BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 November, 2008, 07:58 GMT 12:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی میزائل حملے اور طالبان کی مقبولیت

ڈرون
جاسوس طیاروں کے ان کاروائیوں کے بارے میں تجزیہ نگاروں میں دو قسم کی رائے پائی جاتی ہیں

امریکہ پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں تواتر سے کیے گئے میزائل حملوں کے ذریعے القاعدہ اور طالبان کو ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے اور اب تک سامنے آنے والے اطلاعات کے مطابق ان میں سے زیادہ تک میزائل اپنے نشانے پر لگے ہیں۔

تاہم کچھ مبصرین کا خِیال ہے کہ ان میزائل حملوں سے شدت پسندی میں مزید اضافے کے امکانات موجود ہیں جس کا فائدہ بھی کسی حد تک عسکریت پسندوں کو پہنچ سکتا ہے۔

وزیرستان اور پاکستان کے دیگر قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں کا اغاز ویسے تو جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں شروع ہوا لیکن ان میں حالیہ اضافہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں دیکھنے میں آیا ہے۔

مقامی طور پر حاصل کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق وزیرستان میں اب تک اٹھارہ مرتبہ امریکی جاسوس طیاروں اور میزائل حملے کئے گئے ہیں جن میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ڈیڑہ سو کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ طالبان اور چند اہم غیر ملکی جنگجو بھی بتائے جاتے ہیں۔

پشاور میں قبائلی علاقوں کے ایک اہم سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ اب تک ہونے والے یہ حملے زیادہ تر صحیح ہدف پر لگے ہیں اور ان میں کئی عرب جنگجو بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔

جاسوس طیاروں کے ان کاروائیوں کے بارے میں تجزیہ نگاروں میں دو قسم کی رائے پائی جاتی ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ان حملوں کے بارے میں خفیہ معلومات حکومت پاکستان خود مبینہ طورپر امریکیوں کو فراہم کرتی رہی ہے تاہم بعض کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت نے اپنے طورپر وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں میں ایک نیٹ ورک قائم کرلیا ہے جس میں مقامی لوگوں کو استعمال کیا جارہا ہے۔

 جاسوس طیاروں کے ان کاروائیوں کے بارے میں تجزیہ نگاروں میں دو قسم کی رائے پائی جاتی ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ان حملوں کے بارے میں خفیہ معلومات حکومت پاکستان خود مبینہ طورپر امریکیوں کو فراہم کرتی رہی ہے تاہم بعض کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت نے اپنے طورپر وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں میں ایک نیٹ ورک قائم کرلیا ہے جس میں مقامی لوگوں کو استعمال کیا جارہا ہے

یہ اکثر اوقات دیکھنے میں آیا ہے کہ جب بھی اس طرح کے حملے ہوتے ہیں تو اس کے دوسرے یا تیسرے دن انہی علاقوں سے نامعلوم افراد کی سربریدہ یا گولیوں سے چھلنی لاشیں ملتی ہیں جنہیں مبینہ طورپر امریکہ کےلیے جاسوسی کے الزام میں قتل کیا گیا ہوتا ہے۔

ایک تجزیہ نگار کہتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری مبینہ جنگ میں امریکہ کو اب پاکستانی حکمرانوں اور اعلی اہلکاروں پر مزید اعتماد نہیں رہا اسی وجہ سے وہ خود شدت پسندوں کے خلاف کاروائیاں کررہے ہیں۔ ان کے مطابق اس قسم کی کاروائیوں کا ایک مقصد پاکستان پر طالبان اور القاعدہ کے خلاف مزید کاروائیاں کرنے کےلیے دباؤ بھی بڑھانا ہے۔

پاکستان کا ان حملوں کے حوالے سے موقف انتہائی غیر سنجیدہ اور غیر رسمی سا رہا ہے۔ اگرچہ حکومت پرزور طور پر ان واقعات کی مخالفت کرتی رہی ہے لیکن یہ سارا موقف صرف الفاظ کی حد تک ہی محدود ہے۔ پارلمینٹ کے غیر معمولی اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد میں بھی ان حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی تھی لیکن اس کے باوجود یہ واقعات مسلسل جاری ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے باوجود بھی پاکستان امریکہ کو اب تک اس بات پر قائل نہیں کرسکا کہ ان حملوں کے مستقبل میں انتہائی بھیانک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ میزائل حملے طالبان اور دوسرے شدت پسند گروپوں کو ایک قسم کےلیے امریکہ کے خلاف کاوائیاں کرنے کےلیے جواز فراہم کررہے ہیں۔

چند دن قبل جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے قریب امریکی جاسوس طیارے سے ایک حملہ کیا گیا جس میں مقامی طالبان کے کمانڈر ملا نذیر زخمی ہوئے تھے۔

 دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے باوجود بھی پاکستان امریکہ کو اب تک اس بات پر قائل نہیں کرسکا کہ ان حملوں کے مستقبل میں انتہائی بھیانک نتائج برامد ہوسکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ میزائل حملے طالبان اور دوسرے شدت پسند گروپوں کو ایک قسم کےلیے امریکہ کے خلاف کاوائیاں کرنے کےلیے جواز فراہم کررہے ہیں

اس حملے کے دوسرے دن وانا کے قریب سکیورٹی فورسز کے چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ہوا جس میں سکاؤٹس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ فوجی ذرائع نے خودکش دھماکے کو امریکی حملے کا ردعمل قرار دیا تھا۔ باالفاظ دیگر امریکی حملے کا بدلہ ان پاکستانی سکیورٹی فورسز سے لیا گیا جو خود امریکہ کی جنگ میں اس کے ساتھی ہے۔

ملا نذیر کئی بار کہہ چکے ہیں کہ امریکہ وزیرستان میں جب بھی حملہ کرےگا تو اس کا بدلہ پاکستانی سکیورٹی فورسز سے لیا جائے گا کیونکہ ان کے بقول یہ حملے حکومت پاکستان کے کہنے پر ہورہے ہیں۔

اگر دہشت گردی کے اس مبینہ جنگ میں شامل اہم اتحادیوں کے مابین اعتماد کے فقدان کا یہ حال ہے تو ایسے حالات میں کامیابی کیسے ممکن ہے؟

گزشتہ کچھ عرصہ سے طالبان کی طرف سے ہونے والے خودکش حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کے بار بار واقعات اور بعض علاقوں میں ان کے خلاف عام لوگوں کے اٹھ کھڑے جانے سے آجکل عسکریت پسندوں کی حمایت عوام میں کم ہونے کی اطلاعات ہیں۔ خیال ہے کہ قبائلی علاقوں میں طالبان کی مقبولیت کا گراف اب وہ نہیں رہا جو کبھی پہلے ہوا کرتا تھا۔

لیکن قبائلی امور کے ماہرین بتاتے ہیں کہ اگر ان علاقوں میں جاری امریکی حملے بند کرانے کےلیے فوری اقدامات نہیں کئے گئے تو اس سے شدت پسندوں کی حمایت میں اضافہ ہوسکتا ہے اور وہ ایک بار پھر لوگوں کا اعتماد حاصل کرسکتے ہیں۔

اسی بارے میں
ڈرون حملوں پر سینیٹ کی مذمت
27 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد