BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 October, 2008, 12:03 GMT 17:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں

رضا ربانی
دہشت گردی کے خلاف کئی سال سے جاری جنگ کے دوران پہلی بار ایسا ہوا ہے
سینیٹ میں قائد ایوان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل رضا ربانی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت پاکستان کی سرحدی خلاف ورزیوں کے معاملے میں امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ رہی ہے اور اسی بنا پر امریکہ پاکستان میں تین ستمبر کے بعد زمینی کارروائی سے گریزاں ہے۔

سینیٹ کے اجلاس میں جماعت اسلامی کے رکن پروفیسر خورشید احمد کی جانب سے پاکستان پر امریکی میزائل حملوں کا معاملہ اٹھائے جانے پر رضا ربانی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کئی سال سے جاری جنگ کے دوران پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پاکستان نے امریکی کارروائیوں پر اتنا سخت اور واضح موقف اختیار کیا ہے۔

رضا ربانی کا دعوٰی تھا کہ یہ انکی حکومت کا سخت گیر احتجاج ہی تھا جس کے بعد سے امریکہ نے پاکستان کے اندر زمینی کارروائی سے اجتناب برتا ہے۔

تاہم انہوں نے نام لیے بغیر سابق حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین کے لیے طنزیہ انداز گفتگو اختیار کرتے ہوئے کہا ’ضروری نہیں کہ ہر مرتبہ کڑاکے ہی نکالے جائیں، کبھی گُھجی مار بھی کام دکھا دیتی ہے‘۔

انہوں نے بعض امریکی اور برطانوی اخبارات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اس غیر معمولی ردعمل کا تذکرہ غیر ملکی اخبارات نے بھی کیا ہے اور تین ستمبر کے بعد حکومت پاکستان کی حکمت عملی کو حیران کن اور غصہ سے بھرپور قرار دیا ہے۔

جماعت اسلامی کے سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ وہ زمینی حملے کے بارے میں حکومت کے احتجاج کو سراہتے ہیں جو واقعی خاصا موثر ثابت ہوا۔

اشارہ میزائل حملوں کی جانب تھا
 میرا اشارہ میزائل حملوں کی جانب تھا جن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت امریکہ کو جاسوس طیاروں کے ذریعے ہونے والے ان حملوں سے روکنے میں ناکام رہی ہے
پروفیسر خورشید احمد
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کا اشارہ میزائل حملوں کی جانب تھا جن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت امریکہ کو جاسوس طیاروں کے ذریعے ہونے والے ان حملوں سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔

اس سے پہلے صدر مملکت آصف علی زرداری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے پروفیسر خورشید نے کہا کہ صدر زرداری نے اپنے خطاب میں جو لب و لہجہ اختیار کیا وہ پارلیمانی جمہوری روایات کے منافی ہے۔

پروفیسر خورشید کے بقول صدر زرداری کا یہ کہنا کہ ’میں ملک کو اندھیروں سے نکالوں گا اور اس میں حکومت میری مدد کرے گی‘ ایک پارلیمانی نہیں بلکہ صدارتی نظام حکومت کی عکاسی کرتا ہے۔

سینیٹر خورشیدنے کہا کہ صدر زرداری اور حکومت کو صدر اور پارلیمان کے اختیارات کے بارے میں کسی غلط فہمی یا ابہام کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے بعض غیر ملکی اخبارات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بہت دکھ اور شرمندگی کی بات ہے کہ یہ اخبارات صدر زرداری کے بارے میں بدعنوانی میں ملوث ہونے اور کسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہونے سے متعلق خبریں شائع کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر یہ خبریں غلط ہیں تو ان کی موثر تردید کی جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد