پاک افغان پالیسی، جائزہ کمیٹی تشکیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر باراک اوباما نے افعانستان اور پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسی کا ازسر نو جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسی کا جائزہ اپریل میں ہونے والی نیٹو کانفرنس سے پہلے مکمل کر لیا جائے گا۔ پالیسی کا جائزہ لینے کے لیے سی آئی اے کے ایک سابق اہلکار بروس رائیڈل کو مقرر کیا گیا ہے۔ بروس رائیڈل سی آئی سے ریٹائرمنٹ کے بعد بروکنگ انسٹیوٹ سے منسلک ہیں اور جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر تصور کیے جاتے ہیں۔ امریکی پالیسی کو جائزہ لینے والے پینل کی مشترکہ طور پر سربراہی افغانستان اور پاکستان کے بارے میں امریکی صدر کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک اور مائیکل فلورنائے کریں گے۔ مائیکل فلورنائے امریکی دفاع کے سابق اہلکار ہیں اور سینٹر فار نیو امریکن سکیورٹی کے بانی ممبران میں سے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق بروس رائیڈل افغانستان اور پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسی کے فوجی اور غیر فوجی پہلوؤں پر صدر باراک اوباما اور ان کے سکیورٹی کے مشیر جم جونز کو براہ راست رپورٹ کریں گے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے منگل کے روز اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے القاعدہ کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں اور امریکہ ان کو ختم کرے گا۔ امریکی صدر نے کہا تھا کہ القاعدہ کی کمر توڑنے کے لیے فوجی کارروائی، علاقے میں ترقی اور سفارتی کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ بی سی سی کےنامہ نگار برجیش اپودھیائے کے مطابق بروس رائیڈل لمبے عرصے تک سی آئی اے میں کام کر چکے ہیں اور تین امریکی صدرو کو جنوبی ایشیا کے بارے میں مشورے دے چکے ہیں۔ برجیش اپودھیائے جو کئی بار بروس رائیڈل سے بروکنگ انسٹٹیوٹ میں مل چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ بروس رائیڈل سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے مسئلے کا حل مسئلہ کشمیر کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ بروس رائیڈل سمجھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بعد پاکستان کی فوج مکمل طور پر افعانستان کے ساتھ سرحد پر اپنی توجہ مرکوز کر سکتی ہے جس سےالقاعدہ کا قلع قمع کرنا ممکن ہوگا۔ | اسی بارے میں ’القاعدہ کی پناہ گاہیں پاکستان میں‘10 February, 2009 | آس پاس ’امریکہ پالیسی کا ازسرِ نو جائزہ لےگا‘10 February, 2009 | پاکستان ہالبروک، ملاقاتوں کا سلسلہ شروع10 February, 2009 | پاکستان بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||