BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 January, 2009, 17:14 GMT 22:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائلی علاقے، ’حملے جاری رہیں گے‘

رابرٹ گیٹس
گیٹس بش انتظامیہ میں بھی وزیرِ دفاع کے عہدے پر فائز تھے
امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس کے مطابق امریکی حکومت نے پاکستان کو بتا دیا ہے کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف حملے جاری رکھے گی۔

امریکی سینیٹ میں آرمڈ فورس سروس کے اجلاس کے دوران اس سوال پر کہ امریکی محکمۂ دفاع کا پاکستانی حکومت کی جانب سے میزائل حملوں کو نقصان دہ قرار دیتے ہوئے انہیں بند کرنے کے مطالبے پر کیا ردعمل ہے، امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ’مجھے یہ کہنے دیں کہ صدر بش اور صدر اوباما یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ ہم ہر اس جگہ القاعدہ کا پیچھا کریں گے جہاں وہ موجود ہے‘۔

امریکی وزیرِ دفاع نے کمیٹی کے سوال پر اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستانی حکومت کو امریکی حکومت کے اس فیصلے کے بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔

تاہم بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر پاکستانی حکومت کو ایسی کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی ہے۔

رابرٹ گیٹس نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ امریکہ موسمِ بہار کے آخر میں مزید دو بٹالین فوج افغانستان بھیجے گا جبکہ ایک بٹالین فوج سنہ 2009 کے آخری مہینوں میں افغانستان جائے گی۔

 صدر بش اور صدر اوباما یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ ہم ہر اس جگہ القاعدہ کا پیچھا کریں گے جہاں وہ موجود ہے‘۔
رابرٹ گیٹس

خیال رہے کہ بش انتظامیہ کے دور میں ہونے والے میزائل حملوں کے بعد وزیراعظم پاکستان نے ایوان میں کہا تھا کہ صدر اوباما کے دور میں یہ حملے بند ہو جائیں گے تاہم باراک اوباما کی حلف برداری کے فوراً بعد ہی وزیرستان کے علاقے میں امریکی طیاروں کے میزائل حملوں میں چار غیر ملکیوں سمیت بارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس کے بعد گزشتہ سنیچر کو پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کے ساتھ ملاقات میں صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ اس طرح کے حملوں سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تعاون متاثر ہو سکتا ہے۔ پاکستانی صدر نے اس عزم کو دہرایا کہ قبائلی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا حق صرف پاکستانی اداروں کو ہی ہے۔

ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکی حکام نے پاکستانی حکومت کو اب تک کیے جانے والے میزائل حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی فہرست مہیا کی ہے اور ان کا دعوٰی ہے کہ مرنے والوں میں زیادہ تعداد شدت پسندوں کی ہے اور اب تک کی کارروائیوں میں عوام کا جانی و مالی نقصان بہت معمولی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد