BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 December, 2008, 13:56 GMT 18:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گڑھی خدابخش: بدلا بدلا منظر

گڑھی خدابخش بھٹو
جلسے گاہ کے میدان کے پینتیس ایکڑ اراضی پر پچھتر کروڑ کے لاگت آئی ہے جو صوبائی حکومت نے منظور کی ہے

پاکستان کے دو سابق وزراء اعظم اور مقبول عوامی رہنماؤں کی آخری آرام گاہ ہونے کے ناطے گڑھی خدابخش بھٹو ایک عوامی اجتماع کا مقام تو پہلے ہی بن چکا ہے مگر حکومتی اداروں کے حالیہ تعمیراتی کام کے بعد بھٹوز کے آبائی قبرستان کا منظر کچھ خوبصورت سا بن گیا ہے۔

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی پہلی برسی کے موقع پر گڑھی خدابخش بھٹو کے میدان کو قابل دید بنایا گیا ہے۔ بینظیر بھٹو اور ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کے مزار کے چاروں اطراف تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔

صوبائی تعمیراتی محکمے پراونشل بلڈنگز کے ایگزیکیٹو انجنیئر شبیر احمد پنہیار نے بی بی سی کوبتایا ہے کہ عوامی رہنماؤں کےمزار پر عوامی سہولیات کی خاطر تعمیراتی کام گزشتہ دو ماہ سے جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جلسے گاہ کے میدان کے پینتیس ایکڑ اراضی پر پچھتر کروڑ کے لاگت آئی ہے جو صوبائی حکومت نے منظور کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اٹھائیسں ایکڑ میدان کو چھ فٹ کی مٹی ڈال کر اس کی سطح بلند کی جائے گی تاکہ بارشوں کا پانی بھی اس تعمیر کو نقصان نہ پہنچا سکے اور بارشوں کا پانی قریبی نہر میں جائے۔

میدان کی بقیہ سات ایکڑ اراضی گاڑیوں کی پارکنگ اور پبلک پارک کے لیے مخصوص کی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں کے ایک اندازے کے مطابق نئے تعمیر شدہ میدان میں چھ سے آٹھ لاکھ لوگ آرام سے بیٹھ سکتے ہیں اور دو سے تین ہزار چھوٹی بڑی گاڑیاں پارکنگ میں کھڑی ہوسکتی ہیں۔

گزشتہ سال ستائیس دسمبر کی سرد رات کو جب بینظیر بھٹو کی میت تدفین کے لیے گڑھی خدابخش لائی گئی تھی تب ہزاروں کارکنان اسی میدان میں نوحہ کناں تھے۔ گاڑیوں اور عام لوگوں کے رش کی وجہ سے دھول کے بادل چھا گئے تھے۔ مگر بینظیر کی پہلی برسی کے موقع پر گڑھی خدابخش کے میدان میں پھول اور رنگین پودے سجائے گئے ہیں۔ میدان کے درمیان میں ایک فوارے پر بھی کام جاری ہے۔

گڑھی خدابخش کے میدان میں کام کرنے والے سینکڑوں مزدوروں اور انجنیئروں کو حالیہ بارشوں نے بہت تنگ کیا ہے۔ پنہیار کا کہنا ہے کہ ہیوی ڈمپر بارشوں کی وجہ سے میدان میں پھنس گئے تھے اور ان کا تمام کام سخت متاثر ہوا ہے۔

مزار کا تعمیراتی کام دو ہزار دس تک مکمل کرنے کے بعد مزار کو قومی ورثے کی صورت میں وفاقی حکومت کے حوالے کیا جائے گا: انتظامیہ

بینظیر بھٹو کے مزار پر تعمیراتی کام کا پہلا مرحلا مکمل ہوگیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق بینظیر کے مزار کا تعمیراتی کام دو ہزار دس تک مکمل کرنے کے بعد مزار کو قومی ورثے کی صورت میں وفاقی حکومت کے حوالے کیا جائے گا۔

گڑھی خدابخش کے قبرستان میں بینظیر بھٹو کی تدفین کے بعد عام لوگوں کا رش تو ہر وقت رہتا ہی ہے مگر تعمیراتی کام بلا کسی رکاوٹ دن رات جاری رہا ہے۔

ستائیں دسمبر کو بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر پاکستان بھر سے آئے ہوئےکارکنان کو یقیناً ایک بدلا ہوا گڑھی خدابخش نظر آئے گا جہاں پہلی مرتبہ خاردار تاروں سے راستے اور رکاوٹیں بنا کر سٹیج اور عوام کے درمیان فاصلے کو مضبوط بنایا گیا ہے۔

سکھر پولیس کے ریجنل پولیس آفیسر رمضان چنا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ صوبے بھر سے چھ ہزار پولیس اہلکار اور افسران گڑھی خدابخش میں تعینات کیے گئے ہیں جن میں خواتین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

پولیس کے ریجنل سربراہ کےمطابق انہوں نے ستائیسں دسمبر کے حفاظتی انتظامات کی ریہرسل جمعرات کے روز کی ہے تا کہ برسی کے حفاظتی انتظامات میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔

بینظیر گڑھی خدا بخش کو
بینظیر کی پہلی برسی اور گڑھی خدا بخش کا سفر
گڑھی خدابخش بھٹو ’میں بھٹو ہوں۔۔۔‘
بیس نامعلوم میتیں گڑھی خدا بخش بھٹو میں دفن
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد