BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 January, 2009, 13:43 GMT 18:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: میزائل حملے، بارہ ہلاک

باراک اوبامہ کے دورِ صدارت میں یہ پہلا میزائل حملہ ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دو امریکی میزائل حملوں میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پہلا حملہ شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں ایک قبائلی کے گھر پر ہوا جس میں سات افراد ہلاک ہوئے۔

حکام نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں چار عرب باشندے بھی شامل ہیں۔

دوسرا حملہ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے تین کلومیٹر دور علاقہ گنجی خیل میں ایک گھر پر ہوا اور اس میں پانچ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

باراک اوبامہ کے امریکی صدارت کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد پاکستان میں یہ پہلا میزائل حملہ ہے۔

مقامی لوگوں کا مزید کہنا ہے کہ مقامی طالبان نے مذکورہ گھر کو محاصرے میں لے لیا ہے اور وہاں سے لاشیں نکالی جا رہی ہیں۔

اس سلسلے میں جب پاکستانی فوج کے ترجمان اطہر عباس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں حملے کی اطلاع پہنچی ہے تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو پارہی ہے۔

بین الاقوامی خبررساں ادارے ان میزائیل حملوں میں ہلاک ہونے والی کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات دے رہے ہیں۔
امریکی خبررساں ادارہ ایسوسی ایٹڈ پریس مرنے والوں کی تعداد بیس بتا رہا ہے جبکہ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان حملوں میں پندرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اے ایف پی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی ڈرونز سے ایک گھر پر پانچ میزائیل داغے گئے جس میں مرنے والوں میں تین بچے بھی شامل ہیں۔

یہ حملے ایک ایسے وقت کیئے گئے ہیں جب جمعرات کو ہی پاکستانی حکام نے ملک کے دورے پر آئے ہوئے نیٹو کے سیکریٹری جنرل جاپ ڈی ہوپ کے ساتھ ملاقاتوں میں سرحد پار سے ڈرونز طیاروں کے حملے روکنے پر زور دیا تھا۔

پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے چند ماہ قبل اس امید کا اظہار کیا تھا کہ امریکہ کے نومنتخب صدر باراک اوبامہ کی بیس جنوری کو حلف لینے کے بعد پاکستانی سرزمین پر جاسوسی طیاروں کے حملے بند ہوجائیں گے۔

شمالی وزیرستان میں آخری بار سولہ دسمبر کو ڈرونز کا مبینہ حملہ ہوا تھا جس کے بعد طالبان نے صرف ایک ماہ کے دوران پندرہ سے زائد افراد کو امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں قتل کردیا تھا۔طالبان نے دعوی کیا تھا کہ انہوں نے جاسوسوں کےنیٹ ورک کو کمزور کردیا ہے۔

اسلام آباد پر ’قبضہ‘
ڈمہ ڈولہ پر امریکی حملے سے لیکر اب تک
ٹارگٹ وزیرستان
امریکی میزائل حملے اور طالبان کی مقبولیت
ڈرون کے حملے زیادہ
امریکہ نےقبائلی علاقوں میں حکمت عملی بدلی ہے
وزیرستان صورتحال
علاقے میں غیرملکیوں کی موجودگی حقیقت ہے۔
 بیت اللہ مسحودایک پیغام
’کارروائی بند نہ ہوئی تو انتقام ضرور لیا جائےگا‘
طالبان’جاسوس‘ نیٹ ورک
’شمالی وزیرستان میں نیٹ ورک کمزور‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد