بینظیر چہلم میں ہزاروں کی شرکت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گڑھی خدا بخش میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مقتول سربراہ بینظیر بھٹو کے چہلم میں ملک بھر سے ہزاروں پارٹی کارکنوں نے شرکت کی ہے جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی چہلم کے حوالے سے فاتحہ خوانی ہوئی ہے اور دیگر تعزیتی تقریبات منعقد کی گئی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اپنے رہنماؤں اور کارکنان سے اپنے اپنے علاقوں میں چہلم کی رسومات ادا کرنے کو کہا تھا تاہم ملک بھر اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے ہزاروں کی تعداد میں کارکنان گڑھی خدا بخش پہنچے اور قبر پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو ان کو کرسی سے باندھ کر گئی ہیں جبکہ وہ ان کو قبر سے باندھ کر گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نظام بدلنے کی ضرورت ہے اور بینظیر نظام بدل رہی تھیں اور اسی وجہ سے ان کو قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بینظیر کا مشن جاری رکھیں گے۔ آصف زرداری نے کارکنان سے وعدہ کیا کہ وہ گڑھی خدا بخش سے یہ عزم کر کے نکل رہے ہیں کہ یا تو وہ ٹولا ختم ہو گا اور اگر وہ اس عزم میں ناکام رہے تو وہ شہید ہو کر گڑھی خدا بخش بھٹو میں دفن ہوں گے۔ آصف علی زرداری نے مختصر خطاب سندھی میں بھی کیا اور کارکنان سے کہا ’یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ عبادت کا ہے۔ سیاست کے دن اور ہیں اور کارکنان سے کہا کہ اپنے غم کو طاقت میں تبدیل کریں۔‘
بینظیر کے چہلم کے موقع پر رضا ربانی، قائم علی شاہ، صفدر عباسی، بابر اعوان، ناہید خان اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مخدوم امین فہیم وہاں موجود نہ تھے کیونکہ وہ ہالہ میں ایک بڑا تعزیتی مجلس کر وا رہے ہیں۔ بینظیر کے چہلم کی موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیےگئے تھے جو کہ پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئے۔ سکیورٹی کی وجہ سے جلسے کے پروگرام کا بھی پہلے سے اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ چہلم کے موقع پر بڑی تعداد میں پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ بینطیر کی قبر کے گرد چار سکیورٹی حصار قائم کیے گئے تھے تاہم کارکنان حفاظتی حصار توڑتے ہوئے مزار میں داخل ہوگئے جس وجہ سے آصف علی زرداری مزار پر فاتحہ خوانی کے لیے نہ آ سکے۔ ساہیوال سے آئے ہوئے ایک کارکن نے کہا ’میں ساری رات سفر کر کے آیا ہوں اور یہاں مجھے پھول رکھنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ حفاظتی انتظامات اچھی بات ہے لیکن مجھے پھول رکھنے دیں جس کے بعد میں واپس چلا جاؤں گا‘۔ پشاور اس سلسلے میں پیپلز پارٹی ضلع پشاور کے زیراہتمام جناح پارک پشاور میں ایک بڑی تقریب منعقد ہوئی جس میں پارٹی کے صوبائی رہنماؤں کے علاوہ شہر بھر سے کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے ملک کے لیے خدمات پر روشنی ڈالی اور انہیں زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ پیپلز پارٹی بینظیر بھٹو کی قتل کا بدلہ ملک میں اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات میں بیلٹ کے ذریعے سے لے گی اور مقتول رہنما کا مشن جاری رکھا جائے گا۔ تقریب کے اختتام پر فاتحہ خوانی اور اجتماعی دعا بھی کرائی گئی۔ لاہور لاہور میں مختلف مقامات پر رسم چہلم کے سلسلہ میں دعائیہ تقریبات ہوئیں جس میں بینظیر بھٹو کے لیے قرآن خوانی ہوئی اور خصوصی دعائیں مانگی گئی ان تقاریب میں سول سوسائٹی کے ارکان دیگر سیاسی اورمذہبی جماعتوں کے اکابرین اور کارکنوں نے بھی شرکت کی۔ | اسی بارے میں بینظیر بھٹو کی کتاب سے اقتباسات04 February, 2008 | پاکستان ’میں بھی وزیرِاعظم بن سکتا ہوں‘05 February, 2008 | پاکستان بینظیر بھٹو کی وصیت05 February, 2008 | پاکستان ’بابر اعوان کا بیان ذاتی تھا‘05 February, 2008 | پاکستان بینظیربھٹو کی جانشینی کا تنازعہ05 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||