’بینظیر کا چہرہ گلاب جیسا تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہ نوڈیرو کی ایک ایسی عام خاتون ہیں جو لیڈی ہیلتھ ورکر کی نوکری کے ساتھ شہر میں خواتین کی محفلوں میں نعت پڑھنے کے حوالے سے مشہور تھیں۔ مگر ستائیس دسمبر کے سانحے کے بعد صفیہ بھٹو کی شناخت تبدیل ہوگئی ہے۔ صفیہ کو لوگ محترمہ بینظیر بھٹو کی میت کو غسل دینے والی خاتون کے نام سے جاننے لگے ہیں۔ صفیہ بھٹو اس حوالے سے اپنے آپ کو بھی خوش نصیب سمجھ رہی ہیں۔صفیہ کا کہنا تھا کہ وہ ماضی میں شہر کی دوسری خواتین کی طرح محترمہ بینظیر بھٹو کی تقاریر وغیرہ سنتی تھیں۔ انھوں نے عید کے دنوں میں محترمہ سے ملنے کی کوششیں بھی کی تھیں مگر انہیں معلوم نہیں تھا کہ محترمہ سے ان کی آخری اور یادگار ملاقات اٹھائیس دسمبر کی سرد صبح کو غمزدہ ماحول میں ہوگی۔ صفیہ بھٹو کا کہنا ہے کہ محترمہ کے سر پر بائیں طرف سے ایک گہرا زخم تھا جس سے مسلسل خون بہہ رہا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ محترمہ کو سر کے زخم کے سوا پورے جسم پر کوئی دوسرا زخم نہیں تھا۔ان کا چہرا و جسم بالکل سالم تھا۔ صفیہ کا کہنا ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو کے جسم پر آخری تقریر والی ڈریس بھی نھیں تھی اور ان کے جسم پر ایک سفید چادر پڑی تھی۔محترمہ کی انگلیوں میں کوئی انگوٹھیاں نہیں تھیں۔صرف ایک ترنگے پارٹی جھنڈے جیسا کنگن پہنا ہوا تھا جو میں نے لواحقین کی اجازت سے کاٹ دیا۔ صفیہ کا کہنا ہے ’محترمہ کے سر والے زخم سے بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا اور ان کی مددگار عورتیں خون کی بالٹیاں بھر بھر کر باہر لے جا رہی تھیں۔‘ محترمہ بینظیر بھٹو کےغسل کے وقت صفیہ کےساتھ ان کےبقول آصف علی زرداری کی والدہ، دو بہنیں، شیری رحمان، ناہید خان اور دیگر خواتین موجود تھیں۔ صفیہ کے مطابق ان کی آنکھوں کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ان کے سامنے محترمہ بینظیر بھٹو کی میت ہے۔ صفیہ کی نظر میں وہ جنت کی حور اور گلاب کا پھول لگ رہی تھیں۔ ڈیڑھ گھنٹے کے بعد جب بینظیر صاحبہ کی میت کا غسل وکفن مکمل ہوا تو ان کے بچے اور شوہر آصف زرداری کمرے میں داخل ہوئے۔اس وقت صفیہ بھٹو اپنی آواز میں’زمین میلی نہیں ہوتی کفن میلا نہیں ہوتا‘ والی نعت سنا رہی تھیں۔ صفیہ کےمطابق نعت کےدوران بینظیر بھٹو صاحبہ کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری اور ان کی بہن آصفہ سب سے زیادہ دھاڑیں مار کر رو رہے تھے باقی تمام لوگوں کی آنکھیں آنسؤں سے بھری ہوئی تھیں۔ صفیہ بھٹو گو کہ غمزدہ ہیں مگر وہ خوش بھی ہیں کہ ’مجھ جیسی گنہگار و غریب خاتون کو محترمہ کی میت کو غسل وکفن دینا نصیب ہوا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ غسل و کفن کے بعد مسلسل چار راتیں وہ خواب میں بینظیر بھٹو صاحبہ کو دیکھتی رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی مقامی خواتین نے صفیہ کو ایک جائے نماز، ایک چادر اور کپڑوں کا ایک سوٹ دیا ہے مگر ان کی خواہش ہےکہ انہیں محترمہ بینظیر بھٹو کا ایک سوٹ اگر مل جائے تو وہ اس کو یادگار کےطور پر اپنے پاس رکھنا چاہیں گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||