BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 November, 2008, 08:25 GMT 13:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان میزائل حملہ، گیارہ ہلاک

امریکی جاسوسی طیارہ(فائل فوٹو)
پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ امریکی حملے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں فائدے کی بجائے نقصان کا باعثث بن رہے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق مشتبہ امریکی میزائل حملے میں گیارہ افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کو شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں مبینہ طور پر امریکی جاسوسی طیارے سے دو میزائل فائر کیے گئے۔

رزمک کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ لطف الرحمان نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ایک مکان پر کیا گیا ہے جہاں مبینہ مقامی جنگجو موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ رزمک کے دور دراز علاقے کام شام میں ہوا ہے اور انہوں نے اس علاقے میں اہلکاروں کو بھجوایا ہے۔

مقامی آبادی کے مطابق تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے کچھ لاشوں کو نکال لیا گیا ہے جن میں زیادہ تر مقامی طالبان بتائے جاتے ہیں۔ حملے کے بعد مقامی طالبان نے کام شام کو جانے والے راستہ بند کر دیا ہے اور ملبے سے نکالی گئی لاشوں کو فوری طور پر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ میرانشاہ میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ لوگوں میں زبردست خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

اس کے علاوہ وانا میں نامعلوم افراد نے زیڑی نور فوجی کالونی پر راکٹ سے حملے کیے ہیں جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے ساری رات توپخانے کا استعمال بھی کیاہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ایک مہینے میں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امریکہ کی جانب سے میزائل حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے نتیجہ میں ایک سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس سے پہلے شمالی وزیرستان کے علاقے ڈانڈے درپہ خیل میں افغان طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی کے گھر اور مدرسہ پر حملہ ہوا تھا جس میں بیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے سے پانچ دن قبل جنوبی وزیرستان کے علاقہ انگور اڈہ میں امریکہ اور اتحادیوں کے حملے میں بیس شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

یکم ستمبر کے بعد سے اس طرح کے سترہ حملے ہوئے ہیں جن میں امریکہ کے مطابق القاعدہ کے رہنماؤں کو کامیابی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ مقامی قبائلی رہنماؤں کا کہنا ان حملوں میں شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ زیادہ تر حملے وزیرستان میں ہوئے ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ امریکی حملے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں فائدے کی بجائے نقصان کا باعثث بن رہے ہیں۔ امریکی فوجی جنرل ڈیوڈ پیٹریئس کہہ چکے ہیں وہ ان میزائیل حملوں سے متعلق پاکستان کی تنقید پر غور کریں گے۔

کمانڈر سے انٹرویو
جلال آباد میں امریکی کمانڈر سے گفتگو
میزائل حملہ(فائل فوٹو)’سرحد پار‘سےحملے
پاکستان میں امریکی حملوں کی ٹائم لائن
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد