امریکی سفیر طلب، حملوں پر احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے بدھ کے روز پاکستان میں امریکی سفیر کو وزارت خارجہ طلب کرکے قبائلی علاقوں میں جاری امریکی طیاروں کے ذریعے میزائل حملوں پر شدید احتجاج کیا ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک مختصر بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن پر واضح کیا گیا کہ پاکستان ان میزائل حملوں میں جانی اور مالی نقصان کی شدید مذمت کرتا ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ حملے پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی ہے اور انہیں فوری طور پر بند کیا جائے۔ بیان میں بتایا گیا کہ امریکی سفیر پر یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ حملے حکومت کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں کے لیے عوامی حمایت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ حملوں کے خلاف پاکستان کے ایوان بالا یا سینٹ میں متفقہ طور پر منظور کی جانے والی مذمتی قرار داد بھی امریکی سفیر کے حوالے کی گئی۔ ماضی میں بھی پاکستان امریکہ سے اس قسم کے حملوں پر باضابطہ احتجاج کر چکا ہے لیکن بظاہر امریکی حملوں کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ حالیہ احتجاج سینیٹ میں گزشتہ پیر منظور کی جانے والی مذمتی قرار داد کی وجہ سے ہوا ہے۔ قائد ایوان رضا ربانی کی جانب سے پیش کی گئی اس قرار داد میں حکومت سے احتجاج کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ قرار داد ایوان کی معمول کی کارروائی معطل کر کے پیش کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ تازہ ترین حملہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ہوا تھا جس میں بیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں امریکی میزائل حملہ،پانچ ہلاک09 October, 2008 | پاکستان وزیرستان: امریکی حملہ، چار ہلاک11 October, 2008 | پاکستان شمالی وزیرستان میزائل حملہ: 8 ہلاک، 6 زخمی23 October, 2008 | پاکستان سینیٹ: امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں28 October, 2008 | پاکستان حملے پارلیمان کی توہین: ربانی24 October, 2008 | پاکستان پارلیمان، فوجی پالیسیوں پر تنقید09 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||