BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 February, 2009, 02:31 GMT 07:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’القاعدہ کی پناہ گاہیں پاکستان میں‘
باراک اوبامہ
فاٹا کےعلاقوں میں القاعدہ کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کریں گے: اوبامہ
امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے القاعدہ کےدہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں اور ان کو ختم کرنا انتہائی ضروری ہے۔

باراک اوباما نے صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔

صدر باراک اوباما نے کہا کہ ان کی انتظامیہ القاعدہ سے نمٹنے کے لیے اپنائےگئے پرانے طریقہ کار کا از سر نو جائزہ لے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان سے متعلق ان کے ایلچی رچرڈ ہالبروک پاکستان میں موجود ہیں اور وہ اپنے دورے کےدوران پاکستان پر واضح کریں گے کہ امریکہ کو القاعدہ کی محفوظ پناہ گاہیں ہرگز قبول نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان پر واضح کرنے کی کوشش کرے گا کہ القاعدہ محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنا خود پاکستان کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا امریکہ کے لیے۔

انہوں نے کہ انہیں خوشی ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت دہشتگردی سے نمٹنا چاہتی ہے اور صدر زرداری اپنے علاقوں کو دہشتگردوں سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اس کا مضبوط اتحادی رہے۔

بن لادن کو کھلی چھٹی نہیں
 اسامہ بن لادن کو کھلی چھٹی نہیں دی جا سکتی ہے اور امریکہ کو فاٹا میں القاعدہ کی محفوظ پناہ گاہیں ہرگز قبول نہیں ہیں
باراک اوباما
News image
امریکی صدر نے کہا کہ اسامہ بن لادن کو کھلی چھٹی نہیں دی جا سکتی ہے اور امریکہ کو فاٹا میں القاعدہ کی محفوظ پناہ گاہیں ہرگز قبول نہیں ہیں۔

امریکی صدر نے افغانستان سے فوجوں کے انخلاء سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ اس کی کوئی مدت مقرر نہیں کر سکتے۔

ایران کے بارے امریکی صدر نے کہا کہ ان کی انتظامیہ ایران کو ایسے اشارے دے رہی ہے کہ وہ معاملات کو مختلف انداز میں حل کرنا چاہتی ہے۔

باراک اوباما نے کہا کہ ان کی انتظامیہ ایسے مواقعے پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ امریکہ اور ایران آمنے سامنے بیٹھ کر معاملات کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کرنے میں وقت لگے گا۔

انہوں نے کہا ایران کے ایٹم بم بنانے سے علاقے میں اسلحہ کی ایک دوڑ شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دہشتگرد تنظیموں کی مالی امداد امریکہ کے لیے ناقابل قبول ہے۔

ایران کو اشارے
News image
ہم ایسے مواقعے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکہ اور ایران آمنے سامنے بیٹھ کرمعاملات کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کرنے میں وقت لگے گا۔
صدر باراک اوباما

باراک اوباما نے اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں دیا کہ مشرق وسطیٰ میں کس ملک کے پاس جوہری اسلحہ ہے۔

صدر اوباما کی پہلی پریس کانفرنس میں زیادہ سوالات امریکہ کو درپیش مالی بحران سے متعلق تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ امریکی کانگریس امریکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ان کے آٹھ سو ارب ڈالر کے پیکج کی منظوری دے گی۔

انہوں نے کہا امریکی کو حقیقی خطرہ لاحق ہیں اور مالی پیکج کو منظور کرنے میں دیر نہیں کی جانی چاہیے۔

امریکہ صدر نے کہا کہ انہیں حیریت ہے کہ ان کے امدادی پیکج پر وہ لوگ اعتراض کر رہے ہیں جن کے دور اقتدار میں ملکی معیشت تباہی کے دھانے پر پہنچ گئی۔

انہوں نے کہا کہ ان کے امدادی پیکیج کا مقصد فائنینشل مارکیٹ میں اعتماد کی فضا کو بحال کرنا ہے تاکہ بینک ایک بار پھر قرضے دینے شروع کریں اورمالی مارکیٹیں اپنا کام شروع کر سکیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد