امریکی میزائل حملے میں ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام کے مطابق شمالی وزیرستان ایک مشتبہ امریکی میزائل حملے میں کم سے کم آٹھ لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ افغانستان کی سرحد کے قریب پیش آیا ہے۔ میزائل بغیر پائلٹ کے پرواز کرنے والے امریکی جاسوسی طیارے سے فائر کیے گئے۔ حکام نے بتایا کہ میزائلوں سے دور دراز علاقے میں ولادین نامی گاؤں میں ایک گھر تباہ ہو گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ مکان امیر گل نامی مقامی فرد کا گھر ہے اور ان کے مقامی طالبان اور غیرملکیوں کے ساتھ روابط ہیں۔ تاہم حکام نے اس حملے میں کسی غیرملکی کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعہ کے صبح تین بجے کے قریب اچانک دو زوردار دھماکے ہوئے اس کے بعد علاقے کے لوگ گھروں سے باہر نکل آئے لیکن کچھ معلوم نہیں ہورہا تھا کہ دھماکے کہاں ہوگئے ہیں۔ علاقے کے رہائشیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ولادین کا علاقہ کام شام کے قریب ہے اور اس علاقے میں آبادی ایک جگہ نہیں ہے اور پھیلے ہوئے پہاڑی سلسلوں میں لوگوں کے مکانات بنے ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں نے بھی امیر گل کے گھر میں آٹھ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ لوگوں کے مطابق ولادین کا علاقہ افغان سرحد کے قریب نہیں بلکہ یہ علاقہ شمالی وزیرستان کے سب ڈویژن رزمک کے مشرق میں دور دوردراز ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں مقامی طالبان اور کچھ غیر ملکیوں کے حامی ساتھی موجود ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ امیر گل کے ہاں کے بھی غیر ملکیوں کا آنا جانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی جاسوس طیاروں میں اضافہ ہوا ہے اور وہ دن رات شمالی اور جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں گشت لگا رہے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں افغانستان کی سرحد کے قریب امریکی میزائل حملوں میں درجنوں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ واضح رہے کہ منگل کے روز پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ حکومت اب قبائلی علاقوں میں امریکی حملے برداشت نہیں کرے گی۔ یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی رکن ماروی میمن کی جانب سے حملوں پر نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہی تھی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سوموار کو پاکستان میں امریکی سفیر ڈبلیو این پیٹرسن اور انٹیلیجینس ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اُن سے وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی اور ان پر واضح کیا کہ پاکستان کی سرزمین پر امریکی حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے اور ان حملوں پر پاکستانی عوام کو شدید خدشات ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ ایک مہینے میں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امریکہ کی جانب سے میزائل حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے نتیجہ میں ایک سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس سے پہلے شمالی وزیرستان کے علاقے ڈانڈے درپہ خیل میں افغان طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی کے گھر اور مدرسہ پر حملہ ہوا تھا جس میں بیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے سے پانچ دن قبل جنوبی وزیرستان کے علاقہ انگور اڈہ میں امریکہ اور اتحادیوں کے حملے میں بیس شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ یکم ستمبر کے بعد سے اس طرح کے سترہ حملے ہوئے ہیں جن میں امریکہ کے مطابق القاعدہ کے رہنماؤں کو کامیابی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ مقامی قبائلی رہنماؤں کا کہنا ان حملوں میں شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ زیادہ تر حملے وزیرستان میں ہوئے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ امریکی حملے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں فائدے کی بجائے نقصان کا باعثث بن رہے ہیں۔ امریکی فوجی جنرل ڈیوڈ پیٹریئس کہہ چکے ہیں وہ ان حملوں سے متعلق پاکستان کی تنقید پر غور کریں گے۔ | اسی بارے میں وزیرستان پرمیزائل، سولہ ہلاک 31 October, 2008 | پاکستان وزیرستان میزائل حملہ، گیارہ ہلاک07 November, 2008 | پاکستان میزائل حملہ، ازبک اور تاجک ہلاک08 November, 2008 | پاکستان ڈمہ ڈولہ:میزائیل حملے کی اطلاعات14 May, 2008 | پاکستان شمالی، جنوبی وزیرستان پر میزائل، 16 ہلاک31 October, 2008 | پاکستان وانا میں ’میزائل حملہ‘ چھ ہلاک20 August, 2008 | پاکستان وزیرستان میں ایک اور میزائل حملہ31 August, 2008 | پاکستان ’ڈمہ ڈولا میں میزائل حملہ، سات ہلاک‘14 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||