افغانستان، مزید فوج کی تعیناتی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر باراک اوباما نے افغانستان میں ’سکیورٹی کے فوری تقاضے‘ پورے کرنے کے لیے سترہ ہزار تک اضافی فوج کی تعیناتی کی منظوری دیدی ہے۔ وہائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں صدر اوباما نے کہا کہ دو برگیڈ افغانستان بھیجی جائیں گی جن میں سے ایک بری فوج کی ہوگی اور ایک مرین فوجیوں کی۔ اضافی فوج کی تعیناتی کا حکم ایسے وقت دیا گیا ہے جب امریکہ افغانستان میں اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہا ہے۔ اس سے پہلے خیال کیا جارہا تھا کہ صدر اوباما تقریباً تیس ہزار اضافی فوج افغانستان بھیجنے والے ہیں۔ دفاعی اہلکاروں کے مطابق فوجی کمک موسم میں گرمی سے پہلے ہی افغانستان پہنچ جائے گی جب برف کے پگھلنے کے ساتھ طالبان کی سرگرمیوں میں تیزی آتی ہے۔ امریکہ کے تینتیس ہزار فوجی پہلے سے افغانستان میں موجود ہیں جن میں سے چودہ ہزار نیٹو کے پرچم تلے ہیں۔ صدر نے کہا کہ افغانستان میں بگڑتی ہوئی صورتحال کو سمبھالنے کے لیے فوج کی تعداد میں اضافہ ضروری ہے۔ ’طالبان پھر سے سر اٹھا رہے ہیں اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں اپنی محفوظ پناہ گاہوں سے القاعدہ طالبان کی حمایت کر رہی ہےاور امریکہ کو دھمکیاں دے رہی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ افغانستان پر اس طرح توجہ مرکوز نہیں کی گئی ہے جس طرح کی جانی چاہیے تھی۔ باراک اوباما نے کہا کہ عراق سے فوجوں کی مجوزہ واپسی کے پیش نظر ہی افغانستان میں فوج کی تعداد میں اضافے کا فیصلہ ممکن ہوسکا۔ اس سے قبل اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ گزشتہ ایک برس کے اندر افغانستان میں امریکی قیادت میں اتحادی فوج اور طالبان کے درمیان جاری لڑائی میں دو ہزار ایک سو اٹھارہ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق مجموعی تعداد میں سے چالیس فیصد شہری اتحادی اور افغان فوج کی کاروائیوں میں مارے گئے۔ جبکہ پچپن فیصد کے لگ بھگ ہلاکتوں کے ذمہ دار خود شدت پسند ہیں۔ کابل سے نامہ نگار مارٹن پیشینس کے مطابق افغانستان میں لڑائی میں شدت آجانے سے افغان شہریوں کی ہلاکتوں میں بھی بھاری اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں زیادہ تر ہلاکتیں ملک کے جنوب میں ان خود کش بم حملوں کے دوران ہوئیں جن میں طالبان شدت پسندوں نے شورش کے خلاف لڑنے والی ملکی اور غیر ملکی فوج کو ہدف بنانے کی کوشش کی مگر ان میں زیادہ شہری نشانہ بنے۔ تاہم رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ اتحادی افواج کی کاروائیوں کے دوران آٹھ سو سے زیادہ شہری مارے گئے۔ |
اسی بارے میں ’افغانستان، عشرے لگ سکتے ہیں‘26 October, 2008 | آس پاس مغوی سفارتکار، بے توجہی پر تشویش27 October, 2008 | آس پاس پیٹریئس، سینٹرل کمانڈ کے سربراہ31 October, 2008 | آس پاس افغانستان کے لیے 30 ہزار مزید فوج20 December, 2008 | آس پاس افغانستان، کیا حالات بدلیں گے؟20 January, 2009 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||