سال بیت گیا، قاتلوں کا سراغ نہ ملا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کو ایک سال ہوچکا اور ان کی جماعت حکومت میں ہوتے ہوئے بھی ان کے قاتلوں کا تاحال سراغ نہیں لگا پائی۔ صدر آصف علی زرداری ہوں یا وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی وہ یہی کہتے ہیں کہ ان کی حکومت نے اپنے لیڈر کے قتل کی تحقیقات اس لیے شروع نہیں کی کیونکہ جس کے خلاف بھی کارروائی ہوتی تو ان پر انتقام لینے کا الزام لگتا۔ ان کے بقول اس وجہ سے انہوں نے اقوام متحدہ سے رجوع کیا لیکن اقوام متحدہ کی عدم دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کئی ماہ سے باٰضابطہ درخواست موصول ہونے کے بعد بھی انہوں نے تفتیشی ٹیم تک تشکیل نہیں دی۔ بینظیر بھٹو جب سترہ اکتوبر کو جلاوطنی ختم کرکے کراچی پہنچیں تھیں تو ان کے استقبالی جلوس پر جب خود کش حملہ ہوا تھا تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا فوری طور پر اجلاس بلاکر تمام ممالک کو تفتیش میں تعاون کی ہدایت کی گئی لیکن ستائیس دسمبر کو بینظیر بھٹو کا قتل ہوا تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس تو بلایا لیکن افسوس کا اظہار کرکے اجلاس ملتوی کر دیا۔ پیپلز پارٹی کے ایک سینئر کارکن کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے میں امریکہ خوش نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو نے انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ بریگیڈئر اعجاز شاہ کا نام لے کر کہا تھا کہ ان سے انہیں خطرہ ہے لیکن اعجاز شاہ قتل کے بعد سابق صدر پرویز مشرف کے توسط سے با آسانی استعفیٰ دے کر آسٹریلیا میں آباد ہوگئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ایک رہنما بابر اعوان جو وکیل بھی ہیں، کہتے رہے ہیں کہ بینظیر بھٹو کے قتل میں لیزر گن جیسے کسی جدید اسلحہ کے استعمال کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ پیپلز پارٹی کے کارکن ابن رضوی سمیت کئی سرکردہ رہنما یہ سوال بھی اٹھاتے رہے ہیں کہ بینظیر بھٹو پر گولی چلانے والے شخص نے کالی عینک پہن رکھی تھی۔ ان کے مطابق شام گئے ہلکے اندھیرے میں کالی عینک صرف وہی پہنی جاتی ہے جو کہ ’پاورڈ گلاسز‘ ہو اور اس کے ذریعے رات کو بھی صاف دکھائی دیتا ہو۔ یہ ’ پاورڈ عینک‘ وی وی آئی پی ڈیوٹی والے کمانڈو بھی پہنتے ہیں۔ لیکن اس قتل کی سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں جو تحقیقات ہوئی اس میں ان سوالات پر غور ہی نہیں کیا گیا۔ پرویز مشرف کے دور میں بینظیر کے موت کی وجہ جاننے کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ کو بلایا توگیا لیکن انہیں یہ جاننے کا اختیار نہیں دیا گیا کہ قاتل کون ہیں؟۔ اس بارے میں پیپلز پارٹی کے اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر پرویز مشرف اتنی ہی غیر جانبدار تحقیقات چاہتے تھے تو سکاٹ لینڈ یارڈ کا دائرہ کار محدود کیوں کیا گیا؟۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے انٹیلی جنس اداروں اور خود صدر مشرف پر بھی انگلیاں اٹھیں تھیں اور صدر پرویز مشرف کی غیر ملکی ذرائع ابلاغ کو بریفنگ کے دوران جب ایک صحافی نے ان سے پوچھا تھا کہ بینظیر کے قتل میں انٹیلیجنس ایجنسیوں اور آپ کے ملوث ہونے کا بھی شبہ ہے تو صدر نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کا سوال ان کی شان کے مطابق نہیں کیونکہ وہ کوئی قبائلی نہیں ہیں کہ قتل جیسے جرائم میں یقین رکھتے ہوں۔ بینظیر بھٹو کی میڈیا ٹیم کے رکن نذیر ڈھوکی کہتے ہیں کہ ’حکومت اس بات کا جواب دے کہ بینظیر بھٹو کے ساتھ ایمبولینس کیوں نہیں تھی؟ ڈاکٹر مصدق مختصر وقت میں جنرل ہسپتال کیسے پہنچے؟ اور محترمہ کے قتل اور میڈیکل رپورٹ کا اعلان جنرل ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے بجائے ڈاکٹر مصدق نے کیوں کیا؟‘ بینظیر بھٹو کی پسلیاں توڑ کر انہیں جانبر کرنے کی کوشش کرنے والی ڈاکٹروں کی ٹیم کے سربراہ اور میڈیکل رپورٹ لکھنے والے ڈاکٹر مصدق کے والد نے پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو گولیاں لگنے کے بعد طبی امداد دی تھی اور پوسٹ مارٹم بھی کیا تھا۔ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات میں تاخیر سے ایسے شبہات کو تقویت مل رہی ہے کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان اور فوجی صدر ضیاءالحق کے قتل کے مقدمات کی طرح بینظیر بھٹو کے قتل کا معاملہ بھی کسی فائل میں ہی دب کر رہ جائے گا۔ بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھی سنیٹر ڈاکٹر صفدر عباسی کا کہنا ہے کہ ’اگر پیپلز پارٹی کی حکومت میں محترمہ کے قتل کا معمہ حل نہیں ہوا تو پارٹی کو شدید نقصان پہنچے گا‘۔
|
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||