BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 February, 2008, 14:10 GMT 19:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیس لاشیں تاحال تدفین کی منتظر

کراچی دھماکے
دھماکے میں ڈیڑھ سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے
کراچی میں اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس میں بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے بیس افراد کی میتیں ابھی تک تدفین کی منتظر ہیں اور ایدھی حکام کو حکومت نے تدفین کی اجازت نہیں دی ہے۔

اٹھارہ اکتوبر کو وطن واپسی پر پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو پر پہلا قاتلانہ حملہ ہوا تھا، جس میں وہ محفوظ رہی تھیں مگر ڈیڑھ سو کے قریب افراد ہلاک اور کئی درجن زخمی ہوگئے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں سے کئی افراد ایسے تھے جن کی شناخت نہیں ہوسکی تھی مگر بعد میں دور دراز سے لواحقین آتے رہے اور شناخت ہوتی رہی مگر اب بھی بیس کے قریب لاشیں ناقابلِ شناخت ہیں اور ایدھی سرد خانے میں موجود ہیں۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے اہلکار انور کاظمی کا کہنا ہے کہ’حکومت کو دو مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ ان کی تدفین کی جائے یا اجازت دی جائے مگر ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا ہے‘۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی مقتول چئرپرسن بینظیر بھٹو نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ یہ نامعلوم افراد لاوارث نہیں ہیں ان کی تدفین گڑھی خدا بخش میں ان کے آبائی قبرستان میں کی جائے گی مگر اس فیصلے پر عمل درآمد سے قبل ہی وہ خود ہلاک ہوگئیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس کے کچھ کارکن لاپتہ ہیں جن کی نشاندہی کے لیے حکومت سے رابطہ کیا گیا، جس کے بعد کچھ لاپتہ افراد اور ان کے لواحقین اور ہلاک ہونے والوں کے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کرائے گئے مگر تمام کے ڈی این اے ٹیسٹ نہیں ہو سکے ہیں۔

 پاکستان پیپلز پارٹی کی مقتول چئرپرسن بینظیر بھٹو نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ یہ نامعلوم افراد لاوارث نہیں ہیں ان کی تدفین گڑھی خدا بخش میں ان کے آبائی قبرستان میں کی جائے گی مگر اس فیصلے پر عمل درآمد سے قبل ہی وہ خود ہلاک ہوگئیں۔

پیپلز پارٹی کراچی کے رہنما رشاد ربانی کا کہنا تھا ’جب بھی کہیں کوئی بم دھماکہ ہوتا ہے تو متاثرین کو حکومت زرِ تلافی ادا کرتی ہے مگر ان ڈیڑھ سو لوگوں کے ورثاء کو ایک پیسہ بھی نہیں دیا گیا ہے، کیا یہ پاکستان کے شہری نہیں تھے‘۔

دوسری جانب کراچی پولیس سربراہ نیاز احمد صدیقی کا کہنا ہے کہ ان کے علم میں نہیں ہے کہ ایدھی حکام نے تدفین کے لیے خط لکھا ہے وہ اس بارے میں معلومات حاصل کریں گے۔

واضح رہے کہ اٹھارہ اکتوبر کو پیش آنے والے واقعہ کی تحقیقات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے تاہم حکومت کی جانب سے بنائے گئے تحقیقاتی ٹریبونل نے بیان ریکارڈ کیے ہیں مگر پاکستان پیپلز پارٹی نے اس کا بائیکاٹ کیا ہے اور اس کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشین دائر کی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
اٹھارہ اکتوبر کے عینی شاہد
04 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد