BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 January, 2008, 14:39 GMT 19:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر اب ایک ’برانڈ نیم‘ بن گیا

محترمہ بینظیر بھٹو کی تصاویر
ہر دکان پر محترمہ بینظیر بھٹو کی تصاویر نمایاں ہیں
پیپلز پارٹی کی مقتول سربراہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد ان کی تقاریر پر مبنی سی ڈیز اور تصاویر کی مانگ بڑھ گئی ہے جبکہ بینظیر بھٹو کے نام سے آلو کے چپس اور ٹافیاں بھی مارکیٹ میں آگئی ہیں۔

بینظیر بھٹو صاحبہ کی ہلاکت کے تین ہفتوں کے بعد بھی غمزدہ لوگ سوگ میں ہیں اورگڑھی خدا بخش بھٹو میں ان کی قبر پر روزانہ تعزیتی وفود کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

بینظیر بھٹو صاحبہ کی ہلاکت کا سوگ منانے کے لیے لوگوں نےاپنے اپنےانداز اور طور طریقے اپنائے ہیں۔ پاکستان کی سی ڈی مارکیٹ میں بینظیر بھٹو صاحبہ کی چھ تقاریر پر مبنی سی ڈیز ریلیز کی گئی ہیں جن میں بینظیر بھٹو کی راولپنڈی، لاڑکانہ، نواب شاہ، حیدرآباد اور میر پور خاص کے انتخابی جلسوں میں کی گئی تقاریر شامل ہیں۔

ان سی ڈیز کو ریلیز کرنے والی کمپنی کنگز وڈیوز کے چیف ایگزیکٹو افسر جئہ رام داس نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں توقع سے زیادہ رسپانس ملا ہے۔

جئہ رام کے مطابق ان کےادارے نے ماضی میں اسامہ بن لادن اور لال مسجد کے ساتھ ساتھ اکبر بگٹی کی ہلاکت اور خود بینظیر بھٹو کے بھائی مرتضی بھٹو کی ہلاکت پر بھی سی ڈیز جاری کی تھیں مگر بینظیر بھٹو کی سی ڈیز نے مارکیٹ میں ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

جئہ رام کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی کا کاروبار پہلے صرف صوبہ سندھ تک محدود تھا مگر بینظیر بھٹو کی تقاریر والی سی ڈیز نے ان کا کام راولپنڈی، سرگودھا، لاہور اور شیخوپورہ تک پھیلا دیا ہے۔

کنگز وڈیوز کےمطابق محرم الحرام کے دنوں میں نوحہ اور مجالس کے سوا کوئی اور سی ڈی نہیں فروخت ہوتی مگر بینظیر بھٹو صاحبہ کی تقاریر والی سی ڈیز ان دنوں میں بھی فروخت ہوئی ہیں۔

بینظیر بھٹو کی سی ڈیز نے مارکیٹ میں ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے

سی ڈیز کی مارکیٹ سے بڑھ کر اگر تصاویر کی مارکیٹ پہنچیں تو ہر دکان پر محترمہ بینظیر بھٹو کی تصاویر آپ کو نمایاں نظر آئیں گی۔ مختلف سائز کے پوسٹرز میں بینظیر بھٹو کو اپنے بچوں اور خصوصا بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ چند تصاویر میں انہیں اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے مزار پر دعا مانگتے دکھایا گیاہے۔

دکانداروں کےمطابق بینظیر بھٹو کی راولپنڈی کے آخری جلسے کے دوران لی گئی تصاویر اور اٹھارہ اکتوبر کے دن وطن واپسی کے دوران جہاز سے اتر کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تصویر زیادہ فروخت ہو رہی ہے۔ سکھر میں تصویریں فروخت کرنے والے ہول سیل ڈیلر نسیم احمد نے بی بی سی کو بتایا کے صرف ان کی دکان سے محترمہ کی ایک لاکھ تصاویر فروخت ہوچکی ہیں۔

نسیم احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تمام سیاستدانوں کی تصویریں اکٹھا اتنی تعداد میں فروخت نہیں ہوئی ہیں جتنی تعداد میں صرف بینظیر بھٹو کی تصویریں فروخت ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں اسامہ بن لادن اور صدام حسین کی تصویریں بھی اتنی تعداد میں فروخت نہیں ہوئی تھیں۔

محترمہ بینظیر بھٹو ہلاکت کے بعد سیاسی رہنماء سے زیادہ ایک برانڈ نیم بن گئی ہیں۔مارکیٹوں میں ان کے نام سے آلو کے چپس ،نمکو اور ٹافیاں بھی آ رہی ہیں۔

اسی بارے میں
ایک اور بھٹو کا قتل
27 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد