BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 March, 2008, 18:37 GMT 23:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی میں ہلاک ہونیوالوں کی تدفین

سید قائم علی پریس کانفرنس
سید قائم علی نے پیر کی شب اپنی رہائشگاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا اس موقع پر پر ایدھی ویلفئر ٹرسٹ کے فیصل ایدھی بھی موجود تھے
پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر اور سندھ کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے پارٹی کے نامزد امیدوار سید قائم علی شاہ نے اعلان کیا ہے کہ اٹھارہ اکتوبر کو بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی پر کراچی میں استقبالیہ جلوس میں ہلاک ہونے والے بیس افراد کو بھٹو خاندان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ یہ افراد استقبالیہ جلوس پر ہونے والے پر بم حملے میں ہلاک ہوئے تھے اور اب تک ان کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ تدفین بدھ بارہ مارچ کو ہو گی اور گڑھی خدا بخش میں ان کے لیے ایک یادگار بنائی جائے گی تاکہ ان کی قربانیوں کو یاد رکھا جائے۔


اس بات کا اعلان انہوں نے پیر کی شب اپنی رہائشگاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایدھی ویلفئر ٹرسٹ کے فیصل ایدھی بھی موجود تھے۔

قائم علی شاہ نے بتایا کہ حملے میں 180 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے تھے تاہم بیس ہلاک شدگان کی شناخت نہیں ہو سکی اور ان کی لاشیں یا جسمانی اعضاء اب تک ایدھی ویلفئر ٹرسٹ کے سرد خانے میں رکھے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان بیس ہلاک شدگان میں سے سولہ تو ایسے ہیں جن کے صرف جسمانی اعضاء جائے واقعہ سے ملے تھے جب کہ چار کی مکمل لاشیں ملی تھیں۔ انہوں نے شکایت کی کہ ’حکومت نے ان کی شناخت کے سلسلے میں کوئی تعاون نہیں کیا اور ان کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی انویسٹی گیشن پولیس نے مجبوراً کرایا‘۔

قائم علی شاہ نے کہا کہ ’بے نظیر بھٹو نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ان ناقابل شناخت شہداء کو گڑھی خدا بخش میں ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے اور اب پارٹی کے موجودہ شریک چئرمین آصف علی زرداری نے بھی کہا ہے کہ ان شہیدوں کو بڑے اعزاز اور عزت و احترام کے ساتھ دفنایا جائے‘۔

انہوں نے بتایا کہ اٹھارہ اکتوبر کے حملے کے بعد ایف آئی آر درج کرانے کے لیے بے نظیر بھٹو کا تحریری بیان لے کر وہ خود اور کچھ دوسرے پارٹی رہنما بہادرآباد تھانے گئے تھے لیکن پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے ہی ایف آئی آر درج کرلی ہے۔

کراچی بم دھماکہ فائک فوٹو
اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں بم دھماکوں کے مقام پر لاشوں کے ٹکڑے ہر جگہ بکھرے پڑے تھے

انہوں نے کہا کہ بعد میں پارٹی کی ایک درخواست پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایسٹ نے پولیس کو بے نظیر بھٹو کی فریاد پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی تاہم پولیس نے اس کے خلاف ہائی کورٹ سے اسٹے آرڈر حاصل کرلیا جو اب تک برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں آنے کے بعد واقعے کی ایف آئی آر بھی درج کرائے گی اور تفتیش بھی کرائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج کے لیے بے نظیر بھٹو نے جو تحریری بیان دیا تھا اس میں انہوں نے اپنے اس خط کا بھی حوالہ دیا تھا جو انہوں نے وطن روانگی سے قبل جنرل (ر) پرویز مشرف کو لکھا تھا اور اس میں انہوں نے کچھ لوگوں کے نام لے کر کہا تھا کہ ان افراد سے ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی جماعت اقتدار میں آکر واقعے کی تفتیش میں ان افراد کو بھی شامل کرے گی جن کا تذکرہ بے نظیر بھٹو نے اپنے خط میں کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ ’ہم کوشش کریں گے کہ ایف آئی آر داخل ہو‘۔

سابق وزیر اعلی سندھ ارباب غلام رحیم کی جانب سے اٹھارہ اکتوبر کے واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے ٹریبونل کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر قائم علی شاہ نے کہا کہ ٹریبونل تب تشکیل دیا جاتا ہے جب متاثرہ فریق تفتیشی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے واقعے کی تفتیش پر مامور پولیس افسر پر اعتراض کیا تھا جس کے بعد ایک دوسرے پولیس افسر کو مقرر کردیا گیا تھا لیکن ساتھ ہی یہ ٹریبونل بھی بنادیا گیا جس پر ان کی جماعت پہلے ہی عدم اعتماد ظاہر کرچکی ہے۔

بینظیربینظیر کی سیکورٹی
خطرہ کون، طالبان یا ’جہادی‘ اسٹیبلشمنٹ ؟
لوگ کیا کہتے ہیں
’ہم جمہوریت چاہتے ہیں کرپشن نہیں‘
ہزارہا لوگ منتظر
بینظیر کا دبئی کراچی سفر اور استقبال
’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘
اس استقبال کے بعد یہ نعرہ عجیب نہیں لگا
بے نظیر کی آمد
استقبالیہ پوسٹروں اور بینروں کی بھرمار
بی بی اور میڈیا
بینظیر کا پنجاب پر بیان اخبارات میں چھایا رہا
اسی بارے میں
بینظیر کی سکیورٹی کا مسئلہ
18 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد