’کارگل پلان بینظیر کو بھی دیا گیا تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق فوجی افسران نے کہا ہے کہ کارگل آپریشن پہلی مرتبہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت میں اُس وقت کے آرمی چیف جہانگیر کرامت نے وزیراعظم بےنظیر بھٹو کو بھی پیش کیا تھا جس کو رد کر دیا گیا۔ سنیچر کے روز راولپنڈی میں ایکس سروس مین سوسائٹی کے ارکان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سوسائٹی کے کنوینر بریگیڈئر ریٹائرڈ محمود حسین نے کہا کہ جس وقت کارگل آپریشن کا پلان بے نظیر بھٹو کو پیش کیا گیا تو اُس وقت کے آرمی چیف جنرل ریٹایئرڈ جہانگیر کرامت جنرل پرویز مشرف کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو اور اُس وقت کے وزیر داخلہ میجر جنرل ریٹائرڈ نصیر اللہ بابر نےاس کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ یہ منصوبہ قابل عمل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے جب کارگل آپریشن شروع کیا تو اس دوران نہ ہی فضائیہ اور نہ ہی بحریہ کے سربراہوں کو اعتماد میں لیا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سلیم حیدر نے جو اُس وقت راولپنڈی کے کور کمانڈر تھے، کہا کہ جب کارگل آپریشن کے بارے میں بریفنگ دی جا رہی تھی تو اُس وقت تو کور کمانڈروں نے بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اُس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کرکے انہیں بتایا کہ یہ منصوبہ قابل عمل نہیں ہے۔ سیلم حیدر نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی رائے سے اختلاف کے بعد اُن کو تبدیل کرکے کور کمانڈر منگلا بنا دیا گیا جبکہ اُن کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمود کو راولپنڈی کے کور کمانڈر بنا دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر بھارت میں کارگل آپریشن کے بارے میں کمیشن تشکیل دیا جا سکتا ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں۔ بریگیڈئیر ریٹائرڈ محمد عربی خان نے کہا کہ اُن کا تعلق بھی انتیسویں پی ایم اے لانگ کورس سے ہے اور پرویز مشرف کا تعلق بھی اس کورس سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سائنس کا طالبعلم تھا اور اُنہیں کیا معلوم کہ اکانومی کیا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ہمیں طعنے دیتے ہیں کہ اُن کا بیچ میٹ کیا کر رہا ہے۔ عربی خان نے کہا کہ وہ فوجی فاؤنڈیشن میں ملازمت کرتے تھے لیکن جب پرویز مشرف آرمی چیف بنے تو انہوں نے اپنی نوکری پر جانا چھوڑ دیا۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ صلاح الدین ترمزی نے کہا کہ وہ گزشتہ چھ سال سے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف ایک غیر آئینی صدر ہیں اور انہیں نہ تو عوام اور نہ ہی سیاسی جماعتیں صدر ماننے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے دو مرتبہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن پرویز مشرف نے پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور اٹارنی جنرل کی مدد سے اُن کی کامیابیوں کو ناکامیوں میں تبدیل کر دیا۔
ایک سوال کے جواب میں سوسائیٹی کے کنوینئر نے کہا کہ فوجی افسران دوران ملازمت بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق ملٹری ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے جب مارشل لاء لگایا تھا تو اُس وقت کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ نے اس کی مخالفت کی تو جنرل ضیاء الحق نے انہیں فوری طور پر تبدیل کرکے کے ایم عارف کو فور سٹار جنرل بنا دیا جنہوں نے کبھی بھی کوئی کور کمانڈ نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ایکس سروس مین وکلاء کے لانگ مارچ میں بھی شرکت کریں گے اور وہ وکلاء کی تحریک کو کامیاب بنائیں گے۔ اس سے پہلے ایکس سروس مین سوسائیٹی کا اجلاس ہوا جس میں کہا گیا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف آئینی صدر نہیں ہے اور اُن کے ٹرائل کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور اُن سے کارگل آپریشن اور وزیرستان میں ہونی والی بمباری کا حساب لیا جائے جس میں سینکٹروں بےگناہ افراد ہلاک کر دیے گئے۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کو وطن واپس آکر اپنی اقتصادی پالیسیوں کا دفاع کرنا چاہیے۔ اجلاس میں شمالی وزیر ستان اور سوات میں حکومت کی طرف سے امن معاہدے کی حمایت کی گئی۔ |
اسی بارے میں فوجیوں پر مقدمہ چلائیں، فوجیوں کا مطالبہ04 June, 2008 | پاکستان باتیں جنرل جمشید گلزار کیانی کی07 June, 2008 | پاکستان . . . .’ یہ تیرے پراسرار بندے‘04 June, 2008 | پاکستان مشرف اب ماضی کا قصہ ہیں:اسلم بیگ05 June, 2008 | پاکستان مشرف دور میں 1912 فوجی تعینات06 June, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||