بھٹو کی برسی پر سخت سکیورٹی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی انتیسویں برسی کی تقریبات تین اور چار اپریل کی درمیانی شب ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے ملتوی کردی گئیں۔ یہ تقریبات لاڑکانہ کے قریب ذوالفقار علی بھٹو کے آبائی قبرستان گڑھی خدا بخش بھٹو میں منائی جانی تھیں اور اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ تاہم شدید بارش کے سبب وہ تمام تقریبات ملتوی ہوگئیں جن میں وہ جلسہ بھی شامل ہے جس سے شریک چیئرمین آصف زرداری، امین فہیم اور دیگر رہنماؤں کو خطاب کرنا تھا اور ملک بھر سے آئے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکن اپنے اپنے علاقوں کی طرف واپس روانہ ہوگئے۔ اس سے قبل پیپلز پارٹی کی مجلسِ عاملہ اور وفاقی کونسل کا مشترکہ رسمی اجلاس نوڈیرو ہاؤس میں آصف زرداری کی صدارت میں منعقد ہوا۔ پی پی پی کے جنرل سیکرٹری جہانگیر بدر نے بتایا کہ اجلاس کے دوران ذوالفقار علی بھٹو کو خراجِ عقییدت پیش کیا گیا اور پارٹی کی نئی قیادت پپر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی جنرل مشرف کے آٹھ سالہ فوجی حکومت کے بعد پہلی مرتبہ حکومتی سطح پر ذوالفقارعلی بھٹو کی برسی منائی جانے والی تھی۔ وزیراعظم گیلانی نے کہا تھا کہ وہ بھٹو کی پھانسی کے حوالے سے ایک قرارداد نئی اسمبلی سے پاس کریں گے۔ برسی تقریبات میں شرکت کے لیے پاکستان بھر سے ہزاروں کارکنان کے قافلے بھی گڑھی خدا بخش پہنچے تھے۔ پیپلزپارٹی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات وقار مہدی کے مطابق برسی کی تقریبات رات بارہ بجے کے قریب شروع ہونی تھیں اور رات کو دو بج کر بارہ منٹ پر گڑھی خدا بخش میں خاموشی اختیار کی جانی تھی کیونکہ پیپلز پارٹی کا ماننا ہے کہ رات تین اور چار اپریل کی درمیانی شب کے اس وقت ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی۔ برسی کے موقع پر منعقد ہونے والے سیاسی جلسے سے نئے منتخب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے خطاب کرنا تھا۔ برسی تقریبات کے لیے گڑھی خدا بخش اور نوڈیرو میں حفاظتی انتظامات سخت کیے گئے جس کی نگرانی سندھ پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی کر ر ہے تھے۔ سندھ پولیس کے سینکڑوں اہلکار جلسہ گاہ اور بھٹو کے مزار کے اطراف میں تعینات کیےگئے۔ پولیس حکام نے جلسہ گاہ میں داخل ہونے والے افراد کی تلاشی لینے کے لیے دس کے قریب حفاظتی دروازے یا ’واک تھرو‘ گیٹ نصب بھی کیے۔ متحدہ قومی مومنٹ کا ایک وفد بھی آج گڑھی خدا بخش بھٹو میں ذوالفقار علی بھٹو کے مزار پر حاضری دینے پہنچے گا۔ متحدہ کے وفد کے اراکین آصف زرداری سے بےنظیر بھٹو کی تعزیت کریں گے، ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی قبروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں گے اور فاتحہ خوانی کریں گے۔گڑھی خدا بخش میں متحدہ کے وفد کی یہ پہلی مرتبہ آمد ہوگی۔ انتیس برس قبل پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل ضیاالحق کی مارشل لاء کے دوران قتل کے ایک مقدمے میں تین اور چار اپریل کی درمیانی شب پھانسی دی گئی تھی۔ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد گڑھی خدا بخش بھٹو ایک ایسا سیاسی قبرستان بن گیا ہے جہاں پاکستان کے دو سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی بیٹی بینظیر بھٹو مدفون ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دو بیٹے مرتضی بھٹو اور شاہنواز بھٹو کی قبریں بھی یہیں ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی یہ پہلی برسی ہوگی جس میں ان کےخاندان کا کوئی فرد عوامی جلسے سے خطاب نہیں کرے گا۔ان کی ایک بیٹی صنم حیات ہیں مگر وہ سیاسی تقریبات سے تمام زندگی کنارہ کش رہی ہیں۔ بھٹو کی بیگم نصرت بھٹو علیل ہونے کی باعث دبئی میں زیر علاج ہیں۔ |
اسی بارے میں بھٹو کی برسی اور اقتدار کی امید04 April, 2007 | پاکستان جمہوریت کا تختہ الٹنے پر یوم سیاہ05 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||