امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سینیٹ میں قائد ایوان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل رضا ربانی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت پاکستان کی سرحدی خلاف ورزیوں کے معاملے میں امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ رہی ہے اور اسی بنا پر امریکہ پاکستان میں تین ستمبر کے بعد زمینی کارروائی سے گریزاں ہے۔ سینیٹ کے اجلاس میں جماعت اسلامی کے رکن پروفیسر خورشید احمد کی جانب سے پاکستان پر امریکی میزائل حملوں کا معاملہ اٹھائے جانے پر رضا ربانی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کئی سال سے جاری جنگ کے دوران پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پاکستان نے امریکی کارروائیوں پر اتنا سخت اور واضح موقف اختیار کیا ہے۔ رضا ربانی کا دعوٰی تھا کہ یہ انکی حکومت کا سخت گیر احتجاج ہی تھا جس کے بعد سے امریکہ نے پاکستان کے اندر زمینی کارروائی سے اجتناب برتا ہے۔ تاہم انہوں نے نام لیے بغیر سابق حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین کے لیے طنزیہ انداز گفتگو اختیار کرتے ہوئے کہا ’ضروری نہیں کہ ہر مرتبہ کڑاکے ہی نکالے جائیں، کبھی گُھجی مار بھی کام دکھا دیتی ہے‘۔ انہوں نے بعض امریکی اور برطانوی اخبارات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اس غیر معمولی ردعمل کا تذکرہ غیر ملکی اخبارات نے بھی کیا ہے اور تین ستمبر کے بعد حکومت پاکستان کی حکمت عملی کو حیران کن اور غصہ سے بھرپور قرار دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ وہ زمینی حملے کے بارے میں حکومت کے احتجاج کو سراہتے ہیں جو واقعی خاصا موثر ثابت ہوا۔
اس سے پہلے صدر مملکت آصف علی زرداری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے پروفیسر خورشید نے کہا کہ صدر زرداری نے اپنے خطاب میں جو لب و لہجہ اختیار کیا وہ پارلیمانی جمہوری روایات کے منافی ہے۔ پروفیسر خورشید کے بقول صدر زرداری کا یہ کہنا کہ ’میں ملک کو اندھیروں سے نکالوں گا اور اس میں حکومت میری مدد کرے گی‘ ایک پارلیمانی نہیں بلکہ صدارتی نظام حکومت کی عکاسی کرتا ہے۔ سینیٹر خورشیدنے کہا کہ صدر زرداری اور حکومت کو صدر اور پارلیمان کے اختیارات کے بارے میں کسی غلط فہمی یا ابہام کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے بعض غیر ملکی اخبارات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بہت دکھ اور شرمندگی کی بات ہے کہ یہ اخبارات صدر زرداری کے بارے میں بدعنوانی میں ملوث ہونے اور کسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہونے سے متعلق خبریں شائع کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر یہ خبریں غلط ہیں تو ان کی موثر تردید کی جائے۔ | اسی بارے میں وزیرستان میزائل حملہ: 8 ہلاک23 October, 2008 | پاکستان شمالی وزیرستان میزائل حملہ: 8 ہلاک، 6 زخمی23 October, 2008 | پاکستان وزیرستان:میزائل حملہ، پانچ ہلاک16 October, 2008 | پاکستان امریکی میزائل حملہ،پانچ ہلاک09 October, 2008 | پاکستان امریکی میزائل حملوں میں پندرہ ہلاک03 October, 2008 | پاکستان جنوبی وزیرستان: تازہ میزائل حملہ17 September, 2008 | پاکستان میزائل حملے میں چار افراد ہلاک30 August, 2008 | پاکستان وانا میں ’میزائل حملہ‘ چھ ہلاک20 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||