BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 October, 2008, 10:36 GMT 15:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان میزائل حملہ: 8 ہلاک

فائل فوٹو
وزیرستان میں پہلی بھی میزائل حملے ہوئے ہیں جن میں کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک مدرسے پر مبینہ امریکی میزائل حملے میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے ہیں۔

یہ مبینہ امریکی حملہ جس میں کم از کم دو میزائل داغے گئے ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستانی پارلیمان نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک متفقہ قرار داد میں کہا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری کے دفاع اور قوم بیرونی جارحیت کے خلاف یکجا ہے۔

شمالی وزیرستان میں مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب تقریباً ایک بجے مبینہ طور پر سرحد پار سے دو میزائل داغے گئے۔

مقامی لوگوں کے بقول میزائل میرانشاہ سے چند کلومیٹر دور ڈنڈہ درپہ خیل میں واقع ایک دینی مدرسے ’سراج العلوم’ پر گرے ہیں جس سے ان کے مطابق کم سے کم سات طالبعلم ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوگئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مرنے والے تمام افراد مقامی بتائے جارہے ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ مدرسے کا آدھا حصہ تباہ ہوگیا ہے۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ مرنے والوں میں کوئی غیر ملکی بھی شامل ہے یا نہیں۔

اس سلسلے میں جب پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نےکہا کہ’ وہ اس بارے میں معلومات اکھٹے کررہے ہیں‘۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حملہ امریکہ کو مطلوب اہم طالبان رہنماء مولانا جلال الدین حقانی کے مدرسے اور گھر کے قریب واقع ایک مدرسے پر ہوا ہے تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مدرسہ کن کا ہے۔

اس سے قبل ستمبر میں جلا ل الدین حقانی کے گھر کو مبینہ طور پر میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں خواتین سمیت دس سے زائد افراد ہلاک و زخمی ہوئے تھے۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان میں رواں مہینے کے دوران افغانستان سے مبینہ طور پر کئی امریکی میزائل حملے ہوئے ہیں جن میں اسی کے قریب لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ سرحد پار سے یہ حملہ پاکستانی پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی اس چودہ نکاتی قرار داد کی متفقہ منظوری کے چند گھنٹوں بعد ہوا ہے جس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کی خودمختاری کا دفاع کیا جائے گا اور حکومت اس ضمن میں مؤثر اقدام کرے۔

قرارداد میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی سرزمین سے کسی اور ملک میں دہشت گردی نہیں کرنے دی جائے گی۔ اور غیر ملکی جنگجوؤں کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری بھی اس سے پہلے اس عزم کا اعادہ کر چکے ہیں کہ وہ ملک کی سرحدوں کی خلاف ورزی کسی صورت میں برداشت نہیں کریں گے۔

وزیرستان صورتحال
علاقے میں غیرملکیوں کی موجودگی حقیقت ہے۔
طالبان سے بات چیت
مذاکرات سے مسائل حل ہوتے نظر نہیں آ رہے
گائیڈڈ میزائل حملہگائیڈڈ میزائل حملے
قبائلی علاقوں میں گائیڈڈ میزائل حملوں میں اضافہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد