BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 January, 2009, 07:17 GMT 12:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
2009: دو دنوں میں دوسرا ڈرون حملہ

ڈرون
ہلاک ہونے والوں میں مقامی اور ’پنجابی‘ طالبان تھے: مقامی انتظامیہ
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیارے سےداغے گئے دو میزائل ایک سرکاری پرائمری سکول پر گرے ہیں جس میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں مقامی اور ’پنجابی‘ طالبان بتائے جاتے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جمعہ کو دس بجے کے قریب جنوبی وزیرستان کے سب ڈویژن لدھا سے تین کلومیٹر دور مغرب کی جانب میدان نارائی کے علاقے سلطانہ میں امریکی جاسوس طیاروں سے دو میزائل فائر کیے گئے ہیں۔ اس حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں مقامی اور ’پنجابی‘ طالبان شامل ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں کوئی غیر ملکی عرب شامل نہیں ہے اور ہلاک ہونے والے مقامی اور پنجاب کے رہنے والے طالبان ہیں۔

’پنجابی طالبان‘
 مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جمعہ کو دس بجے کے قریب جنوبی وزیرستان کے سب ڈویژن لدھا سے تین کلومیٹر دور مغرب کی جانب میدان نارائی کے علاقے سلطانہ میں امریکی جاسوس طیاروں سے دو میزائل فائر کیے گئے ہیں۔ اس حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں مقامی اور ’پنجابی‘ طالبان شامل ہیں

مقامی لوگوں کے مطابق میزائل حملہ ایک سرکاری پرائمری سکول پر ہوا ہے اس سکول میں طالبان موجود تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں کوئی اہم شخصیت شامل ہے یا نہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ میزائل حملے کے بعد مقامی لوگوں نے ملبہ سے تین لاشوں کو نکال لیا اور تین زخمیوں کو مکین کے ایک نجی ہسپتال میں داخل کرا دیاگیا ہے۔

یاد رہے کہ اس پہلے بھی جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں امریکہ کی جانب سے مقامی طالبان یا عام لوگوں کے گھروں کو جاسوس طیاروں یا میزائل حملے سے نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں مقامی طالبان سمیت مقامی لوگ بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔

امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوباما پہلے ہی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ اپنی توجہ افغانستان پر مرکوز کریں گے اور وہاں جلد ہی امریکی فوج کی تعداد میں اضافے کا عمل شروع ہوجائے گا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں فوجی سرگرمیاں تیز ہو جائیں گی کیونکہ باراک اوباما کا خیال ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان کو محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ امریکہ افغانستان میں طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے مقامی ملیشیائیں قائم اور منظم کرنے کی کوشش کرے گا جیسا کہ اس نے عراق میں کیا تھا۔

ٹارگٹ وزیرستان
امریکی میزائل حملے اور طالبان کی مقبولیت
گائیڈڈ میزائل حملہگائیڈڈ میزائل حملے
قبائلی علاقوں میں گائیڈڈ میزائل حملوں میں اضافہ
قبائلی علاقے باجوڑ پر میزائل حملہ باجوڑ، میزائل حملہ
’پاکستانی سکیورٹی فورسز ملوث نہیں‘
بنوں میں حملےبنوں میزائل حملے
بنوں کے شہری میزائلوں کا نشانہ
سیدگئی میں دھماکہدھماکہ یامیزائل حملہ
سیدگئی میں دھماکہ: تصاویر میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد