باتیں جنرل جمشید گلزار کیانی کی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی کے سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ ) جمشید گلزار کیانی نے دو جون کو ایک نجی ٹیلی ویژن پر انٹرویو میں صدر جنرل (ریٹائرڈ ) پرویز مشرف پر سخت نکتہ چینی کی تھی۔ حسب توقع پاکستان کے سیاسی اُفق پر چاروں طرف اس انٹرویو کی مہتابیاں چھوٹ رہی ہیں۔ دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے اُردو اخبارات میں درجنوں کالم گھسیٹے جا چکے ہیں جن میں لیفٹیننٹ جنرل جمشید کیانی کی طرفداری کا رجحان غالب نظر آتا ہے۔ دوسری طرف صدر کے ترجمان میجر جنرل (ریٹائرڈ ) راشد قریشی نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل جمشید کیانی کا کورٹ مارشل تک کرنے کی دھمکی دی ہے۔ یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف زرداری واضح طور پر صدر سے فاصلے بڑھنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ مجوزہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کا مسودہ حکمران اتحاد کی رکن جماعتوں میں زیر غور ہے۔ عدلیہ کی بحالی کے لیے وکلاء کے مجوزہ لانگ مارچ میں چند ہی روز باقی ہیں۔ پنجاب میں مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف وزارتِ اعلیٰ کو اپنے ہاتھوں کے فاصلے پر چُھو رہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں صدر پرویز مشرف کی حمایت میں سنائی دینے والی آوازیں نایاب ہوتی جا رہی ہیں۔ مسلم لیگ نواز نے گزشتہ چند روز میں زیادہ جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے مطالبہ شروع کر دیا ہے کہ صدر پرویز مشرف کو اقتدار چھوڑنے کا محفوظ راستہ نہیں ملنا چاہیے بلکہ اُنہیں اپنے اقدامات کے لیے قانون کے سامنے جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
لیفٹیننٹ جنرل جمشید کیانی 1999 میں کارگل آپریشن کے دوران آئی ایس آئی کے اعلیٰ عہدیدار تھے۔ 12 اکتوبر 1999 کی کامیاب فوجی بغاوت کے فوراً بعد دسویں کور کے کمانڈر بنائے گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد 2004 میں وفاقی پبلک سروس کمیشن کے سربراہ بنائے گئے۔ نومبر 2007 میں صدر پرویز مشرف نے عبوری آئینی حکم کے تحت آئین میں ترمیم کر کے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے سربراہ کی میعاد پانچ برس کے بجائے تین برس کر دی چنانچہ لیفٹیننٹ جنرل جمشید کیانی کو سبکدوش ہونا پڑا۔ لیفٹیننٹ جنرل جمشید گلزار کیانی راولپنڈی کے قریب ایک گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کے رشتہ دار نہیں ہیں۔ تاہم فوج کی پیشہ وارانہ دنیا میں جالندھر گروپ کی طرح کیانی نیٹ ورک جیسی اصطلاحات عام استعمال کی جاتی ہیں۔ سیاسی مبصرین نے مذکورہ انٹرویو میں یہ بات خاص طور پر محسوس کی کہ لیفٹیننٹ جنرل جمشید کیانی بیشتر نکات پر مسلم لیگ (نواز ) کے سیاسی نقطۂ نظر سے ہم آہنگ تھے۔ پیپلز پارٹی کا ذکر نہ ہونے کے برابر تھا۔ اپنی گفتگو میں لیفٹیننٹ جنرل جمشید کیانی کے الفاظ کا انتخاب واضح طور پر سوچا سمجھا تھا۔ متعدد مقامات پر تو اُنہوں نے ڈاکٹر شاہد مسعود کے سوال کو قریب قریب نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔ بظاہر ایک سیدھے سادھے فوجی کے دو ٹوک لب و لہجے کے باوجود اُن کے خیالات سے تہہ دار نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ جنرل جمشید کیانی سابق فوجیوں کی تنظیم میں خاصے سرگرم ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق فوج کے سابق اور حاضر سروس حلقوں میں یہ خیال زور پکڑ رہا ہے کہ صدر مشرف کے نو سالہ اقتدار میں بطور ادارہ فوج کی ساکھ کو زبردست زَک پہنچی ہے۔ پاکستان میں سیاسی عمل پر فوج کی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے عوام میں اِس کی ساکھ بحال کرنا نہایت ضروری ہے۔ صدر پرویز مشرف اپنے شخصی اقتدار کے منطقی طور پر آخری مراحل سے گزر رہے ہیں۔ اب اُن کی ذات سے فوج کے مفادات وابستہ نہیں رہے۔ انہیں عوام کے کسی حلقے میں مقبولیت حاصل نہیں۔ اُن کا اقتدار میں رہنا فوج کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ چنانچہ اگر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی قیمت پر فوج کی ساکھ بحال کی جا سکتی ہے تو یہ سودا مہنگا نہیں بلکہ نہایت موزوں ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل جمشید کیانی نے واضح طور پر کہا کہ جنرل پرویز مشرف سے اُن کے اختلافات 11 ستمبر 2001ء کے بعد شروع ہوئے۔ گویا اُنہیں اکتوبر 99ء میں جنرل پرویز مشرف کے ایک آئینی حکومت کو برطرف کرنے اور ملکی آئین کو معطل کرنے پر اعتراض نہیں تھا بلکہ یہاں تک کہا ہے کہ نواز شریف کو جنرل مشرف کو ہٹانے کے لیے ان کی سری لنکا سے وطن واپسی کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔ جنرل جمشید کیانی کو اُس وقت اختلاف ہوا جب جنرل پرویز مشرف نے سربراہ حکومت کے طور پر بین الاقوامی تناظر میں ایسے فیصلے کیے جن سے پاکستان میں فوج کی طویل مدتی سیاسی بالادستی پر ضرب لگتی تھی، مثلاً افغانستان کی سٹریٹیجک گہرائی سے دست کشی اور بعدازاں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرگرم جہادی تنظیموں کی سرپرستی میں کمی۔ لیفٹیننٹ جنرل جمشید کیانی اور اُن کے ہم خیال حلقوں کا اصرار ہے کہ صدر مشرف کو امریکہ کے ساتھ لیت و لعل سے کام لینا چاہیے تھا۔ ایسا کہتے ہوئے یہ حقیقت فراموش کر دی جاتی ہے کہ ستمبر 2001ء میں بین الاقوامی رائے عامہ کا دباؤ کس قدر شدید اور واقعات کی رفتار کس قدر تیز تھی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد 13 ستمبر اور دوسری قرارداد 27 ستمبر کو منظور کی تھی۔ بھارت اینگلو سیکسن اتحادیوں کو تعاون کی پیشکش کر چکا تھا اور بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پاکستان کے لیے ایسی کہہ مکرنیوں کا موقع میسر نہیں تھا جو 1980ء کے افغانستان جہاد اور بعد ازاں کشمیر کے ضمن میں آزمائی گئی تھیں۔ حوالے کے لیے رچرڈ آرمیٹج کی لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد اور جنرل کولن پاول کی صدر پرویز مشرف سے گفتگو کے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں چھپنے والے چیدہ چیدہ اقتباسات ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
اسلام آباد کی لال مسجد پر جولائی 2007 میں ہونے والے فوجی آپریشن کے ضمن میں لیفٹیننٹ جنرل کیانی کا نقطۂ نظر مقبولیت پسند اور سنسنی خیزی پر مبنی ہے۔ 10 جولائی کے فوجی ایکشن پر رائے زنی کرتے ہوئے جنوری سے جولائی کے پہلے ہفتے تک رونما ہونے والے واقعات سے صرفِ نظر کر لیا جاتا ہے۔ حالیہ عالمی تاریخ کے متعدد واقعات میں ریاستی ردعمل کا لال مسجد سے تقابل کیا جاسکتا ہے مثلاً نومبر 1979 میں خانہ کعبہ پر قبضہ اور1984 میں امرتسر کے گولڈن ٹمپل پر قبضہ۔ لیکن لال مسجد کے ضمن میں پرویز مشرف کے حامی اور نکتہ چیں دونوں اپنی اپنی سیاسی مصلحتوں کی بنا پرغیرمسلح اور نوعمر بچوں کو یرغمالی بنائے جانے کا سرے سے ذکر نہیں کرتے۔ لیفٹیننٹ جنرل جمشید کیانی بظاہر اس انٹرویو میں سابق فوجیوں کی تنظیم کی ترجمانی کر رہے تھے۔ سابق فوجیوں کی یہ تنظیم جنرل فیض علی چشتی کا آئیڈیا ہے جو کئی برسوں سے کہتے چلے آ رہے ہیں کہ سابق فوجیوں کی تعداد 22 لاکھ کے قریب ہے اور وہ ملک کی منظم ترین سیاسی قوت ثابت ہو سکتے ہیں۔ باخبر سیاسی مبصرین کے مطابق سابق فوجیوں کی تنظیم کا اِس مرحلے پر فعال طور پر منظر عام پر آنا وکلاء کی تحریک کے جواب میں عسکری حلقوں کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے۔ مستقبل میں سیاسی قوتوں کی حکمرانی کے تناظر میں سابق فوجیوں کی یہ تنظیم ذرائع ابلاغ تک رسائی اور رائے عامہ کی تشکیل کے ضمن میں منظم اور مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ سیاسی قوتوں کی موجودہ صف بندی اور رائے عامہ کے رجحانات کی روشنی میں صدر پرویز مشرف کا اقتدار سے رخصت ہونا ٹھہر گیا ہے۔ درحقیقت اُن پر روز بروز دباؤ بڑھ رہا ہے اور وہ ردعمل کے لیے موزوں وسائل نہیں رکھتے۔ تاہم اگر صدر پرویز مشرف کی رخصتی میں سابق فوجیوں کی پہل کاری کو نمایاں کردار مل گیا تو اِس سے صدر مشرف کے بعد کی سیاسی تصویر میں پیچیدگیاں پیدا ہونے کا امکان بڑھ جائے گا۔ اسلم بیگ، حمید گل اور اسد درانی سے لے کر جمشید کیانی تک اس تنظیم کے سرکردہ ارکان نے پاکستان کی تمام فوجی حکومتوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اِس حلقے کی جمہوری اقدار سے وابستگی محل نظر ہے۔ دہشت گردی، قومی سلامتی، علاقائی امن، انسانی ترقی، صوبائی خود مختاری اور معاشی عالمگیریت جیسے معاملات پر اس گروہ کی فکری اپج تمدنی قوتوں سے متصادم ہے۔ اِس گروہ کی سیاسی ترجیح فلاحی جمہوری ریاست کی بجائے قومی سلامتی کی وہی ریاست ہے جو اپنے وجود کے لیے خارجی سطح پر مستقل کشیدگی اور داخلی سطح پر تحکم پسند معاشرتی نمونے کو ترجیح دیتی ہے۔ فوجی اقتدار کے ایک طویل عہد کے جھٹ پٹے میں پاکستان شاید ہی ایسے سیاسی نمونے کا متحمل ہو سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں ’ کورٹ مارشل کی بجائےصدرات ‘05 February, 2008 | پاکستان فوجیوں پر مقدمہ چلائیں، فوجیوں کا مطالبہ04 June, 2008 | پاکستان . . . .’ یہ تیرے پراسرار بندے‘04 June, 2008 | پاکستان وزیراعظم کو چیف کی پہلی بریفنگ02 April, 2008 | پاکستان ’کارگل کی انکوائری کرائیں‘03 June, 2008 | پاکستان ’کارگل اور لال مسجد کی انکوائری ہونی چاہیے‘03 June, 2008 | پاکستان ’کارگل پر بے خبر رکھا گیا‘03 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||