گڑھی خدا بخش یا سیاسی قبرستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کارساز بم دھماکوں میں اٹھارہ اکتوبر کو ہلاک ہونے والے بیس نامعلوم افراد کی میتیں گڑھی خدابخش بھٹو میں دفن کر دی گئی ہیں۔ بدھ کی رات ان کی نماز جنازہ میں پیپلزپارٹی سندھ کے نامزد وزیراعلٰی قائم علی شاہ، نامزد اسپیکر نثار کھوڑو سمیت سینکڑوں کارکنان نے شرکت کی۔ نامعلوم افراد کی میتیں کراچی سے ایدھی فاؤنڈیشن کے فیصل ایدھی کی سربراہی میں بارہ ایمبولینس کے قافلے میں گڑھی خدابخش پہنچائی گئی تھیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال اٹھارہ اکتوبر کو کارساز بم دہماکوں کے بعد نامعلوم افراد کی میتیں گڑھی خدابخش میں دفن کرنے کا فیصلہ بینظیر بھٹو نے خود کیا تھا۔ سندھ میں قبرستان ایک ایسی ویران جگہ کا نام ہوتا ہے جہاں سے دن کو گزرنے کو بھی دل نہیں کرتا۔ مگر گڑھی خدابخش بھٹو کا قبرستان اب ایک ایسی سیاسی درگاہ بنتا جا رہا ہے جہاں دن کو سینکڑوں افراد دعا کے لیے آتے ہیں جبکہ درجنوں افراد رات کو اور دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے سینیئر رہنماء تاج حیدر بھی ان بیس نامعلوم میتوں کے ساتھ کراچی سے گڑھی خدابخش پہنچے تھے۔ ان کا کہنا تھا ’گڑھی خدا بخش پاکستان میں وہ واحد جگہ ہے جسے ہم گلستان شہداء یا شہداء کا باغ کہتےہیں۔ یہاں پاکستان کے نامور سیاسی رہنماء بھی دفن ہیں تو بے نام سیاسی کارکن بھی۔ مگر ہر ایک نے پاکستان میں جمہوریت، غریبوں کےحقوق اور غریبوں کی عزت کےلیے کچھ نہ کچھ کردار ضرور ادا کیا ہے۔‘ تاج حیدر کے مطابق مقتول رہنماء بینظیر بھٹو خود کہہ گئی تھیں کہ اٹھارہ اکتوبر میں کوئی نامعلوم ہلاک نہیں اور جو نامعلوم ہیں ان کے وارث ہم پیپلزپارٹی والے ہیں۔ ان کے مطابق گڑھی خدابخش میں بیس میتیں لائے ہیں جن کے ہمیں نام بھی معلوم نہیں مگر ان کی تدفین پورے احترام سے کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ہمارے نظریے اور رہنماء کے لیے اپنی جان قربان کردی۔
بینظیر بھٹو کے آبائی شہر نوڈیرو سے چند کلومیٹر فاصلے پر گڑھی خدابخش بھٹو نامی ایک گاؤں ہے جو پاکستان کے سابق وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کا آبائی قبرستان ہے۔ یہاں وہ اپنے دونوں بیٹوں مرتضی اور شاہنواز اور بیٹی بینظیر بھٹو سمیت مدفون ہیں۔ بھٹو کے آبائی قبرستان پر تاج محل نماء مزار کی تعمیر کی ابتدا بینظیر بھٹو نے کی تھی۔ابھی مزار کی تعمیر کا کام ادھورا ہی تھا کہ راولپنڈی خود کش حملے کے بعد ان کی میت بھی دسمبر میں مزار کاحصہ بن گئی۔ بینظیر بھٹو کی تدفین کے بعد گڑھی میں رش بڑھنے کی وجہ سے مزار کے تعمیراتی کام کو تیز کردیا گیا ہے اور مزار کےسامنے گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے جگہ مخصوص کردی گئی ہے۔ اس سے قبل گاڑیاں مزار کے مرکزی دروازے تک لے جانے کی اجازت تھی مگر اب مخصوص فاصلے کے بعد گاڑی پارکنگ میں کھڑی کرنا لازمی ہے۔ بیس نامعلوم افراد کی میتیں بینظیر بھٹو کی قبر اور بھٹوز کے آبائی مقبرے سے چند گز فاصلے پر دفن کی گئی ہیں۔ ذولفقار علی بھٹو مزار کمیٹی کے صدر اور سابق ضلع ناظم لاڑکانہ خورشید احمد جونیجو کا کہنا ہے کہ ان لاوارث میتوں کی تدفین کی جگہ کا تعین بینظیر بھٹو خود کر گئی تھیں۔ جونیجو کےمطابق بیس قبریں گڑھی قبرستان کی سڑک کے کنارے بنائی گئی ہیں تاکہ ہر آنے والے شخص کی پہلی نظر بیس شہداء کے قبرستان پر پڑے۔
خورشید جونیجو کے مطابق مزار کے دو فیز کی تعمیر ہونا باقی ہے جن میں خانقاہیں، میوزیم ،آرکائیوز اور ہوٹل کے تعمیر بھی شامل ہے تا کہ دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد کو ایک ہی جگہ پر طعام و قیام مل جائے۔ ’انہیں پچیس کلومٹر دور لاڑکانہ صرف رہائش کے لیے نہ جانا پڑے۔‘ جونیجو کے مطابق مزار کے اطراف میں سبزازار ہوگا اور فوارے لگائے جائیں گے۔جبکہ بیس نامعلوم افراد کی قبروں کے قریب ایک یادگار تعمیر ہوگی۔’یہ ایسی ہی یادگار ہوگی جو کارساز کراچی میں تعمیر کیا جائے گی۔اس یادگار پر ان تمام افراد کے نام درج ہونگے جو اٹھارہ اکتوبر کے بم دہماکوں میں ہلاک ہوگئے جبکہ نامعلوم کے نمبرز خالی رکھے جائیں گے۔‘ سانحہ کارساز کے بیس نامعلوم افراد کی بنائی گئی قبروں پر ان کے ڈی این اے ٹیسٹ کے نمبرز تو درج ہونگے مگر چونکہ وہ بے نام ہیں ان میں سے ہر ایک کی قبر کے سرہانے ایک ہی نعرہ لکھا جائے گا ’میں بھٹو ہوں۔۔۔۔۔’ پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء تاج حیدر کے مطابق پاکستان میں بھٹو اب کسی شخص یا قبیلے کا نام نہیں رہا۔ ’بھٹو ایک علامت بن گئی ہے جمہوریت کے لیے قربانی کی۔‘ تاج حیدر کے مطابق ملک میں انتخابات اور جمہوریت کی طرف بڑہتا ہوا سفر، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کا خواب ان کارکنوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ ’جو جمہوریت کے لیے قربان ہو وہ بھٹو ہے اور یہ سارے بینظیر کے بھائی تھے جن کی قبریں گڑھی خدابخش میں بنائی گئی ہیں۔‘ |
اسی بارے میں کراچی میں ہلاک ہونیوالوں کی تدفین10 March, 2008 | پاکستان مسئلہ ہمارے افتخار کا ہے: اعتزاز04 March, 2008 | پاکستان بینظیر چہلم میں ہزاروں کی شرکت07 February, 2008 | پاکستان بینظیر بھٹو قبر پر’ولیوں جیسا ہجوم‘06 February, 2008 | پاکستان بیس لاشیں تاحال تدفین کی منتظر06 February, 2008 | پاکستان بینظیر اب ایک ’برانڈ نیم‘ بن گیا22 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||