی شکایات کا ازالہ کریں گے۔

غریبوں کا ریکارڈ نہیں تھا
 حکومت کے پاس غریب افراد کا ریکارڈ موجود نہیں تھا اور اس مقصد کے لیے پہلے تمام اراکین پارلیمنٹ کے ذریعے ملک بھر میں فارم تقسیم کیے گئے جس سے پیتیس لاکھ افراد کا ریکارڈ جمع ہوگا
فرزانہ راجہ

فرزانہ راجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بینظیر انکم پروگرام کو مستقل قانونی تحفظ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور وزارت قانون میں ایک بل تیار کیا جا رہا ہے جو جلد منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور صدر پاکستان کی ہدایت پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سمیت پورے ملک میں غربت کی شرح کا اندازہ لگانے اور اس حوالے سے غریب افراد کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے ایک سروے شروع کیا جا رہا ہے جو سال دو ہزار نو تک مکمل ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگارم میں تاخیر کا سبب بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس غریب افراد کا ریکارڈ موجود نہیں تھا اور اس مقصد کے لیے پہلے تمام اراکین پارلیمنٹ کے ذریعے ملک بھر میں فارم تقسیم کیے گئے جس سے پیتیس لاکھ افراد کا ریکارڈ جمع ہوگا۔ اور اب غربت کے اندازے کے لیے سروے کیا جا رہا ہے جس کے بعد غریب افراد کے بارے میں صحیح اعداد و شمار سامنے آ جائیں گے۔

پاکستان میں غربت
غربت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے
ماں کا دن
غربت ایک ماں کے تین بچے کھا گئی
پروین بی بی’بچے بھوکے ہیں‘
’حکومت غریب مار کر غربت ختم کر رہی ہے‘
پاکستان غربت فائل فوٹوپاکستانی معیشت
23 برس میں غربت اورجہالت کاخاتمہ
 فائل فوٹوحکومتی دعویٰ
’پاکستان میں غربت دس فیصد کم ہو گئی‘
اسی بارے میں
نام میں سب رکھا ہے
16 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد